عمران خان نے ہر چندہ دینے والے کو اپنا ووٹر سمجھ لیا!

230

پاکستان میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال پر موجودہ حکمران ٹولہ ہلکان ہو چکا ہے جو ہر حالت میں ایسی مشینوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ ایک اور دھاندلی برپا کیا جائے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ووٹنگ مشین دنیا بھر کی جمہوری ریاستوں میں نہیں استعمال کی جارہی ہے مگر ای وی ایم نامی مشین پاکستان جیسے ملک میں کرنے جارہے ہیں یہاں اکثریتی آبادی انگوٹھا چھاپ، انگلش جاننا نہ ہونے کے برابر ،دیہی علاقوں میں تعلیم کی محرومی اور شہری علاقوں میں ناقص تعلیم کا نفاذ ہے جس میں خواتین کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ایسے میں پاکستان میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال ماسوائے دھاندلی ،فراڈ اور دھوکہ دہی کے مترادف نہیں ہے۔ دراصل پاکستان میں دھاندلی ایک مقدر بن چکا ہے۔ تین سال پہلے 25جولائی 2018ء کو رات بارہ بجے کے بعد ووٹوں کی گنتی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ ناقابل بیان بن چکا ہے کہ جس میں کمپیوٹربند، گنتی کے کمرے بند، الیکشن کمیشن عملہ بند، امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ باہر، وووٹوں کی گنتی بند، امیدواروں کو راتوں رات بدل دیا گیا جس میں کامیاب ناکام اور ہارنے والے کامیاب قرار دئیے گئے جس کے بارے میں آج تک کوئی الیکشن ٹربیونل، عدالت یا تحقیقاتی ادارہ سامنے نہیں آیا ہے جو بتا پائے الیکشن میں کیا ہوا تھا۔ حزب اختلاف آج تک روتی رہی کہ دھاندلی کی تحقیقات کروائی جائے۔ اب پھر اسی ناکام اور نااہل ٹولے کو دوبارہ مسلط کرنے کے لئے ووٹنگ مشینوں کا سہارا لیا جارہا ہے۔ چاہے پاکستان اور عوام جائے بھاڑ میں تاہم عمران خان نے اپنے بیانوں سے پاکستان کی بجائے اوورسیز پاکستانیوں کواپنا ووٹر قرار دیا ہے جو کبھی عمران خان کو ہسپتال کے لئے چندہ، صدقہ، فطرانہ اور زکوۃ دیا کرتے تھے جن کو انہوں نے ہر چندہ دینے والے کو اپنا ووٹر سمجھ لیا ہے جو کہ نہایت احمقانہ اور بیوقفانہ سوچ ہے کہ پاکستان سے ایک مایوس کن شخص جو اب پاکستان سے باہر کام کرنے والے یا مقیم پاکستانیوں کو اپنا ووٹر قراردے رہا ہے پہلے تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بقول ان کے دنیا بھر میں 80لاکھ پاکستانی آباد ہیں جن میں تقریباً آدھے مشرق وسطیٰ میں کام کررہے ہیں یہاں ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں کوئی بھی شخص یا گروہ یا پارٹی جلسہ و جلوس یا سیاسی اجتماع نہیں کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی قسم کے انتخابی مہم کی بھی اجازت نہیں دے گا۔ دوم یورپ میں آباد پاکستانی نژادوں کو دوہری شہریت کی سہولت میسر نہیں ہے جو صرف اور صرف یورپین ممالک کی شہریت اختیار کر کے پاکستانی شہریت سے محروم ہو جاتے ہیں سوم وہ ممالک کینیڈا،برطانیہ ،امریکہ یہاں دوہری شہریت اختیار کرنے کی سہولت حاصل ہے ان کی تعداد چند لاکھ میں ہے جو دور دراز علاقوں میں آباد ہیں جن کو اپنے اپنے ممالک یا دوسرے ممالک میں ووٹنگ فراڈ یا دھاندلی کرنے کی سخت ممانعت ہو گی۔ فرض کریں اگرپاکستان میں الیکشن میں نیویارک جیسے اکثریتی پاکستانی تارکین وطن ووٹ ڈالتے ہیں جو فراڈ یا دھاندلی کا مرتکب ہو جاتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ نیویارک میں بنے گا جس کو امریکی حکومت برداشت نہیں کرے گی لہٰذااس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان سوشل میڈیا کی طرح اپنے نامزد دھوکہ بازوں کے ذریعے ووٹ ڈلوا کر نیویارک یا دوسرے علاقوں سے ووٹوں کی تعداد بتا کر اپنے جیتنے کا اعلان کر دے گا جس کی دنیا بھر میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔
اس لیے ووٹنگ مشین ایک کھلونا ہے جو فراڈ کے لئے استعمال کی جائے گی تاکہ پاکستان کو دنیا بھر میں ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ بہرکیف اورسیز پاکستانیوں کے بارے میں عمران خان کا دماغی خلل کہ اوورسیز میں تمام پاکستانی نژاد میرے ووٹرز ہیں جو ایک کند ذہن کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو ایک خدا ترس کمیونٹی ہے جس نے ہمیشہ پاکستان میں طوفانوں، زلزلوں، بارشوں یا ہسپتالوں کو چندہ دیا ہے جنہوں نے عمران خان کی التجائوں ،منتوں ،سماجتوں پر اپنے دل کھول کر ہسپتال کو چندے، صدقے، فطرانے اور زکوۃ دی ہے جس کا ہر گز مطلب نہیں ہے کہ وہ عمران خان کا ووٹرز ہیں اگر ووٹرز ہوتے تو وہ عبدالستار ایدھی کو سب سے زیادہ چندہ دینے پر انہیں ایک بار انتخاب میں ووٹ دیتے جو انہوں نے نہیں دیا تھا اس لیے وہ آج مختلف چندہ مانگنے والوں کو چندہ دیتے ہیں لیکن ووٹ اپنی مرضی اور سوچ کے مطابق دیتے ہیں۔ رہا مسئلہ کہ عمران خان کا بطور وزیراعظم خوش آمدی پر دس ہزار لوگ تشریف لائے تھے جن کی اتنی تعداد نہ تھی۔ دوسرا خوش آمدید کرنے والوں میں بھی وہ ان کے ووٹرز نہ تھے تیسرا ایک مخصوص کمیونٹی نے یہ سب بندوبست کیا تھا جو آئین میں اقلیت قرار دینے والی ترمیم ہٹانا چاہتی تھی جو اب تک نہ ہو پایا حالانکہ عمران خان کا واشنگٹن ڈی سی کی خوش آمدید سے پہلے سابقہ چیف جسٹس افتخار چودھری، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطنوں نے خوش آمدید کیا تھا جو ان کے بھی ووٹرز نہ تھے۔ اس لئے چندہ دینے والوں کو اپنا ووٹرز قرار دینا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے جس کا دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے کہ ایک شخص اپنی غلط فہمیوں کا شکار ہو کر پاکستان کی بجائے غیر ملکی دنیا میں اپنی ہر دلعزیزی ڈھونڈ رہا ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش ہے کہ وہ جس ملک کو مختلف مسائل کی وجہ سے چھوڑ کر آئے تھے وہ بیرون ملک میں بھی درپیش آئیں۔ بحرحال ووٹنگ مشین ایک دھوکہ اور فراڈ ہے جس سے ملک کے عوام کے ووٹ چرانے کے لئے استعمال کیا جائے گا تاکہ پاکستانی عوام اپنے اصلی نمائندگان سے محروم رہیں جو ان کے مسائل حل نہ کرا پائیں حالانکہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کی ہر موقع پر مدد کررہے ہیں جو ہر سال 30بلین ڈالر زرمبادلہ بھجواتے ہیں جس کے عوض انہیں اب تک رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے جن کے لئے ان کی پاکستان آمد پر گرین لائٹس ختم کر کے ریڈ لائٹس کھول رکھی ہیں جس پر پاکستانی اہلکارکتوں اور بھیڑیوں کی طرح چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس لیے آج تک ہر حکمران بشمول پاکستانیوں کے ہر دلعزیز عمران خان نے کچھ نہیں کیا ہے جو ملک کے نام پر ان کے جذبات سے کھیلتے نظر آتے ہیں جن کے چندوں، صدقوں اور زکاتوں سے ان کا پورا خاندان پل رہا ہے جو اب ارب پتی بن چکا ہے جس پر آج تک کوئی تحقیقات نہ ہو پائی ہے حالانکہ عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس موخر ہو کر رہ گیا جس میں ان کی پی ٹی آئی کے بنیادی رکن بابر اویس نے مقدمہ درج کررکھا ہے کہ خان صاحب غیر ملکی شہریوں اور کارپوریشنوں سے تین ملین ڈالر چندہ لے کر ہڑپ کر چکا ہے جو پاکستان کے الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق کرائم ہے مگر اس پر چھ سال سے کوئی عدالت سماعت نہیں کررہی ہے لہٰذا اوورسیز پاکستانیوں کے خلوص کو مت تولو کہ وہ ایک دن ملک پر ترس کھانا بند کر دیں۔