اقوام متحدہ میں تقریر!!

258

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہر سال ہوتا ہے اس اجلاس میں سکیورٹی کونسل کے ممالک جن کے پاس ویٹو پاورز ہے وہ اپنی اپنی پالیسیوں دے کر چلے جاتے ہیں، جنرل اسمبلی کے باقی عوام اراکین جو بھی کہتے ہیں وہ ساری باتیں COMPILEکی جاتی ہیں اور ان کا SCIENTIFICتجزیہ کیا جاتا ہے اور محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ اُبال کہاں کہاں سے ہے اور اس کے لئے اقوام متحدہ کیا کر سکتی ہے عالمی طاقتیں انہی تقاریر کی روشنی میں اپنے اپنے ملک کے تھنک ٹینک سے تجاویز مانگ لیتی ہیں اور ان کی روشنی میں وہ لائحہ عمل مرتب کرتی ہیں، تیسری دنیا کے وزرائے اعظم یا صدور عام طور پر نہ عالمی رائے تبدیل کرنے کے اہل ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ عالمی مسائل پر کوئی ایسی رائے دے سکتے ہیں جو عالمی سطح پر کوئی تبدیلی لا سکے، مگر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیسری دنیا کے لیڈر زیادہ تر ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے اپنے ملک میں ان کے قد میں اضافہ کر سکے، جس سے وہ حلقے خوش ہو سکیں، تیسری دنیا کا کوئی لیڈر ایسا نہیں جو سیاسی فطانت رکھتا ہو، مغرب کے ذہن کا مقابلہ کر سکے یا اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کا امین ہو، عمران کا شمار بھی ایسے ہی MEDIOCREوزرائے اعظم میں ہوتا ہے جو حادثاتی طور پر پاکستان کے وزیراعظم بن گئے ہیں، جو مقتدر اداروں کو SUITکرتے ہیں، وہ دنیا کے واحد وزیراعظم ہیں جن کی میز پر نہ کوئی فون ہے نہ قلم نہ دوات اور نہ ہی کوئی فائل ،وزیراعظم کی یہ بیچارگی قابل دید ہے مگر وہ خوش ہیں SHAKESPEARنے کہا تھا کہ کچھ لوگ بڑے پیدا ہوتے ہیں کچھ بڑے بنائے جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن پر بڑائی آ کر خود گر جاتی ہے عمران انہی لوگوں میں ہیں جن پر بڑائی آ کر گر گئی ہے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کو بتائے بغیر بڑائی اوڑھا دی گئی ہے، کبھی ایک جلال بابا بھی تھے ایک رکشہ ڈرائیور جن کو فیڈرل منسٹر بنا دیا گیا تھا مگر وہ کمشنر کراچی نقوی کی اجازت کے بغیر کہیں جا نہیں سکتے تھے۔ اقوام متحدہ میں عمران کی تقریر پہلی تقریر کی ترمیم شدہ شکل تھی مگر اس میں عمران کے پاس اقوام عالم سے مطالبات کے سوا کچھ اور تھا نہیں، سارے وہی نکات جن کا عالمی معاملات سے کوئی تعلق تھا ہی نہیں، اسلاموفوبیا، کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی حالت، اب ان کو کسی نے بتا دیا ہے کہ بھارت کو آر ایس ایس اور ہندتوا کے نام سے چڑایا جا سکتا ہے، بھارت کے رمیش مشرا نے لکھا ہے کہ کوئی شبہ نہیں کہ آر ایس ایس ایک انتہا پسندی کا شکار ہے اور دہشت کا نشان ہے مگر یہ پاکستان کے طالبان اور دینی حلقوں کی طرح ہی ہے پاکستانی فوج کو عوام کو سیدھا رکھنے کے لئے مولویوں کو استعمال کرتی ہے مودی نے پاکستانی فوج سے ہی یہ گر سیکھا ہے اور آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کو CONTAINکرنے کے لئے استعمال کی جاتی لہٰذا پاکستان کی آر ایس ایس پر تنقید بنتی نہیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں، اسلاموفوبیا کشمیر اور بھارت پاکستان کے مسائل تو ہیں نہیں، فوج ان سے فائدہ اٹھاتی اور یہ تاثر دیتی ہے کہ پاکستان دشمنوں میں گھرا ہوا ہے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، اسلام کو خطرہ ہے اور ساری دنیا اسلام سے نفرت کرتی ہے لہٰذا بھارت کو روکے رکھنے اور اسلام کی بقا کے لئے فوج بہت ضروری ہے پاکستان کی دو بڑی جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) فوج کے اس ایجنڈے سے اختلاف کرتی ہیں جو فوج کو پسند نہیں اس لئے ایک ایسے شخص کو لایا گیا ہے جو فوج کے اس ایجنڈے سے اتفاق کرے اور اس کام کے لئے عمران موزوں ترین ہیں۔
عمران نے اپنی تقریر میں افغانستان کا بھی ذکر کیا، طالبان نے جب کابل پر قبضہ کر لیا اشرف غنی بھاگ گئے تو ساری دنیا کی پریس کابل میں جمع ہو گئی، ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس کو بہت غور سے سنا گیا اور دنیا کو سمجھ آگئی کہ طالبان نہیں بدلے شرعی نظام پر اصرار کررہے ہیں اور دنیا کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے، چین اور روس کے بیانات سے کچھ الجھائو سا آنے لگا تھا مگر ان کو دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہے سو اب تک کسی نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا اس کا ادراک کئے بغیر اقوام متحدہ میں طالبان کی وکالت کرتے رہے ایسا لگتا تھا جیسے وہ افغانستان کے وزیراعطم ہوں اس کے بعد ہی یہ بھی کہا جانے لگا کہ پاکستان پر SANCTIONSلگ سکتی ہیں، آپ دنیا میں پہلے ہی تنہائی کا شکار ہیں سارے مغرب امریکہ کینیڈا وغیرہ آپ سے نالاں، وہ سمجھتے ہیں کہ عمران مغرب کے مسلمانوں کو اسلام کے نام مشتعل کرتے ہیں اور مسلمان ان کے ملکوں میں بے چینی پھیلاتے ہیں، کبھی اسلاموفوبیا، کبھی حجاب، حد یہ وہ پاکستان میں ریپ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مختصر لباس سے جوڑتے ہیں اور وہ ریپ کے واقعات کو روکنے پر قادر نہیں ، جو مطالبات مغرب کے حوالے سے افغانستان سے ہیں پاکستان انسانی حقوق کے چارٹر کا SIGNATORYہونے کے باوجود یہ اعلان کررہا ہے کہ شرع کی آڑ میں ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے، اور اس معاملے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہمارا دینی فریضہ ہے، عمران نے کہا کہ افغانستان میں لوگ بھوکے مرنے لگیں گے ظاہر ہے وہ کہیں اور نہ جا سکیں گے پاکستان میں ہی داخل ہوں گے کیا عمران سمجھتے ہیں کہ اس وقت اقوام عالم ان کی مدد کو پہنچیں گی شائد مگر اپنی شرائط پر، اور اگر یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کے SCRIPTمیں لکھا ہوا ہے تو پاکستان کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں، بھوکے ننگے افغانستان کی غیر مشروط حمایت نہیں کی جا سکتی، اگر دانستہ آنکھیں بند کر لی جائیں تو اندھیرا مقدر ہو گا کبھی کبھی لگتا ہے کہ پاکستان پربیرونی طاقتوں نے ایسے لوگوں کو مسلط کررکھا ہے کہ وہ دین کا راگ الاپ کر اس قوم کو کنویں میں دھکیل دیں اسی لئے اقتدار کا تاج ان کے سر پر سجایا گیا ہے اور فوج اس ایجنڈے کی ضامن ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے ملک پر فوج کاآہنی ہاتھ ہو اور انحطاط مقدر ہو جائے، یقین ہونے لگتا ہے کہ فوج بڑی طاقتوں کی آلۂ کار ہے۔