وہ جو عشق کرتے تھے!

187

ترک سلطان بایزید یلدرم اتنی طاقت حاصل کر لیتے ہیں کہ قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا جا سکتا اور قریب ہوتا کہ قسطنطنیہ فتح کر لیا جاتا کہ قدرت کی جانب سے ایک رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے اور اس کا سبب تیمور لنگ کا حملہ تھا۔ وسط ایشیا سے اْٹھنے والا تیمور لنگ نام کا مسلمان تھا، اس کی تلوار سے سب سے زیادہ لہو مسلمانوں کا بہا۔ 1398ء میں افغانستان سے ہوتا ہوا دہلی میں لوٹ مار کر کے واپس چلا گیا اور اگلے سال خراسان، بغداد اور دمشق کا راستہ اختیار کرتے ہوئے راستے کے تمام مسلمانوں کو لوٹ مار کرتا ہوا اپنے مرکز لوٹ گیا مگر اس سے اگلے سال اس کا نشانہ ترک حکومت بنی۔ تیمور لنگ کے حملے کی اطلاع ملتے ہی اس وقت کے جری سلطان بایزید یلدرم کو مجبوراً قسطنطنیہ کا محاصرہ چھوڑکر تیمور لنگ کے مقابلے کے لئے نکلنا پڑا۔ چونکہ طاقت میں ترک فوج تعداد میں کم تھی لہٰذا تیمور لنگ کے ہاتھوں شکست کھائی اور سلطان کو قید کر لیا گیا اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔ قسطنطنیہ کی فتح چونکہ ترک سلطنت کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی لہٰذا خداوند نے سلطان محمد کو اس اعزاز عظیم سے نوازا۔ سلطان محمد فاتح ایک غیر معمولی بحری پالیسی اپناتے ہوئے حیران کن معرکہ سر کرتے ہیں اور بالآخر قسطنطنیہ فتح کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس نصرت عظیم کے پس پشت سلطان فاتح کا وہ سچا خواب تھا جس میں انہوں صحابی رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو نوید دیتے ہوئے پایا۔ سلطان محمد فاتح کے بحری بیڑہ نے ایک حیران کن تاریخ رقم کر دی۔ سلطان محمد فاتح کے خواب کے پیچھے آقا محمد رسول اللہؐ کی بشارت ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ’’کیا عجیب ہو گا مسلمانوں کا وہ لشکر جو قسطنطنیہ (استنبول) فتح کرے گا اوراس فتح میں شامل لشکر کو جنت کی بشارت دی۔ حضورؐ کا یہ فرمان مسلمانوں کے لئے خوش نصیبی کی علامت بن گیا، یہاں تک کہ ایک لشکر میں شامل بزرگ صحابی حضرت ابو ایوب انصاری زخموں کی وجہ سے بیمار ہو گئے اور اسی حالت میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کی خواہش پر آپ کو شہر کی پناہ گاہ کے قریب ترین جا کر دفن کر دیا گیا۔ صحابی رسولؐ نے فتح کی یہ نوید سلطان محمد فاتح کو خواب میں دی جس نے سلطان فاتح کے عزم کو فولادی قوت بننے میں مدد دی۔ فتح عظیم کے بعد سلطان فاتحانہ انداز میں شہر میں داخل ہوئے، بعد میں تمام شہر کو امان دے دی۔ عیسائیوں کے تاریخی چرچ ’’آیا صوفیہ‘‘ کو مسجد کی شکل دے دی گئی اور عظیم سلطان نے اس میں سجدہ ٔ شکر ادا کیا۔ دوسرا اہم کام حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کی تلاش تھی۔ قبر مبارک پر ایک خوبصورت مقبرہ تعمیر کرایا گیا۔ قسطنطنیہ کا نام تبدیل کر کے اس کا نام ’’اسلام بول‘‘ رکھ دیا یعنی اسلام پھیلانے والی جگہ۔ اس فتح عظیم کے بعد عالم اقوام میں ترک حکومت ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت عثمانیہ کی حیثیت سے ابھری۔ اور یوں خلافت پہلی بار عربوں کے ہاتھ سے نکل بغداد کی ایک غیر عرب قوم یعنی ترکوں کو منتقل ہو گئی۔ اس عالیشان تاریخ کا سبب ترکوں کی نبی کریمؐ سے بے مثال محبت و عقیدت ہے۔ خلافت عثمانیہ کی فتوحات میں جب ارض حجاز شامل ہو ا تو ترک سلطنت نے اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کر دیئے۔ اس قدر ادب و احترام کے ساتھ مساجد حرمین کی تعمیر کرائی گئی کہ مقدس عمارتیں آج بھی ترکوں کے عشق و محبت کی داستان بیان کر رہی ہیں۔ مسجد نبویؐکی تعمیرنو اس قدر پیار سے کی گئی کہ اس مقدس خدمت میں دو نسلیں لگ گئیں۔ پوری دنیا سے مسلمان کاری گروں کو بلا کر مدینہ کے باہر آباد کیا گیا اور ان کو حکم دیا گیا کہ اپنا فن اپنے بچوں کو سکھائیںاور ساتھ ساتھ بچوں کو حافظ قرآن بھی بنائیں اور جب وہ بچے اپنا فن سیکھ گئے تو ان بچوں کو بھی مسجد نبویؐ کی تعمیر پر لگا دیا گیا تا کہ تعمیرکے دوران قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے اور ہتھوڑوں کے اوپر چمڑے لپیٹے گئے تاکہ ان کی آواز سے حضور پاکؐ کے دربار کی بے ادبی نہ ہو۔دور عثمانیہ میں تعمیر کی جانے والی مسجد نبویؐ اور حرم کعبہ سلطنت عثمانیہ کے عشق کی زندہ مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کی بشارت کا شرف ترک قوم کو عطا کیا اور اس کی وجہ ترکوں کی اسلام اور نبی کریمؐ سے عشق اور جنون تھا۔ —