تعلیم : حکومتوں پردبائو ڈالے بغیر کچھ نہیں ہوگا!!

419

پاکستان میں ناخواندگی اور سکول کی عمر کے بچے، عمر5 سال سے 16 سال، جو سکول میں نہیں، ان کی تعداد تقریباً دو کڑوڑ تیس لاکھ، ہے ان کی تعداد اور شرح میں خاطر خواہ کمی ہوتی نظر نہیں آتی۔ یہ بچے اس عمر کے کل بچوں کا44 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار یونیسف کے ہیں۔ 9-5 سال کی عمر کے بچوں میں پچاس لاکھ سکولوں میں نہیں ہیں۔سندھ میں مفلس ترین افراد کے52 فیصد بچے جن میں لڑکیا ں58 فیصد ہیں، وہ رسمی تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔ اور بلوچستان میں78 فیصد لڑکیاں سکولوں میں نہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ ناکافی فنڈز، پالیسز کے نفاذ میں کمی، اور پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے میں سست روی، سب اس کی وجوہات ہیں۔اگرچہ تعلیمی بجٹ کو بڑھایا گیا ہے لیکن ابھی بھی یہ صرف جی ڈی پی کا 2.8فیصد ہے نا کہ4 فیصد جس کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے تعلیم کو تمام قومی ضروریات کی فہرست میں سب سے نیچے رکھا ہوا ہے۔ جس کا ثبوت یہ محکمہ شماریات کے اعداد و شمار ہیں جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونے چاہییں۔ ذرا غور فرمایئے کہ اگر آپ نے میٹرک کیا ہوا ہے تو آپ سارے پاکستان میں17فیصد لوگوں میں سے ایک ہیں۔اگر آپ نے ایم اے یا ایم ایس سی کی ہے تو آپ کل پاکستان کے 1.58 خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ لوگ جنہوں نے کوئی تعلیمی مقام حاصل کیا ہے تو وہ پرائمری ہے، اور محکمہ شماریات کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی میں ایک تہائی سے بھی کم لوگ ہیں جنہوں نے پرائمری سکول پاس کیا۔ جیسے جیسے تعلیمی درجہ بڑھتا ہے یہ تناسب کم ہوتا جاتا ہے۔یہ ہے پاکستان کی 72 سالہ تعلیمی ترقی کا معیار۔
اب سوال یہ ہے کہ ان حالات کو اگر بدلنا ہے تو کیسے؟ یہ تعلیمی جمود کس طرح توڑا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں حکومتی نظام کو سمجھنا ہو گا۔ آپکو شاید یا د ہو گا کہ پاکستان نے آئین کی اٹھارویں ترمیم کو پاس کر کے تعلیم کو صوبائی ذمہ واری بنا دیا۔ یہ غالباً پہلے بھی تھا لیکن اب واضح کر دیا گیا۔ اس لیے اگر تعلیم پر کوئی اخراجات ہو نگے تو وہ صوبائی حکومتیں کریں گی۔ وہی سکولوں کی تعداد اور ان پر خرچ ہونے والی رقومات کا تعین کریں گی۔ لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ اگر ملک کے دو کڑوڑ تیس لاکھ بچے سکول میں نہیں تو اس کا کون ذمہ وار ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ صوبوں کی ترجیحات مختلف ہیں۔اس معاملہ میں وفاقی حکومت کچھ تو کر سکتی ہے لیکن وہ صوبوں کو اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔اس کے لیے، عوامی طاقت کو بروئے کار لانا پڑے گا۔ وہ کیسے؟
پہلا قدم: سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے، مقامی رضا کار ادارے بہت اہم کردادر ادا کرتے ہیں۔تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہر صوبہ میں ایسے رفاہی رضاکار ادارے موجود ہیں جو آپس میں ملکر ایک ایسا منصوبہ بنا سکتے ہیں، جس کا مقصد عوامی طاقت کو حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ماہرین اسے advocacy کا نام دیتے ہیں۔اگر تعلیم کے فروغ میں دلچسپی لینے والے ادارے اور با اثر اشخاص ملکر ایک مہم کا منصوبہ بنائیں، جس کا مختصراً مقصد حکومتی تعلیمی بجٹ کو GDP کا4 فیصدتک پہنچانا ہو، تو نہ صرف حکومت اس کا نوٹس لینے پر مجبور ہو سکتی ہے بلکہ وہ چند سالوں میں اس ہدف کو حاصل کرنے میںکامیاب بھی ہو سکتی ہے۔ایسے منصوبے ہر صوبہ میں بنانے ہوں گے، کیونکہ دبائو صوبائی حکومتوں پر بڑھانا ہو گا۔یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں خصوصاًتعلیمی سہولتوں کی کمی ہے، اور سب سے زیادہ کمی لڑکیوں کے سکولوں کی ہے۔ اگر ایڈوکیٹ حکومت کو مجبور کریں کہ وہ پنجسالہ منصوبوں میں بتائے گئے سکولوں کے اہداف کو عملی جامہ پہنائے (البتہ یہ ضرور معلوم کر لیں کہ ان میں سکولوں سے متعلق مناسب اہداف ہیں)، تو حکومت پر ایک منطقی اور قاعدہ کا دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ ایڈوکیسی کے ہراول دستے عوامی تحریک چلانے کے لیے جلسہ اور جلوسوں سے بھی کام لے سکتے ہیں، اور میڈیا کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے دبائو میں زور ڈال سکتے ہیں۔جب تک ایسی مہمات ہر صوبہ میں نہیں چلیں گی، تعلیمی ایجنڈا کھڈے میں رہے گا۔
دوسرا قدم: عوامی نمائندوں کو آگہی دینی چاہیے کہ جب تک مناسب تعلیمی قابلیت کو سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لیے لازمی قرار نہیں دیا جائے گا، لوگ تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔ اور لڑکیاں جب تک کم از کم مڈل پاس نہیں ہونگی، ان کی شادی بھی نہیں ہو گی۔ کوئی ان پڑھ مزدور بھی نہیں بن سکے گا۔ان شرائط کے لیے پانچ سال کا وقفہ دیا جائے، تا کہ لوگ اس دوران تعلیم حاصل کر سکیں۔ البتہ یہی کافی نہیں، اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے اور سہولتیں بھی بنانا پڑیں گی، جن میں تعلیمِ بالغاں کا وسیع پیمانے پر جال بچھانا پڑے گا۔لڑکیوں کی تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ماں پڑھی لکھی ہو تو وہ اپنی اولاد کو بہتر پال سکتی ہے ۔ ایسی ماں خاندانی منصوبہ بندی ، حفاظتی ٹیکوں، متوازن غذا، اور عموماً حفظان صحت کے تقاضوں کو بہتر سمجھ سکتی ہے، اور بچوں کی ا بتدائی تعلیم میں ممد و معاون بھی ہو سکتی ہے۔یہ دعوے خالی نہیں۔ ان کے پیچھے با قاعدہ سماجی تحقیق ہے۔پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔ اس پر بھی لڑکیوں کی تعلیم سے فرق پڑ سکتا ہے۔اگر ماں پڑھی ہو تو وہ بچوں کی اموات کی وجوہات کو سمجھ کر ان کو روک سکتی ہے جیسے کہ اسہال کی بیماری۔ایک پڑھی لکھی عورت اپنے کنبہ کا بھی دھیان بہتر رکھ سکتی ہے۔یاد رہے کہ جب حکومت نے دیکھا کہ لوگ کو وڈ کا ٹیکہ لگانے سے کتراتے ہیں تو اس نے کتنی بندشیں ڈال دیں جیسے ٹیکہ نہیں تو سفر نہیں کر سکتے، اور کئی کام جو لوگ کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ٹیکہ لگوانا شرط کر دیا گیا۔ اس سے ٹیکہ لگوانے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اسی اصول پر تعلیم کی ضرورت کو بھی رائج کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا قدم: تعلیم کی ضرورت اور فوائد پر شعرا حضرات ترانے لکھیں، ڈرامہ نگار، ڈرامے لکھیں، اور میڈیا پر تعلیم پر مباحثے، ٹاک شوز، اور تعلیم کا شوق پیدا کرنے والے پروگرام چلائیں۔ترانے ایسے کہ بچہ بچہ انہیں گائے، اور وہ روز مرہ زندگی میں شامل ہو جائیں۔قوم میں تعلیم کے لیے ایک شوق اور ولولہ پیدا کیا جائے۔ جب تک ہم عوامی سطح پر تعلیم کے حق میں بلند اور بیباک آواز سے نہیں آئیں گے، لوگ خواب غفلت سے نہیں جاگیں گے۔اسلام میں توعلم حاصل کرنے پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ قران مجید میں بھی اور سُنہ میں بھی۔ایسے علماء سے مدد لیں جو علم میں دینی علم کے ساتھ دنیاوی علم کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔
چوتھا قدم: سپیشل فنڈز کا قیام جن سے ان اضلاع کی مدد کی جائے جہاں تعلیم کے اشارے پاکستان کی اوسط سے کم ہوں۔ اس میں نا خواندگی، لڑکیوں کے سکولوں میں کمی، اور سکولوں کی عمارات میں خرابیاں پائی جائیں۔یہ وفاقی فنڈ ہو اور پاکستان کے کسی بھی صوبے میں جہاں ضرورت ہو وہاں دیا جا سکے۔یہ امید کی جاتی ہے کہ صوبہ اس فنڈ کو بخوشی استعمال کریں گے۔کسی ضلع کو یہ فنڈ دینے سے پہلے تحقیق کی ضرورت ہو گی کہ وہاں تعلیمی معیار کم ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا کرپشن ہے یا وسائل کا غلط استعمال یا وسائل کا نہ ہونا، وغیرہ۔
پانچواں قدم: غریب لڑکیاں جو سکول کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتیں، ان کے لیے معقول وظائف کی فراہمی۔ یہ وظائف اتنے ہوں کہ والدین کو بھی تھوڑی بہت آمدنی ہو، تبھی وہ لڑکیوں کو سکول بھیجیں گے۔ ورنہ وہ ان لڑکیوں سے کام کروا کر اپنی آمدنی بناتے ہیں۔اسی طرح، غریب لڑکے جنہیں ماں باپ تیسری جماعت سے اٹھوا کر کام پر لگوا دیتے ہیں، ان کو بھی وظیفہ ملنا چاہیے ، تا کہ والدین ان کو کام پر لگانے کے بجائے سکول بھیجیں۔
چھٹا قدم: ماڈل سکولوں کی حوصلہ افزائی۔ اس کے لیے، ملک بھر میں وفاقی حکومت بیش قیمت انعامات کا اعلان کرے تا کہ زیادہ سے زیاد لوگ ماڈل سکول بنانے پر سرمایہ کاری کریں۔ جب ایک ماڈل سکول کوئی انعام جیتے گا تو اس کی قدر و قیمت اپنی علاقہ میں فوراً بڑھ جائے گی اور اس سے اسکول کو مالی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں، اس میں داخلے کے لیے والدین زیادہ فیس بھی دیں گے اور انہیں یقین ہو گا کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ماڈل سکول وہ ہو گا جو نہ صرف قومی نصاب کو بہتر طریقے سے پڑھائے گا بلکہ اس کے علاوہ بھی مختلف کورسز شامل کرے گا ، جو نصاب اور غیر نصاب کے ہو سکتے ہیں، (جیسے کمپیوٹر کے ہنر، کھیل،عالمی زبانیں، وغیرہ)۔ جن سے فارغ التحصیل طالب علم کسی بہتر کالج میں جا سکتے ہیں، یا انہیں بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی قبول کیا جا سکے۔
ساتواں قدم: مخیر حضرات جو تعلیم پر اپنی توجہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اتنا سرمایہ نہیں کہ کوئی نیا سکول بنائیں، وہ کسی چلتے ہوئے سکول کو اپنا لیں، جس میں تھوڑی سرمایہ کاری کر کے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ اکثر سرکاری سکولوں کی دیواریں، ٹوائلٹ، بجلی کے پنکھے، بلب، پانی کے نل، اور کتنی چھوٹی چھوٹی چیزیں مرمت طلب ہوتی ہیں، اور معمولی سرمایہ کاری سے سکول کی شکل بدل سکتی ہے۔ اکثر اساتذہ کا ڈیسک یا کرسی ٹوٹی ہوتی ہے۔یا بچوں کا فرنیچر مرمت کا محتاج ہوتا ہے، یہ ذرا سے سرمائے کے محتاج ہوتے ہیں جو حکومت نہیں دیتی۔ مخیر حضرات اپنی نگرانی میں کام کروائیں جس پر سکول کی انتظامیہ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ کام شروع کرنے سے پہلے سکول کی اعلیٰ انتظامیہ ، سرکاری افسران اور علاقہ کے معتبر حضرات سے مشورہ اوراجازت ضرور لیں۔اس کے لیے بہتر ہوگا کہ سکول کی ضروریات کا جائزہ لیکر ایک پروپوزل بنائیں جسمیں ضروریات، ان پر اخراجات اورکام کرنے پرجو وقت لگے گا، ان کا تخمینہ درج ہو۔
یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عوام کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ان کی فلاح و بہبود اور قابلیت بڑھانے پر جو بھی اخراجات ہوں، انہیں سرمایہ کاری سمجھا جائے گا۔ جیسے ہمارے ملک میں آبادی کا ایک بڑا تناسب نوجوانوں کا ہے۔ ان نوجوانوں کو بنیادی تعلیم کے علاوہ جب پیشہ ورانہ، یا ٹیکنیکل، تربیت دی جائے تو وہ ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر جا کر بھی اچھی روزی کما سکتے ہیں۔ اگر ملک سے باہر جا کر کام کریں تو وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ پاکستان بھیجتے ہیں جس سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوتی ہے۔جو قوم اپنے نوجوانوں کی بہتری، تعلیم اور تربیت پر خرچ نہیں کرتی وہ کبھی بھی اقتصادی ترقی نہیں کر سکتی۔