کراچی میں پانی اور کچرا:ماہرین کیا کہتے ہیں؟

177

کراچی میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو سڑکوں پر جو سماں بنتا ہے، اس کے مناظر ہم ٹی وی پر اکثر دیکھتے ہیں۔ جب بارشیں نہیں ہوتیں ، تو جا بجا کچرے کے ڈھیر، اور پینے کے پانی کی کمی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والے نے پوچھا کہ کراچی کا کیا بنے گا؟ اس کے مسئلے کون حل کرے گا؟ تو اس کا حل جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے حالات پیدا ہی کیوں ہوئے؟ اس بارے میں انگلیاں چاروں طرف اٹھتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کراچی کو اس حالت پر پہنچانے والے بہت سے عوامل تھے، کسی ایک شخصیت یا ادارے کو ہی ملزم نہیںٹہرا سکتے۔
اگر کراچی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ انگریز وں نے زمین دوز نالیاں ، گندے پانی کے اخراج کے لیے اور کھلے ، بڑے نالے بارش کے پانی کے نکاس کے لیے بنوائے تھے۔ اور کچرا اُٹھانے کا علیحدہ انتظام تھا۔ پینے کے پانی کے لیے زمین دوز پائپ تھے جو نلکوں کے ذریعے ہر گھر میں صاف پانی پہنچاتے تھے۔پھر اللہ کی مہربانی سے پاکستان بن گیا، لیکن اس کی پیدائش جن حالات میں ہوئی، وہ معاشی اعتبار سے نا گفتہ بہ تھے۔ پاکستان کے خزانے میں اتنے پیسے نہیں تھے کو دفاتر کو معمولی قلم بھی مہیا نہیں کی جا سکتی تھیں۔ اگر پاکستان کی حکومت کو نظام حیدر آباد اور امیر بھاولپور امداد نہ دیتے تو پاکستان کا نظام شروع ہی سے ٹھپ ہو جاتا۔قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری سال میں پاکستان کی بقا کے لیے کچھ بنیادی کام کردیئے تو ریاست لشتم پشتم اپنے قدموں پر کھڑی ہو نا شروع ہو گئی۔ بعد میں امریکہ نے امداد دی جس سے کچھ ترقیاتی کام ہونے لگ پڑے۔ہمارے دیسی افسروں نے بھی قابل ستائش کام کیا اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے ڈھانچہ میں جان ڈال دی۔ وہ سب کچھ ہوا، لیکن اس غربت اور آپا دھاپی کے عالم میں، ملک کی ترجیحات خوراک بڑھانے پر مذکور تھیں۔ اور دفاع پر بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ ہونا شروع ہو گیا۔ملک کو چلانے کے لیے دنیا کے بینکوں سے قرضے لیے گئے۔ لیکن ایک طرف تو پاکستان کے قیام نے تجارت پیشہ کو منافع کمانے کے لا تعداد مواقع دے دئیے، جس سے عوام کو ضروری اشیاء ملنی شروع ہو گئیں، لیکن دوسری طرف ملک کو رشوت کا گھُن بھی لگ گیا ، جس نے پاکستان کی ترقی کی رفتار کو بڑھنے سے تقریباًروک دیا۔یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن عوام اس سے واقف ہیں، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ آمدم بر سر مطلب، پینے کے پانی ، کچرا ٹھانے کا نظام اور گندے پانی کے اخراج کا نظام ، شروع میں تو میونسپلٹی کسی نہ کسی طرح چلاتی رہی۔ لیکن جلد ہی معاملہ اس کی اہلیت سے باہر ہونا شروع ہو گیا ، اس لیے کہ کراچی میں کاروبار کی ترقی نے ملک بھر سے کام کے متلاشیوں کو ایک مقناطیس کی طرح کھینچنا شروع کر دیا، اور مقامی آبادیوں نے بھی بچے بنانے کی رفتار کم نہیں کی۔ ان دونوں کی وجہ سے آبادی تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئی۔ نقل مکانی کرنے والوں نے کچی آبادیاں بنا لیں جہاں نہ پینے کا پانی تھا، نہ بجلی، نہ ٹوائلٹ اور نہ ہی گندے پانی کے اخراج کا انتظام۔ اور شہر سے باہر ان آبادیوں کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی۔
کچرااُٹھانے والوں کو میونسپلٹی نے اتنے ڈرم یا بڑے کنٹینرز یا مہیا ہی نہیں کیے یا ان میں سے کچرا اُٹھانے کا مناسب انتظام نہیں کر سکے۔ شہریوں نے کچرا ان نالوں میں پھینکنا شروع کر دیا جو بارش کے پانی کے اخراج کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں اگر زیر زمین نالوں کا کہیں ڈھکن نظر نہیں آیا تو اس میں بھی کچرا ڈالنا شروع کر دیا۔ ان حرکات کے نتیجے میں نالے بند ہو گئے اوربارش کا پانی سڑکوں پر ہی کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ آبادی تسلسل سے بڑھ رہی تھی ، حکومتی وسائل اس کے مطابق نہیں بڑھے۔ بھتہ خوروں کی وجہ سے حکومت کو ٹیکس نہیں ملے، تو آمدنی میں خلا پیدا ہونا شروع ہو گیا۔اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حکومت کے مسائل کو آبادی کے بڑھتے ہوئے سیلاب نے بد سے بد تر بنا دیا اور عوام نے بھی نہیں سوچا کہ جب وہ کچرے سے نالے بھر دیں گے تو بارش اورفضلے کا پانی کہاں جائے گا؟ جب نالے اور نالیاں کچرے سے بھرگئے تو انہوں نے سڑک کے کناروں پر ڈھیر لگانے شروع کر دیے۔ کچرہ کو کہیں تو پھینکنا ہوتا ہے۔یہ مسئلہ دنیا کے اکثر بڑے شہروں کا ہے۔ جہاں کرپشن نہیں وہاں بھی حکومتی ترجیحات کی وجہ سے حفظان صحت کی ضرویات پر ضروری وسائل نہیں دیے جاتے۔ راقم کا مشورہ ہے کہ دنیا کے بہترین ماہرین کے مشوروں کو غور سے پڑھیں، آپ کو پسند آئیں یا نہیں، بالآخر یہی کرنا پڑے گا۔
امریکہ کے ایک معتبر ادارے ’’نیشنل ریسرچ کونسل ‘‘ نے ترقی پذیر دنیا کے بڑے شہروں کے مسائل پراپنے ماہرین کے رائے مانگی۔ ان کا اتفاق تھا کہ پانی اور سینی ٹیشن سروسز ( sanitation services) ان شہروں کے اہم ترین توجہ طلب مسائل ہیں کیونکہ ان شہروں میں آبادی کے بڑھنے سے جو ضروریات پیدا ہوتی ہیں ان پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی۔اب پینے کے پانی کو ہی دیکھ لیں کہ حکومتیں اپنے خرچ پر پانی مہیا کرتی ہیں اور اس بات پر دھیان نہیں دیتیں کہ صارفین کو بھی اس سروس کے اخراجات کا بوجھ اٹھانا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پانی کی جتنی ضرورت ہوتی ہے سرکاری ذرائع اتنی مانگ پوری نہیں کر سکتے۔ اور یہی صورت گندے پانی کے اخراج کی ہے، جسکو صاف کرنے کے بعد ندی نالوں ، دریائوں یا سمندر میں ڈالا جائے۔اور اس کام میں جو آلات اور مشینری استعمال ہوتی ہے اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے فنڈ ہوں۔ غرباء کی بستیوں میں تو یہ سروسز سرے سے ہی نہیں ہوتیں۔خصوصاً انسانی فضلہ کے اخراج کے ذرائع اورحفظان صحت کی سہولتیں ناکافی ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ لوگ بھی صفائی کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے۔پانی بھی اکثر ناکافی ہوتا ہے، یا گندا ہوتا ہے، اور اس کا حصول مشکل۔اکثر بڑے شہروں میں گندے پانی کو صاف نہیں کیا جاتا اور ویسے ہی بہا دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ندی نالے اور دریا غلاظت سے اَٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی آبادیوں میں بیماریاں پھیلتی ہیں، خصوصاً نو زائیدہ اور بڑے بچوں کی ہلاکت کا باعث۔
امریکی ماہرین کے گروہ نے ان مسائل کے حل کے لیے پانچ تجاویز دیں جن پر قومی اور مقامی حکومتوں، ماہرین، امداد دینے والے اداروں۔ سائینسدانوں، ٹیکنو کریٹس، پانی مہیا کرنے والوں، اور گندے پانی کے اخراج پر کام کرنے والوں اور قائدین کو توجہ دینی چاہیے۔
۱۔ بہتر سینیٹیشن (sanitation): پانی اور سینیٹیشن کے ماہرین کو چاہیے کہ وہ سینیٹیشن کو وسیع پیمانے پر دیکھیں تا کہ متعدی بیماریوں کے پھیلائوکو مختلف اور کثیر التعداد ذرائع سے بچا یاجا سکے۔ حفظان صحت کی بہتری کے لیے آب رسانی، اورگندے پانی کا مناسب اخراج ضروری ہیں لیکن کافی نہیں۔بیماریوں سے بچائو اور صحت مند ماحول کے دیر پا اور قابل اعتماد قیام کے لیے، آب رسانی اور گندے پانی کے اخراج کے انتظام کو علاقہ، ماحول ، صحت اورغذائیت کے پروگراموں سے پوری طرح مربوط ہونا چاہیے۔ بجائے ہر پروگرام کے علیحدہ علیحدہ اغراض و مقاصد، کار کردگی اور میڈیا کا استعمال،کرنے کے ایک جامعہ اور مربوط پروگرام جومقصد اعلیٰ پر نظر رکھے، بنانا چاہیے، اور جو بھی طریقے اختیار کیے جائیں وہ کم خرچ بالا نشین کے اصول پر بنائیں۔ اس مربوط نظام کو تبھی کامیاب بنایا جا سکتا ہے کہ اس کی راہ میں اور غیر معمولی راستوں کے انتخاب میں ادارے رکاوٹ نہ بنیں۔
۲: ہما شرکتی منصوبہ بندی: شہروں کے ان علاقوں میں جہاں پینے کے پانی کی کمی ہو اور نالوں کے پانی کے نکاس کا انتظام نہ ہو یا نا مناسب ہو، ان کو ترجیحی بنیادوں پر خدمات پہنچانے کے لیے جو ادارے ذمہ وار ہیں خواہ میونسپلٹی کے یا صوبائی حکومتوں کے، یا بیرونی امداد کے ادارے، ان سب کو ملکرکوشش کرنی چاہیے کہ بتدریج نظام بہتر ہو۔اس کو حاصل کرنے کے لیے، علاقہ کے مکینوں کی اہلیت کے مد نظر، اور ان کو آگاہی دیکراور اُن سے ملکر منصوبہ بندی کی جائے۔ ایسے منصوبے تب ہی کامیاب ہونگے جب وہ علاقہ کے مکینوں کی توقعات پر پورا اتریں گے، اور ان کی مدد سے، ان کی اہلیت کے مطابق، سسٹم کو چلائیں اور اس کو بہتر کریں اور دیکھ بھال کرسکیں، اور اس کے علاوہ وہ اس کے اخراجات کو برداشت کرنے کی حامی بھی بھریں۔
۳: مالی وسائل: پینے کے صاف پانی اور فضلہ والے پانی کے محفوظ نکاس کے لیے، سب لوگ،حتیٰ کہ غریب لوگ بھی ایک مناسب فیس دینے کے لیے تیار ہونگے۔اس کا مطلب ہے کہ صاف پانی اور گندے پانی کے نکاس کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ مالی لحاظ سے مستحکم اور خود کفیل نظام بنائیں، جس میں صارفین کو بل دینے اور رقوم وصول کرنے کے طریق کار وضع کیے گئے ہوں۔اور آمدن اتنی ہو کہ سسٹم کو برقرار رکھا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر پھیلایا بھی جا سکے۔
۴۔ ٹیکنا لوجی کا استعمال: ٹیکنالوجی کا استعمال اس بنیاد پر ہو کہ ایک صحت مندماحول کو بر قرارر کھا جائے۔ مقامی طور پر نئی ٹیکنالوجی کے بنانے اور خدمات پہنچانے میں نجی شعبہ بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔لیکن نجی شعبہ کو سروسز دینے میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہو گا کہ مارکیٹ میں صحیح قسم کے محرکا ت ہوں، حکومت کی پالیسیز ٹھیک ہوں، اور ایسے قوائد اور قوانین ہوںجو آسانی سے لاگو کیے جا سکیں۔ اور آخر میں،
۵۔ پانی کا تحفظ اور دوبارہ استعمال: یہ بہت بڑے شہروں کی فطرت ہے کہ انہیں پانی کی بڑی مقدار چاہیے ہوتی ہے، اور چھوٹے شہروں اور قصبوں کی نسبت انہیں پانی حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے پانی کے ایک موثر انتظام کے لیے ایک ہمہ جہتی راستہ اختیا ر کرنا ہوگا، جس میں پانی کی مقدار، اس کی کوالٹی، اور پورے علاقہ میں جہا ںجہاںوہ استعمال ہوتا ہے، اور اس کا ذخیرہ ہو۔تمام بڑے شہروں کا فرض ہے کہ وہ پانی کے ذخیروں کا خاص دھیان رکھیں اور ذخیرہ کرنے کو اولین ترجیح دیں اور پانی کی اصل قیمت کا مظہر پانی کے بل اور میٹر وں سے آشکار ہوں۔پانی کو صحیح طریقہ سے صاف کرنے، میو نسپلٹی کے گندے پانی کے اخراج کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر یا ایسی جگہ استعمال کر کے جہاں پینے والے پانی کی ضرورت نہیں (جیسے سڑکوں پر چھڑکائو، باغات کو پانی دینا، گاڑیاں دھونا وغیرہ) یہ سارا منصوبہ پانی کے کم خرچ ذخیرے بنانے میں ممد و معاون ہو سکتا ہے۔