آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوتی ہے اتنی ریٹنگ آتی ہے، انور مقصود

236

لیجنڈری ڈراما ساز، مزاح نگار اور مصنف انور مقصود نے کہا ہے کہ حالیہ دور میں کئی ایسے ڈرامے ہیں، جنہیں وہ دیکھنا تک پسند نہیں کرتے، انہیں مذکورہ ڈراموں پر اعتراض ہے مگر کیا کریں کہ آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوگی، اس کی اتنی ہی زیادہ ریٹنگ آتی ہے۔

’وائس آف امریکا‘ (وی او اے) اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انور مقصود نے نہ صرف حالیہ دور کے ڈراموں پر بات کی بلکہ انہوں نے ماضی کے کئی رازوں کو بھی فاش کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے کئی مقبول ڈرامے اچانک کیوں بند کیے؟

انور مقصود نے بتایا کہ بہت سارے ڈرامے لکھنے کے باوجود آج تک انہوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی اور نہ ہی ان کا کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔

ان کے مطابق ان کے پاس مقدس کتاب ’قرآن مجید‘ دیوان غالب، کلیات میر اور علامہ اقبال کی کتاب موجود ہیں اور ان ہی کتابوں کی وجہ سے انہیں کبھی کتاب لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ البتہ انہیں کئی لوگوں نے تجاویز دی ہیں کہ وہ اپنے کچھ مشہور ڈراموں کو ایک ساتھ جمع کرکے ان کی کتاب لا سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ ایسا کریں مگر نئی کتاب نہیں لکھیں گے۔