اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عمران خان کا دبنگ خطاب تاریخ اس کو ہمیشہ یاد رکھے گی !

279

دنیا کی تاریخ میں ایسے لیڈر بہت کم پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے موقف کو جرأت اور بہادری کے ساتھ اقوام عالم کے سامنے رکھا ہو۔ پاکستان کی تاریخ میں قائداعظم کے بعد اتنا جرأت مند اور بولڈ لیڈر پیدا نہیں ہوا۔ 1971ء سے پہلے صرف ایوب خان کی دنیا میں بہت عزت تھی لیکن ان کی ذات کبھی بھی اتنے کرائسس میں نہیں آئی بلکہ ساری معاشی ترقی ان ہی ے دور میں ہوئی۔ بھٹو اور ضیاء الحق دنیا میں اپنا مقام نہ بنا سکے لیکن ضیاء الحق کا بہت بڑا کام ایٹمی پروگرام تھا ان ہی کے دور میں ایٹم بم حاصل کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے وہ کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اس کے بعد دو ڈاکو پاکستان کے اوپر مسلط ہو گئے زرداری اور نواز شریف ۔ نواز شریف تو اتنا بزدل اور ڈرپورک انسان تھا کہ اوباما جیسے کمزور صدر کے سامنے بھی کاغذ ہاتھ میں پکڑ کر بات کرتا تھا۔ سب سے زیادہ تباہی پرویز مشرف نے مچائی۔ جب اس نے امریکہ کے دبائو میں افغانستان جنگ میں شامل ہوا اور امریکنوں کو اڈے دئیے۔ پرویز مشرف کے دورمیں ہی پی جے پی برسراقتدار آئی۔ بھرپور طاقت سے اور مودی کا سیاست میں جنم ہوا۔ نواز شریف پہلے ہی واجپائی کو بس سے لاہور بلواچکے تھے۔
9/11کے بعد امریکہ بیس سال افغانستان میں رہا لیکن وہ پاکستان سے ہر دور میں ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتا رہا اس دوران اس نے پاکستان پر 400سے زیادہ ڈرون اٹیک کئے اور ہمیشہ حقانی نیٹ ورک پر دبائو رکھا ساتھ ساتھ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک پر ایکشن لینے کا مطالبہ کرتا رہا لیکن سارے حکمرانوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ امریکہ کو ’’نومور‘‘ کہنے کی جرأت نہ ہوئی اوبامہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارا گیا اور آصف علی زرداری کو اس نے بتانے کے لئے فون کیا تو بقول اوبامہ زرداری نے بے نظیر کا قصہ شروع کر دیا کہ اس کی بیوی کو بھی دہشت گردوں نے مارا۔ زرداری نے کوئی احتجاج نہیں کیا کہ کیوں ہمارے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی۔
ان سب حالات کے بعد جوبائیڈن نے افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کیا۔ افغانستان کی ساڑھے تین لاکھ فوج فرار ہو گئی۔ اشرف غنی کو اپنی جان بچا کر متحدہ امارات بھاگنا پڑا۔ ادھر بھارت کو اخلاقی طور پر عبرت ناک شکست ہوئی۔ بھارت کے سارے منصوبے بے کار ہو گئے۔ اس کی ساری دولت ڈوب گئی۔ طالبان نے بھارت کے خلاف سخت موقف اپنایا بھارت پچھلے دو سال سے کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم کررہا تھا۔ ساری دنیا سے بھارت نے کشمیریوں کا تعلق ختم کر دیا تھا۔ اخبار بند، انٹرنیٹ بند، فون بند، ساری دنیا سے رابطہ کاٹ دیا تھا۔ جب کشمیر سے بین الاقوامی رابطے بحال ہوں گے تب ظلم کی داستانیں باہر آئیں گی جوبائیڈن نے ابھی تک عمران خان سے رابطہ نہیں کیا۔ امریکہ کا خیال ہے پاکستان مکمل طور پر چائنہ کے گروپ میں چلا گیا ہے اس نے اپنا مستقبل امریکہ سے الگ کر کے چائنا کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ کشمیر کی آزادی اور سی پیک کی وجہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات کافی برسوں تک ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے اب نہ چین پاکستان کو چھوڑ سکتاہے اور نہ پاکستان چین سے اپنے تعلقات ختم کر سکتا ہے۔ دوسرے پاکستان کو اگر کشمیر کو آزاد کرانا ہے تو چین کا ساتھ ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دوران مودی جوبائیڈن کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کررہا تھا اور اس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا تھا۔ ان حالات میں عمران خان کاامریکہ جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ اس لئے عمران خان نے بالکل صحیح کیا اور انٹرنیٹ سے یا ریکارڈ خطاب کیا۔ کمال کی تقریر تھی۔ اس میں تین پوائنٹ بہت اہم تھے ۔سب سے اہم بات اس نے دنیا کو کہا کہ آپ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں اوران کی مالی مدد کریں۔ دوسرے اس نے مودی اور آر ایس ایس کو ایک طرح سے دہشتگرد کہا جو کشمیر میں ظلم کر رہے ہیں۔ تیسرا اس نے سید علی گیلانی کے جنازے کا مسئلہ اٹھایا جس کے جنازے کو بھارتی فوج نے چھین کر اپنی مرضی سے دفن کیا۔ ایسا ظلم دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا ہو گا۔ لیکن یہ بھارتی حکومت نے کیا۔ قابل شرم یہ کارروائی تھی۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں ایک تاریخ ساز تقریر کی امریکہ کو آئینہ دکھا دیا ہم آپ کے اب حکم کے پابند نہیں۔ بھارت کو کہہ دیا کہ آپ کا انجام برا ہوگا کشمیر کی آزادی قریب ہے دنیا کو پیغام دے دیا اسلام ایک امن کا مذہب ہے اور پاکستان اب ایک آزاد ملک ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔