ایران کی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں سے ایران کو زیادہ نقصان ہو گا !!

193

اس ہفتے ایک مرتبہ پھر ایران کی سرزمین سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ایف سی کا اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں ایران کو آگاہ کر دیا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان نے بڑی نرم زبان استعمال کی ہے۔ سوفٹ رویہ رکھا ہے نہ لفظ ’’احتجاج‘‘ استعمال کیا گیا ہے اور نہ ہی ایرانی سفارت کار کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے کیونکہ جو صورت حال افغانستان میں ہے تو ایسے موقع پر ایک نیا محاذ نہ کھولنا ہی عقلمندی کا تقاضہ ہے مگر یہ صورت حال اور احتیاط کب تک چل پائے گی؟حال ہی میں اس سے قبل بھی سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کو جو قتل کیا گیا تھا تو پاکستان نے اس میں ایرانی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے شواہد حکومت چین کو مجبوراً فراہم کئے تھے کیونکہ ان کی ناراضگی دور کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ چائنا کو اصل صورت حال سے آگاہ کر دیا جائے اور ایک بھارتی جاسوس کلبھوشن تو آج بھی پاکستان کی قید میں ہے جسے ایران کی چاہ بہار کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس نے تمام تر تفصیلات سے پاکستانی حکام کو معلومات فراہم کر دی تھیں۔ اس سارے معاملے میں بھی حکومت پاکستان نے ایران کا نام سامنے نہیں آنے دیا تھا۔ اس ہفتے کا واقعہ غالباً پنجشیر میں ہونے والی لڑائی میں تاجک لیڈر مسعود احمد کی شکست اور پسپائی کا ردعمل معلوم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ پنجشیر میں مسعود اور صالح کی حکومت کو ایران کی حمایت حاصل تھی اور ایران نے آئی ایس آئی پر اور حکومت پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہاں پر انہوں نے طالبان کا قبضہ بحال کرنے میں مدد کی تھی۔ بعدازاں افغانی، پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع نے ان خبروں کی شواہد کے ساتھ تردید کی تھی کہ پاکستان کا صوبہ پنجشیر میں مسعود کی پسپائی میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ پاکستان پر ایران کی سرحد پار سے حملوں کے بارے میں ایرانی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ یہ نان سٹیک ایکٹرز ہیں جن کا ایرانی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو گویا اس کا مقصد یہ ہوا کہ ایران کی حکومت کا ان دہشت گردوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے مگر اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک زمانے میں پاکستان کی دہشت گرد تنظیم ’’جنداللہ‘‘ نے پاکستانی سرحد پار کر کے کئی ایرانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا تو جب پاکستان نے کہا تھا کہ یہ نان سٹیک عناصر ہیں اور ہم ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیںتو ایرانی حکام نے دھمکی دی تھی اگر پاکستان ان کی سرکوبی نہیں کر سکتا تو ایرانی میزائل مار کر ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس پر پاکستان نے کہا تھا کہ اگر آپ کو ان کے اہداف کا علم ہے تو ہمیں مہیا کریں ہم ضرور کارروائی کریں گے تو اس وقت پاکستان کو بھی وارننگ دینا چاہیے کہ اگر ایرانی حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو ہمیں ان کے ایران میں ٹھکانے معلوم ہیں اور ہم خود کارروائی کرنے کے اہل ہیں اگر آپ اس معاملے میں نااہل ہیں اس کا ایک حل یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی سکیورٹی اہلکار آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ان دہشت گردوں کی سرگرمیوں اور ٹھکانوں کی بابت معلومات کا تبادلہ کریں۔ دوسرا حل یہ ہے کہ افغانستان کی طرح پاکستانی حکومت ایران کی سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ کی تنصیب کا کام شروع کر دے کہ اس سے قبل کہ اس حوالے سے پاکستان اور ایران کی افواج ایک دوسرے کے سامنے صف آراہوں۔ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی شام، ایران، یمن یا عراق نہیں ہے جہاں پر ایران حزب اللہ جیسی نجی تنظیمیں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا کی افواج کی افغانستان میں بیس سالوں کی ناکامی کے برعکس پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے پاکستان سے ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) جیسی دہشت گرد تنظیموں کا جڑ سے صفایا کر دیا جبکہ ان کے پیچھے انڈیا، اور امریکہ جیسے ممالک کی سپورٹ شامل تھی۔ اگر بقول ایران کے افغانستان میں آئی ایس آئی طالبان کو برسراقتدار لا سکتی ہے تو ایران میں قدامت پسندوں کے مقابلے میں ترقی پسندوں کو کھڑا کر سکتی ہے۔