طلعت اقبال

199

پاکستان میں جب سے ٹیلی ویژن آیا ان گنت لوگوں نے ٹی وی پر کام کیا۔ اگر ان کی لسٹ بنانا چاہیں تو بڑا مشکل ہو گا۔ ہزاروں اینکرز، کمپیئرز، ایکٹرز مگر ان میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں House hold nameبن جاتے ہیں۔ ہمیشہ ناظرین کے ذہن و دل میں زندہ رہتے ہیں اور ان ہی میں ایک نام ’’طلعت اقبال‘‘ ہے۔
وہ ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان بنے۔ جب بھی ریڈیو، ٹی وی کی بنیاد کی بات ہو گی طلعت اقبال کا نام اس میں شامل ہو گ۔ا
دنیاکیلئے وہ ایک ٹی وی سٹار تھے لیکن میرے لئے وہ میرے انکل تھے جن کو میں نے ہوش سنبھالتے ہی دیکھا۔
’’شہزوری‘‘ میری امی نیلوفر عباسی کی بہت مشہور سیریل تھی، یہ حسینہ معین کی لکھی پہلی سیریل تھی جس کے تمام کردار بے حد پسند کئے گئے اور مقبول ہوئے اتنے کہ آج اتنی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ اس میں ایک کردار ’’سلمیٰ بی بی‘‘ کا تھا جو شہزوری یعنی تارا کی دوست تھیں، یہ کردار اس وقت کی مقبول فنکاری سنبل بخش نے ادا کیا تھا، یہ دونوں سہیلیاں سکرین پر ہی نہیں اصلی زندگی میں بھی دوست بن گئیں جو کہ سنبل آنٹی کی آخری سانس تک قائم رہی۔ دو فنکار طلعت اقبال انکل اور سنبل آنٹی شادی کے خوبصورت بندھن میں بندھ گئے۔ وہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے تھے، امی ابو کی ملاقات اکثر ان سے ہوتی اور جب صومی، سارہ اور خاقان( ان کے بچے) پیدا ہوئے تو یہ دوستی اگلی نسل میں منتقل ہو گئی۔
میں کافی چھوٹا تھا کہ میرے ابو قمر علی عباسی کا لکھا ڈرامہ سیریل ’’بہادر علی‘‘ پی ٹی وی پر نشر ہوا جو کہ بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ اس سیریل میں طلعت اقبال انکل نے بھی کام کیا اور بہت ہی خوبصورتی سے اپنا کردار نبھایا۔ ایک بار میں ابو کے ساتھ بہادر علی کی ریہرسل پر گیا تو میں نے نوٹ کیا کہ طلعت انکل ایک ہی ڈائیلاگ کو بار بار ریہرس کررہے ہیں۔ میں بچہ تھا۔ اس لئے میں نے پوچھ لیا کہ انکل آپ ایک ہی جملہ بار بار کیوں دوہرا رہے ہیں؟؟ طلعت انکل پہلے تو مسکرائے پھر بولے ’’دیکھو بیٹا کام تو سب ہی لوگ کرتے ہیں لیکن اچھا کام کرنے کے لئے محنت کرنی ہوتی ہے اور جو لوگ محنت کرتے ہیں اللہ انہیں ضرور کامیابی دیتا ہے۔ کامیابی کی پہلی سیڑھی ہی محنت ہے۔
اس وقت تو اس بات کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکا۔ کھیل کود میں لگ گیا لیکن جب کچھ عرصے بعد یہ ایپی سوڈ آن ایئر گیا تو لوگوں نے طلعت اقبال انکل کے کام کی بہت زیادہ تعریف کی۔ صرف اس وقت ہی نہیں آج بھی ’’بہادر علی‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو طلعت انکل کے پرفارمنس کی بات ہوتی ہے اور مجھے بار بار ان کی کہی بات یاد آتی ہے کہ کامیابی کی پہلی سڑھی ’’محنت ‘‘ ہوتی ہے۔
طلعت اقبال نے بے شمار ڈرامے اور سیریلز کیے اور ان میں بہت خوبصورت پرفارمنس دی لیکن ’’بہادر علی‘‘ کا ذکر میں نے بطور خاص اس لئے کیا کہ اس کی ریہرسل اور ریکارڈنگز میں اکثر میں بھی ابو کے ساتھ جاتا تھا جہاں ’’بہادر علی‘‘ سیریل سے بہت سے بچوں نے کئی اچھی باتیں جانیں وہیں میں نے اس سے زندگی کا ایک بہت ضروری سبق سیکھا کہ زندگی میں اپنا بہترین پیش کرو، بیسٹ دو، کامیابی کی پہلی سیڑھی یہی ہے اور یہ سیکھ میری زندگی میں ہمیشہ کام آئی۔
زندگی میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، بچھڑ جاتے ہیں لیکن ہماری اور طلعت اقبال کے خاندان کی دوستی ہمیشہ رہی جب ہم پاکستان میں تھے تب بھی اور جب امریکہ moveہوگئے تب بھی، ہم نے بہت سااچھا وقت ساتھ گزارا۔
2014ء میں سنبل آنٹی کا انتقال ہو گیا، امریکہ کے شہر ڈیلاس میں رہنے کی وجہ سے ہماری فیملیز ایک دوسرے سے رابطہ کبھی ختم نہیں ہوا۔
تین ہفتے قبل خبرملی کہ طلعت اقبال انکل کی چھوٹی بیٹی سارہ کا انتقال ہو گیا یہ خبر اتنی اچانک تھی کہ کسی کو بھی یقین نہیں آیا ’’نیلو میری بیٹی مجھے چھوڑ کر چلی گئی‘‘ یہی الفاظ تھے جو انہوں نے امی سے کہے تھے تین ہفتے قبل اپنی بیٹی سارہ کے جنازے پر۔
سارہ کے انتقال کے اگلے دن ہم لوگ طلعت اقبال انکل کے گھر گئے، طلعت اقبال انکل ان کی بیٹی صومی، داماد، اشتیاق بیٹا خاقان بہت ہی ہمت اور صبر سے کام لے رہے تھے، ہم لوگ ان کا دکھ بانٹنے کے خیال سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے، میں ’’بہادر علی‘‘ کے سیٹ والی بات یاد دلانا بھول گیا پھر سوچا کہ پھر کسی اور دن یاد دلائوں گا مگر ایسا ہو نہیں سکا، سارہ کے انتقال کے ٹھیک تین ہفتے بعد طلعت اقبال انکل بھی گزر گئے یہ اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا، وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے لیکن حلق میں ایک چھوٹی سی دوائی کی گولی اٹک جانے سے پیچیدگی ہو گئی، خاقان ان کا بیٹا ان کے پاس تھا اس نے اپنی سی کوشش کی، 911کو کال کیا، انہوں نے آتے ہی اپنی کارروائی شروع کر دی حتی الامکان میڈیکل ایڈ دی، ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ تقریباً دس دن تک موت سے جنگ کرتے رہے مگر موت سے بھی کوئی جیتا ہے۔ 23ستمبر 2021ء کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
طلعت اقبال انکل کی بیٹی صوفی اس کے بچے فجر اور صبح نے جس طرح ان کی خدمت کی ان کیلئے دعائیں کیں وہ ہمیشہ یاد رہیں گی اور سب سے بڑھ کر ان کے داماد اشتیاق حسین کا کردار اور عمل ہے۔ جیسی خدمت اور بھاگ دوڑ انہوں نے کی ایسا تو بعض اوقات بیٹے بھی نہیں کر پاتے۔ اشتیاق چوبیس گھنٹے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر طلعت اقبال انکل کی ایک ایک جنبش کے منتظر رہتے۔ اللہ تعالیٰ اشتیاق کو اس کا اجردے۔ طلعت اقبال انکل ایک خوش مزاج، ہینڈسم، خوش لباس، خوددار انسان تھے اپنے اُصولوں پر قائم رہنے والے وہ آخری لمحوں تک چاق و چوبند اور زندگی سے بھرپور رہے۔
24ستمبر 2021ء کو طلعت اقبال کے جنازے پر لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ کر پاکستانی ٹی وی چینلز پر، اخباروں میں، سوشل میڈیا پر ان کے جانے پر اُداسی دیکھ کر ایک بار پھر احساس ہوا کہ دنیا سے انسان کچھ لے کر نہیں جاتابلکہ بہت کچھ چھوڑ جاتا ہے۔ آپ کے جانے پر اتنے زیادہ لوگ دکھی ہوتے ہیں، اُداس ہوتے ہیں تو یقینا آپ دنیا میں ایک کامیاب انسان تھے اور آپ کی کوئی بھی کوشش اور ’’محنت‘‘ بیکار نہیں گئی۔