اقوام متحدہ کو طالبان کی حکومت تسلیم کیوں نہیں؟

269

اقوام متحدہ کا حسب عادت، روایات 75سالہ میلہ اپنے بیانوں اور کھاتوں پر ختم ہواجس میں کشمیر اور فلسطین پر قبضوں کی بجائے افغانستان پر طالبان کی حکومت تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا ذکر رہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں یہ جانتے ہوئے کہ ماضی میں ویٹ کانگوں کی فتح، عراق کی تباہی، لیبیائی بربادی، افغانستان تباہ کاری کے بعد لائی گئی مسلط حکومتوں کو کیسے اور کیوں تسلیم کیا گیا جبکہ عراق، افغانستان اور لیبیا پر لشکر کشی اور عسکریت کے بعد حکومتیں بنائی گئی تھیں جس کے حکمرانوں کو سازشوں اور باغیوں نے سامراجی طاقتوں کے اشارے پر پھانسیاں اور قتل کیا گیا تھا جس کے باوجود اپنے باغیوں اور پروردوں کو حکمران بنایا گیا تھا جن کی حکومتیں اقوام متحدہ نے بنا چوں چرا تسلیم کیا تھا یا پھر دنیا بھر میں منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے ،پلٹنے جنرلوں کی حکومتوں کو تسلیم کیا ہے خاص طورپر پاکستان میں چار مرتبہ جنرلوں نے منتخب حکومتوں پر قبضے کئے جو پاکستان کے آئین کے مطابق آئین شکن اور غداری کے مرتکب ہوئے تھے جنہوں نے پاکستان کے قانون اور آئین کی شدید خلاف ورزیاں کی تھیں جو گیارہ گیارہ سال تک ملک پر قابض اور غاصب رہے جن کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے 1972ء اور 2009ء میں غیر قانونی اور غیرآئینی حکمران قرار دیا مگر جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی نہ صرف حکومتوں کو تسلیم کیا گیا تھا بلکہ انہیں اپنی پرائی جنگیوں سیٹو، سینٹو، افغان جہاد اور دہشت گردی جنگوں میں استعمال کیا گیا آج جب افغانستان پر طالبان ویٹ کانگ قوم کی طرح بیس سالہ جنگ کے بعد فاتح ہو کر قابض ہوئے تو ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے حیلوں، بہانوں سے کام لیا جارہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کا دوغلا پن نظر آرہا ہے جبکہ دنیا بھر کے بعض ملکوں کے بادشاہوں، جابروں، ظالموں، آمروں، غاصبوں کی حکومتیں تسلیم کررکھی ہیں تاہم اقوام متحدہ جو اب بڑھاپے کی حدیں پار کررہی ہے جس کے دور میں لاتعداد نوآبادیات کے غلاموں کی آزادی حاصل کی ہے جس میں اقوام متحدہ کا کوئی کردار شامل نہیں رہا ہے جس کے دور میں نہ جانے کتنے خوفناک اور دردناک سانحات برپا ہوئے لاتعداد ریاستوں پر حملے اور قبضے ہوئے۔درجنوں ریاستوں کی آزادی سلب ہو گئی۔ ویت نام جلتا رہا جرمنی، کوریا اور یمن تقسیم ہوا۔ لاطینی امریکہ میں خون بہا، عراق، افغانستان، لیبیا اور شام تباہ و برباد کیا گیا مگر اقوام متحدہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ جس کے دور میں طاقتور ملکوں کی کمزور اور ناتواں ریاستوں پر لشکر کشی جاری ہے جس میں پاکستان کی کوکھ سے بنگلہ دیش بنایا گیا یا انڈونیشیا سے ایسٹ تیمور چھینا گیا۔ سوڈان اور الجیریا بٹا اقوام متحدہ اس توڑ پھوڑ کی برابر شریک رہی ہے۔ 75سالہ اقوام متحدہ کے دور میں کشمیر اور فلسطین پر جبری قبضے جاری رہے جس پر آج تک اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے بعد اگر کہا جائے کہ اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی گماشتہ اور سہولت کار ہے تو بجا نہیں ہو گا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وہ ممالک روس، چین، بھارت اور اسلامی ریاستوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے جو ایک قابض اور غاصب صہیونی طاقت ہے جس کو بزور طاقت فلسطین کے سینے پر بنایا گیا جب بڑی طاقتوں نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل اور فلسطین دو الگ الگ ریاستیں ہوں گی دونوں خودمختار ریاستیں کہلائیں گی تو بھی اقوام متحدہ نے فلسطین کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم نہ کیاجو تاریخ کا بہت بڑا سانحہ اور حادثہ بن چکا ہے کہ صدیوں کا ملک فلسطین کو آج اپنا نام برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے جو تین مذاہب مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے مقدس سرزمین کہلاتا ہے جس کا مرکز یروشلم ہے جس پر مختلف اوقات حملہ آوروں نے قبضے کئے جس کو حضرت عمر ؓ اور صلاح الدین ایوبی نے چھڑوا کر تینوں مذاہب کو اپنی اپنی عبادت کا موقع فراہم کیا تھا جس کے چرچوں کی چابیاں آج بھی مسلمان خاندان کے پاس ہے جس کو عیسائی رہبروں نے متفقہ طور پر نامزد کیا تھا بہرکیف اقوام متحدہ آج کے حالات سے بری الذمہ نہیں ہے جو کچھ آج دنیا میں ہورہا ہے اس کی اقوام متحدہ ذمہ دار ہے جس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں امن کے لئے بڑی طاقتوں کو روکے جس میں وہ بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اقوام متحدہ کا 75سالہ میلہ ہر سال کی طرح منعقد ہوا جس میں دنیا بھر کے رہنمائوں نے شرکت کی ۔لمبی لمبی تقاریر کے علاوہ کچھ نہ ہوا۔ کشمیر اور فلسطین پر کوئی قرارداد منظور نہ ہوئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ کے اراکین میں کتنی بے حسی پائی جاتی ہے کہ دنیا میں کتنا خون بہہ رہا ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں مگر اقوام متحدہ ہر سال آنے والے مہمانوں کو اچھے اچھے کھانے کھلا کر فارغ کر دیتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں منظم جدید نوآبادیات کا نظام قائم ہے جس کے طاقتور ملک جس وقت اور جب چاہتے ہیں کمزور عراق، افغانستان، لیبیا اور شام جیسی ریاستوں کو ہڑپ کر کے اپنے پٹھو حکمران بٹھا دیتے ہیں جس میں پاکستان بھی شامل ہے جس پر پرائی جنگوں کے لئے پاکستان کی منتخب حکومتوں پر جنرلوں کا قبضہ ہوتا چلا آرہا ہے جب امریکہ اور مغربی طاقتوں کو سیٹو، سینٹو کی ضرورت پڑی تو ایوب خان کو استعمال کیا گیا۔ جب روس کے خلاف افغانستان میں واسطہ پڑا تو جنرل ضیاء الحق کا اقتدار پر قبضہ کرایا گیا جب دہشت گردی کی جنگ کا موقع آیا تو جنرل مشرف کو مسلط کیا گیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ صرف اور صرف ایک پٹوارخانہ ہے یہاں ریاستوں کی توڑ پھوڑ الٹ، پلٹ، اٹھک بیٹھک تشکیل اور تحلیل کے علاوہ کچھ نہیں ہے ورنہ اگر اقوام متحدہ طے کر لے کہ اب دنیا کی کسی بھی ریاست پر عوام کی منتخب اور نامزد حکومت کے علاوہ کسی جابر، ظالم، قابض ار غاصب حکمران کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو دنیا بھر کی عوام آزاد ہو جائے چونکہ آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کا فلسفہ سامراجی طاقتور ریاستوں تک محدود ہے جو اپنی اپنی عوام کو آزادی اور خودمختاری دیتی ہیں مگر تیسری دنیا کے غریب اور مفلس عوام کو یہ حق اپنے مسلط کردہ حکمرانوں کے ذریعے چھین لیتی ہے چاہے وہ امریکہ اور برطانیہ اور فرانس ہو یا پھر کوئی دوسری مغربی طاقت سب کو تیسری دنیا کے عوام انسان نظر نہیں آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں کشمیر اور فلسطین نوآبادیاتی نظام میں جھگڑے ہوئے ہیں جس پر کسی مغربی طاقت طاقت کوئی آواز بلند نہیں کرتی ہے جو محسوس کرے کہ انسانوںپر کیا کیا ظلم و ستم ہورہے ہیں۔ بہرحال اقوا م متحدہ کا 75سالہ میلے کا اختتام ہو چکا ہے جس میں سربراہان ریاستوں کا کوئی ایجنڈہ طے نہ ہو پایا۔ ہر سال بیانوں اور طعاموں میں وقت گزر گیا جس میں پاکستان کے ایک نااہل اور ناکام وزیر خارجہ بھی اس نائی کی طرح بھاگتے ڈورتے نظر آئے جو ہر شادی میں عبداللہ بنے ہوتے ہیں جو ایک طرف قرارداد کشمیر کا واویلا مچارہے ہیں دوسری طرف خود اسی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے متحدہ کشمیر کے علاقے گلگت و بلتستان کو صوبہ بنارہے ہیں جس کے بعد پٹھانوں کا آزاد شدہ کشمیر کا علاقہ آزاد کشمیر کو صوبہ بنا لیا جائے گا جس کے بعد ادھر ہم اُدھر تم کشمیر مستقل طور پر بٹ جائے گا۔ کشمیری عوام بھی کورین کی طرح تقسیم ہوکررہ جائیں گے جس میں ویت نام اور جرمن جیسی طاقت نہیں ہے جو دیواروں کو گرا کر اپنا متحدہ کشمیر بن جائے۔