بلیک میلنگ کیلئے ویڈیوزبنانابہت ضروری ہوگیاہے!

179

شایان علی لندن کا رہائشی ایک پاکستانی سولہ سالہ نوجوان ہے جس کے دل میں جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔قابل صد ستائش ہیں وہ والدین جنہوں نے دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کے دل میں اپنے وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ۔ اسی نوجوان کے د ل میں اپنے ملک کو اس طرح لوٹے جانے کا درد ہے غم ہے غصہ ہے۔ اس لوٹ مار کی وجہ سے یہ غریب ملک ڈوبتی معیشت کی زندہ تصویر بن گیا ہے۔ غریب مررہا ہے۔ دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے۔ اپنے بچوں کو دریا برد کررہا ہے چونکہ اس سے بھوک سے تڑپتے بلکتے بچے نہیں دیکھے جاتے۔ شایان علی نے ایک پٹیشن داخل کی ہے جس میں اس چور ٹبر کا پورا کچا چٹھا درج ہے۔ برٹش پرائم منسٹر بورس جانسن نے اس کا بغور مطالعہ کیا ہے اور شایان علی سے کہا ہے کہ وہ اس پر ضرورکارروائی کریں گے۔ شایان علی نے کہا ہے کہ ان چوروں کو برطانیہ میں پناہ نہ دی جاے بلکہ پاکستان معہ انکی لوٹی ہوئی دولت کو بھیجا جائے تاکہ سوکھے کھیتوں میں جان پڑے۔ میرے لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔ انکے محلوں کو مسمار کیا جائے اور سرکاری زمینوں پر انکے ناجائز قبضوں سے فارغ کرایا جائے۔
شایان علی اب شہروں شہروں گھوم کر پاکستانیوں سے اپنی پٹیشن کے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے انکے دستخط لیتا پھررہا ہے۔ اب تک 30ہزار لوگوں کے دستخط ہو چکے اس کا کہنا ہے کہ وہ پورے ایک لاکھ دستخط کروائے گا۔ اللہ اسے کامیاب کرے( آمین) اور وہ اپنے مشن کو لیکر آگے بڑھتا رہے۔ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی شایان علی کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ ان چوروں کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ یہ گیدڑ جو بڑا شیر بنتا تھا اپنی جعلی میڈیکل رپورٹوں کے بل بوتے پر اور اللہ سمجھے اسکے زرخرید ڈاکٹر عدنان کے فراڈ کی وجہ سے جیل سے تین ہفتے کی ضمانت پر علاج کی غرض سے لندن آیا تھا۔ بھائی پاکستان میں بھونکتا پھررہا ہے جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مکار کو واپس لائے گا۔ 50روپے کے سٹام پیپر پر ضمانت ہو گیء۔ وہ جواب چلا کہ تب چلا کی صدائوں میں تھا۔ بالکل موت کے دہانے پر قبر میں پیر لٹکا چکا تھاجہاز میں بیٹھتے ہی بھلا چنگا ہو گیا۔ پھر حکومت کو ہوش آیا کہ ’’دغا دینے والا دیکھو کیسے کیسے دغا دے گیا‘‘ بیٹی جو فریادیں کرتی پھررہی تھی کہ اسکے بائو جی کو ایک دن میں تین تین ہارٹ اٹیک ہورہے تھے اور وہ زندہ رہا۔
عمران خان کو تو یہ لٹا پٹا پاکستان ملا۔ بھوک سے تڑپتے انسان ملے۔ اس پر سے ستم بالائے ستم کووڈنے تمام کسر پوری کر دی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عمران خان ’’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘ پاکستان کی محبت میں اس نے اس ٹوٹے پھوٹے ،لٹے پٹے ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی لیکن اغیار چین سے نہ بیٹھے فتنے سراٹھاتے رہے۔ مولوی فضلو بھی اپنے اقتدار سے محروم ہو کر اپنی فورس لیکر ڈٹ گیا۔ اب وہ سراج الحق اسلام آباد کو رودنے کا دعویٰ کررہا ہے۔
زبیر عمر بڑھاپے میں بولا گئے ہیں ’’ وڑھے منہ بہاسے اور لوگ کریں تماشے‘‘ اپنے سفید سر اور مونچھوں کا بھی خیال نہیں کیا۔ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے پھرتے ہوئے اپنی بدنامی کا بھی کچھ خیال نہ کیا۔ کبھی لاہور میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔ ایک جنرل کی اولاد ہیں اور اسد عمر کے سگے بھائی ہیں۔ انہیں بالکل شرم حیا نہ آئی سب کو خیرباد کہہ دیا۔ اس معاشرے کو کیا جواب دیں گے۔ ایک یہ اپنے سیاہ کارناموں کے بعد عوام کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے نہ صرف اپنا بلکہ پورے خاندان کے منہ پر سیاہی مل دی ہے۔ ن لیگ کے کئی نمائندوں کے کارنامے سامنے آرہے ہیں او ر سیالکوٹی نون لیگ کو خیرباد کہنے پر کمربستہ ہیں بالکل اسی طرح جیسے پی پی اپنے کالے کرتوتوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
زرداری کے ڈالر گرل سے تعلقات، شیری رحمان اور دوسری کارکنان سے خفیہ ملاقاتیں اب کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ صاحبزادے کے بھی کئی کارنامے ہیں۔ جسکی لپیٹ میں شہلا رضا بھی آگئی ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اندرونی کہانی کیا ہے۔
اب ایک نئی کہانی سامنے آئی ہے۔ خورشید شاہ کو زرداری اور بلاول نے لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ مریم نواز ایسے تعلقات سے فائدے اٹھانا خوب جانتی ہیں۔ انہوں نے ماسی مصیبتاں (مریم اورنگ زیب) کو فوراً سکھر جیل روانہ کر دیا ہے وہ خورشید سکھر جیل میں خورشید شاہ جو اپنے آقائوں سے خاصے دل برداشتہ ہیں کچھ سن گن لینے گئی ہیں شاید کچھ ویڈیوز بھی بنا کر لائیں کیونکہ بلیک میل کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔