غلامی اور وہ بھی دشمنان پاکستان کی!!

241

اتوار 26 ستمبر کی صبح گوادر کی بندرگاہ سے قریب، ساحل سمندر پر جو مجسمہ بانیء پاکستان، بابائے قوم، حضرت قائد اعظم کا عرصہ سے وہاں نصب تھا اسے دہشت گردوں نے مسمار کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجسمہ کے قرب و جوار میں گوادر میں تعینات فوجی دستہ کے سربراہ کی رہائش بھی ہے اور گوادر پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کا دفتر بھی۔ کہا جاتا ہے کہ گوادر میں یہ ہائی سیکیوریٹی کا علاقہ ہے لیکن پھر بھی یا تو حفاظتی عملہ اتوار کی صبح نیند کے مزے لے رہا تھا یا دہشت گرد دشمن اتنا چالاک تھا کہ وہ حفاظتی عملہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہا۔ وجہ ان دونوں میں سے کوئی بھی رہی ہو نتیجہ اس تخریبی کارروائی کا یہ نکلا کہ بابائے قوم کا مجسمہ زمیں بوس ہوگیا۔
دہشت گردی اور پاکستان دشمنی کی اس مذموم اور قابل مذمت کارروائی کی ذمہ داری بڑے طمطراق اور فخر سے اس دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے صوبہء بلوچستان میں بلوچستان ری پبلک آرمی کے نام سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نواب اکبر بگتی کے ایک صاحبزادے، بہمداغ بگتی ہیں جو اپنے مرحوم باپ ہی کی طرح پاکستان دشمن اور پاکستان دشمنوں کے دوست ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی خفیہ اور رسوائے زمانہ ایجنسی، را، کی سرپرستی میں قائم کی گئی تھی اور اسی پاکستان دشمن کے بل بوتے پر یہ تخریبی کارروائیاں کرتی آئی ہے۔ بھارت نے بیس برس پہلے جب اس کے مربی امریکہ بہادر نائن الیون کو جواز اور بہانہ بناکر افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے امریکہ کے زیرِ قبضہ افغانستان میں سب سے پہلے یہ کام کیا تھا کہ پاکستان کے خلاف ان تمام افغان شہروں میں اپنے جاسوسی اور دہشت گردی کے اڈے بھارتی قونصل خانوں کے بہروپ میں قائم کردئیے تھے۔ ان دہشت گردی کے اڈوں کا صرف اور صرف ایک مصرف اور مقصد تھا اور وہ پاکستان کو اپنی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنانا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شیطانی منصوبے کو آگے بڑھانے اور رو بہ عمل لانے کیلئے اسے پاکستان میں ملت فروشوں اور اپنے ایجنڈے پر چلنے والے دہشت گردوں کے تعاون کی ضرورت تھی۔ یہ ملت فروش اسے اکبر بگتی جیسے پاکستان دشمن کے سپوتوں اور چیلے چاٹوں میں مل گئے۔ قارئین کو شاید یاد ہو کہ اکبر بگتی وہ پاکستان دشمن تھا جس کی پاکستان اور پاکستان بنانے والوں سے دشمنی اس حد تک تھی کہ اس نے اُردو زبان کا استعمال یہ کہہ کے ترک کردیا تھا کہ یہ پاکستان بنانے والوں اور اس مفسد کے بقول بلوچوں کو غلام بنانے والوں کی زبان تھی۔ لیکن اس پاکستان دشمن کو اپنے بدیسی آقاؤں کی زبان، یعنی انگریزی، بولنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ اس کو اور اس کے پرکھوں کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرنے والے فرنگی راج کے ہی کارندے تھے۔ سو بہمداغ بگتی جیسے دہشت گردوں کی رگوں میں ملت فروشی زہر خون بن کے گردش کررہا ہے۔ پاکستان دشمن بھارت کیلئے اب اس جیسے ملت فروشوں کی اہمیت اور زیادہ یوں ہوگئی ہے کہ افغانستان پر اب بھارت کے کاسہ لیس اشرف غنی کے بجائے حریت پرست طالبان کی حکومت ہے اور طالبان مودی سرکار کی مسلم دشمنی سے خوب واقف ہیں لہٰذا انہوں نے بھارت کہ منہ لگانے سے انکار کردیا۔ بھارت بزدل ویسے بھی ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے ہی کابل میں اپنا سفارت خانہ اور دوسرے شہروں میں اپنے جاسوسی کے اڈے بند کرکے رفو چکر ہوچکے تھے اور اب اس کا تکیہ، پاکستان دشمنی کے باب میں، بہمداغ بگتی جیسے ملت فروشوں پر ہی ہے جو اس کے پروردہ، اس کے کشکول پہ جینے والے اور پاکستان کو اپنی دہشت گردی کا فخر سے نشانہ بنانے والے ہیں۔
بابائے قوم کے مجسمہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے میں ظاہر ہے یہ پیغام مضمر ہے کہ دہشت گرد اور ان کے سرپرست پاکستان کی اساس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ بانی ٔپاکستان کی توہین پاکستانی قوم کی توہین و تضحیک ہے جو پاکستانی قوم کسی طور برداشت نہیں کرسکتی۔ بزدل دشمن پاکستان کے خلاف اپنی شیطانی جنگ اوچھے ہتھیاروں سے لڑ رہا ہے۔ بزدل کی پہلی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پیچھے سے وار کرتا ہے سامنے نہیں آتا۔ بگتی کے سپوت بھی اپنے باپ کی طرح بزدل اور اپنے سرپرست مودی کی مانند کائر ہیں۔ ایسے بزدلوں سے لڑنا مشکل اور کٹھن ہوتا ہے جو سامنے نہ آئے بلکہ پردے کے پیچھے سے وار کرے لیکن پاکستان کی حکومت اور دفاعی تنظیموں کیلئے بابائے قوم کی اس طرح توہین بیداری کا پیغام ہے۔ پاکستان کیلئے خطرات میں اضافہ ہونا لازمی ہے کیونکہ پاکستان کے دشمن اب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو جواز بناکر پاکستان میں اپنی تخریبی کارروائیوں میں اضافہ کرینگے، ان میں تندی اور تیزی لانے کی کوشش کرینگے تاکہ پاکستانیون کو نفسیاتی طور پہ مرعوب کرسکیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری عسکری قیادت اس طرح کی مفسدانہ اور بزدلانہ کارروائیوں سے پہلے بھی کامیابی اور کامرانی سے نمٹ چکی ہے اور اس ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ہماری فوج اور ہماری حفاظتی ایجنسیاں بھارتی اور بھارتی سرپرستوں کی طرف سے کی جانے والی تمام تخریبی اور پاکستان دشمن کاروائیوں سے نمٹنے اور اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برا ہونے کیلئے پوری طرح سے تیار اور چوکس رہینگی۔
مودی سرکار کی دہشت گرد ایجنسی را پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں یوں بے خطر ہوکر مصروف ہے کہ مودی سرکار کو چچا سام کی غیر مشروط آشیر واد حاصل ہے۔ دنیا میں دو ہی تو امریکہ بہادر کے چہیتے اور لاڈلے ملک ہیں ایک اسرائیل دوسرا بھارت۔ اسرائیل کی صیہونی حکومت نے عین اس دن جب را نے گوادر میں بابائے قوم کا مجسمہ منہدم کیا اپنے مقبوضہ فلسطین میں پانچ بیگناہ فلسطینیوں کو یہ کہہ کر شہید کردیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اس کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ دنیا میں سب سے سستا خون یا تو فلسطینیوں کا ہے یا بھارت سرکار کے مقبوضہ کشمیر کے محصور و مجبور کشمیریوں کا۔ کھلی چھٹی ہے صیہونیوں کو بھی اور مودی کے دہشت گرد ہندوتوا کے شرپسندوں کو کہ وہ جب چاہیں، جتنا چاہیں، اپنے محصور فلسطینیوں اور کشمیریوں کا خون بہادیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا بلکہ داد دی جائیگی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف چچا سام کے عالمی منصوبے پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں۔ صدر بائیڈن نے آج تک ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو اس قابل نہیں گردانا کہ وہ ان سے ٹیلیفون پر ہی رابطہ کرلیں بالمشافہ ملاقات تو بہت دور کی بات ہے۔ لیکن مودی جیسے مفسد اور مسلم دشمن
کیلئے بائیڈن صاحب کے دروازے پوری طرح سے کھلے ہیں۔ پچیس ستمبر کو انہوں نے چائے والے کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہا اور بڑے تپاک سے دہشت گرد مودی کا استقبال کیا۔ یہ وہی مودی ہے جس نے آج سے انیس برس پہلے، جب وہ بھارت کے صوبہ گجرات کا وزیر، اعلی تھا اپنی سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کروایا تھا اور جس کے نتیجہ میں اس وقت کی امریکی انتظامیہ نے اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا تھا اور یہاں تک ہوا تھا کہ مودی کو امریکہ میں داخلے کیلئے نا اہل قرار دیا گیا تھا اور اسے ویزا دینے پر پابندی تھی۔ لیکن وہ اس دور کی بات تھی۔ اب امریکہ کی چین دشمنی میں بھارت امریکہ کیلئے دلبر جانی بن چکا ہے اور مودی امریکی انتظامیہ کی آنکھوں کا تارہ بن گیا ہے۔ بائیڈن صاحب تو مودی کے ایسے مرید ہیں کہ وہ بھارت سے اور مودی سے اپنا رشتہ بھی جوڑ رہے ہیں۔ مودی سے اوول آفس میں ملاقات شروع ہوتے ہی انہوں نے مودی سے پوچھا کہ کیا ہم رشتے دار ہیں؟ مودی کا تو دل باغ باغ ہوگیا۔ معلوم یہ ہوا کہ بھارت میں ایک زمانے میں کوئی صاحب رہا کرتے تھے جن کا نام نامی آرتھر بائیڈن تھا۔ سو صدر بائیڈن نے بھارت سرکار سے رجوع کیا کہ ان کا شجرہ تلاش کیا جائے کیا پتہ کہ وہ اپنے ہی خاندان کے نکلیں۔ سو مودی جی پوری تیاری کرکے آئے تھے۔ اپنی بغل میں کاغذوں کا ایک پلندہ لیکر آئے تھے جو انہوں نے اپنے میزبان کے حوالے کیا۔ اب آپ
تیار رہئے کہ جلد یہ اعلان ممکن ہے کہ امریکہ کے موجودہ سربراہ کا شجرہ بھارت سے بھی ملتا ہے۔ تو مودی اور ان کی سرکار کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہوگا۔ اب تو وہائٹ ہاؤس سے خاندانی روابط نکل آنے کا قوی امکان ہے۔ اب مودی صاحب اپنے رشتہ دار کی حمایت سے کیوں نہ بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیاں ویسے بھی بھارت سرکار پچھلے بیس برس سے کرتی آئی ہے اب تو مودی اپنے چھپن انچ کے سینے کو اور چوڑا کرکے اس مذموم کام کو سرانجام دے گا۔ اب تو سیاں کوتوال اپنے ہی خاندان کے نکل آئے۔
انکل سام کی اپنی دیدہ دلیری بھی قابلِ دید ہے۔ افغانستان سے جس طرح رسوا ہوکے نکلے ہیں اس کے بعد شرافت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ایک عرصے تک سر نہ اٹھاتے لیکن توبہ کیجئے۔ چور ہیرا پھیری سے کہاں باز آتا ہے۔ افغانستان کے نو ارب ڈالر تو ویسے ہی چچا سام دبا کر بیٹھ گئے ہیں۔ کچھ ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ نو ارب ڈالر پر یومیہ سود کی رقم ہی کتنی بنتی ہے لیکن وائے رے دیدہ دلیری۔ اس کے باب میں تو چچا سام سانس بھی نہیں لے رہے لیکن اوپر سے افغانستان پر احسان کرنے چلے ہیں یہ کہہ کر کہ امریکہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت فوری ضروریات کی اشیا کے افغانستان میں داخلے کے خلاف نہیں ہے اور اس پر کسی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس کو کہتے ہیں جس کی لاٹھی اسی کے سر۔ افغانستان کا پیسہ امریکی بنکوں میں تو امریکی پابندیوں کا اسیر ہوکے ٹھکانے لگا۔ اب چچا سام یہ کہہ کر مزید ستم توڑ رہے ہیں کہ وہ انسانی ہمدردی کے جذبات سے مجبور ہوکر افغانوں کیلئے ایک کھڑکی کھول رہے ہیں تاکہ افغان کم از کم سانس تو لے سکیں گھٹ گھٹ کے نہ مریں۔ طاغوت کا نظام جبر آج بھی دنیا کو ویسے ہی حیلے بہانوں سے تاراج کررہا ہے جیسے اس نے گذشتہ دو صدیوں میں دنیا کو اپنے مفادات کیلئے اتھل پتھل کیا تھا، تاراج اور برباد کیا تھا۔ ہدف اس کی چیرہ دستیوں کا آج بھی غریب دنیا اور اس کے مفلوک الحال عوام ہیں۔ ہمارے حکیم الامت علامہ اقبال کی نظر بینا نے ایک صدی پہلے دیکھ لیا تھا کہ مغرب کی رگِ جاں پنجہء یہود میں تھی۔ اب طاغوت کے ایما سے پنجہء ہنود بھی اس نظام جبر و ظلم کی لوٹ کھسوٹ میں شریک کار ہوگیا ہے۔ مغرب جب اپنی خوشی سے اپنی رگِ جاں ہنود کے پیجہ میں دے تو مودی کی داڑھی اور لمبی کیوں نہ ہو۔ پاکستانیوں کو اس کا خوب علم ہے کہ اب تو کرکٹ کا وہ کھیل جو کسی زمانے میں شرفاء کا کھیل کہلاتا تھا ہندو بنیؤں کی تحویل میں چلاگیا ہے۔ کرکٹ کی عالمی تنظیم نے بھارت کے بنیؤں کے ہاتھ اپنا سب کچھ بیچ دیا ہے۔ سو کیا تعجب کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کو انگوٹھا دکھا کر چلی گئی اور اس کے دوسرے دن انگلستان کی ٹیم نے بھی وہی بیہودہ حرکت کی۔ پاکستان جیسے غیرت مند ممالک کیلئے زمین تنگ کی جارہی ہے لیکن ارضی خداؤں کو یہ یاد نہیں رہا کہ وہ جو کائنات کا اصل مالک و مختار ہے وہ ایک حد تک ہی ڈھیل دیتا ہے لیکن پھر ایک ہی جھٹکے میں بڑے بڑے فراعین کو آنے والے زمانوں کیلئے بھی نمونہء عبرت بنادیتا ہے۔ فاعتبرو یا اولی!!!