عمر شریف خداداد صلاحیتوں کا ایک سنہرا باب ، ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا، اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

205

عمر شریف ایک ایسا ہمہ جہت فنکار تھا جس کے ہر ایک پہلو پر بات چیت کرنے کیلئے بے شمار صفحات چاہیے ہوں گے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے وہ لوگ جو اردو بولتے،سنتے اور سمجھتے ہیں اس وقت ایک صدمے کا شکار ہیں۔ گوکہ پچھلے چند ہفتوں سے عمر شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ان کے پرستار پریشان تھے مگر ان کے علاج کے لیے امریکی منتقلی کے اقدامات سے وہ کافی پرامید اور بے فکر ہو گئے تھے کہ اب وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے ۔اس سلسلے میں وفاقی اور سندھ حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی اور زندہ قومیں اسی طرح سے اپنے ہیروز اور اثاثوں کی قدر کرتی ہیں۔ عمر شریف کیساتھ یوں تو ساری دنیا کا تعلق شوبز کے حوالے سے ہے مگر ہمارا ان سے ایک ذرا ذاتی نوعیت کا بھی تعلق تھا۔ ریڈیو ینگ ترنگ کے حوالے سے جب ہماری بیس سال قبل ان سے ہمارے دوست ظفر موسیٰ کے ذریعے ملاقات ہوئی تو یوں لگا کہ ہم دونوں کی ویولینتھ میں ایک مشترکہ چیز ہے وہ ہر بات میں پاکستان کا پرچار اور فوقیت دینا ہے۔ ہم نے اپنے ریڈیو شو ’’ینگ ترنگ‘‘ میں ہمیشہ پاکستان کو ،پاکستان کی ثقافت کو، پاکستان کی سیاست کو اور پاکستان کے فنکاروں کو اجاگر کیا اور عمر شریف کو یہ بات بہت پسندآئی۔ پھر وہ جب جب ہیوسٹن آئے تو ہم سارے دوست ظفر موسیٰ، شمیم سید، تحسین جاوید، فاروق روبی وغیرہ اکٹھے ہو جاتے تھے اور ہنسی مذاق کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ایک دن وہ جب ہمارے گھر آئے تو کہنے لگے کہ میں اپنا پہلا ریڈیو انٹرویو تمہارے ہاں ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں۔ وہ انٹرویو ہم نے دو ہفتے پہلے ہی ’’ینگ ترنگ‘‘ پر پیش کیا تھا اور اس کا آغاز ہی عمر شریف نے ان فقروں کے ساتھ کیا کہ میں سلیم سید کی پاکستان کے ساتھ بے لوث محبت سے متاثر ہو کر اسے یہ اعزاز دینا چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی کا پہلا ریڈیو انٹرویو اس کیلئے ریکارڈ کروائوں۔ میں نے عمر شریف سے کہا کہ میری ہمت نہیں کہ میں آپ کا انٹرویو کروں۔ یہ رہا مائیکرو فون اور آپ جو کچھ کہنا چاہیں کہیے۔ پھر تو گویا عمر شریف نے اپنے اس ایک گھنٹے کے انٹرویو میں اپنی زندگی کی کتاب کو کھول کر رکھ دیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کے انٹرویو کو چند گھسے پٹے سوالوں تک محدود کردوں حالانکہ وہ انٹرویو تقریباً بیس سال پہلے 1999ء کے دسمبر کے مہینے میں ریکارڈ ہوا تھا مگر اس میں کہی گئی ان کی باتوں سے یوں اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے وہ آج کل کے تناظرمیں کہی گئیں ہوں۔ انہوں نے عمر شریف فین کلب قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا اس انٹرویو میں۔ اس فین کلب کی طرف سے ہمارے لیے اور ہماری اہلیہ زارا سید کے لئے انفرادی طور پر ایوارڈ دئیے گئے تھے۔ ایک شو سے پہلے ان کو ایک اور پروموٹر فرحت شہزاد نے عمر شریف کو عین شو سے پہلے کچھ قانونی کاغذات وصول کرائے۔ اس مرحلے پر ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لوگ بے چینی کیساتھ عمر شریف کا انتظار کررہے تھے، ہال کے اوقات کا معاملہ بھی سرفہرست تھا۔ عمر شریف جب وہ لیگل لیٹر وصول کرنے میں مصرف تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں شو کی کمپیئرنگ کرتے ہوئے آغاز کردوں۔ دوسرے دن انہوں نے ہماری اس کوشش کا اعتراف ریڈیو سٹیشن پر آ کر بھی کیا۔ اسی طرح ایک اور شو کے وقت ٹھیک اسی دن اور اسی ٹائم پر ہیوسٹن میں ایک اور پروموٹر نے دیکھا اورمعین اختر کے شو کا اعلان کر دیا۔ عمر شریف شو سے ایک دن پہلے سارے آرٹسٹوں کیساتھ ہمارے ریڈیو اسٹیشن پہنچ گئے اور ہم نے بھی ان کے اعتماد کو یقین میں بدلنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ عمر شریف نے پاکستانیات کے حوالے سے ایسی پروموش کی کہ ان کا شو ہائوس فل گیا بلکہ سیٹیں ختم ہو جانے کے باعث اہالیان ہیوسٹن دیواروں کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ریکھا جیسے بڑے نام کے شو کے مقابلے میں عمر شریف کا شو سپرہٹ گیا۔ عمر شریف کو میں ایک کامیڈین کہوں ، ایک فلمی اداکار کہوں، ایک لکھاری کہوں، ایک ہدایتکار کہوں، ایک گلوکار کہوں، ایک شاعر کہوں، ایک ٹی وی شومیزبان کہوں یا پھر ایک سچا پاکستانی فکار کہوں۔ ایک دفعہ ہم ریڈیو پر ادبی سیگمنٹ جاوید زیدی کیساتھ کررہے تھے کہ ایک کال آئی ہم نے آن ایئر لیا تو آواز آئی کہ میں بھی اپنی غزل سنانا چاہتا ہوں۔ ہم نے نام پوچھا تو آواز آئی کہ میں عمر شریف بول رہا ہوں۔ تو اس دن خوشگوار حیرت کے ساتھ انکشاف ہوا کہ وہ ایک بہت حساس شاعر ہیں۔ عمر شریف اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ایک ادارہ تھے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر ک ویران کر گیا!!