یہ سانپ اوراژدھے جیسے لوگ! جو ملک کو نگل گئے !!!

62

منظر کچھ اُس عدالت کا جہاں نوسرباز ن لیگ کا جوکر اور اس کا روسیاہ بیٹا حمزہ پیش ہوئے۔ ڈاکٹر رضوان ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ہیں۔ پانچ بڑے کارٹن میں ان دونوں ڈاکوئوں کے کرتوتوں کے ثبوت لے کر پیش ہوئے اور انہوں نے انکشاف کیا کہ ایم سی بی کی دو برانچوں سے منی لانڈرنگ کی گئی ہے ۔ان برانچوں کے مالک میاں منشا ہیں اور ان کے ڈائریکٹر عاصم ثوری اور اظہر محمود ہیں جو برابر اپنے سٹاف کے ان منی لانڈرنگ اور ٹرانزیکشن میں شریک رہے ہیں انہیں ڈرایا ،دھمکایا جارہا ہے اور بیان بدلنے کے لئے کہا جارہا ہے یہ کیس شوگر ملوں سے متعلق ہیں جو حمزہ اور سلمان کی ملکیت ہیں ان کے بیس ملازمین جو گارڈ، سوئپر،چپڑاسی وغیرہ کے نام پر منی لانڈرنگ کی جاتی رہی۔
اس عدالت کے جج صاحبان سختی سے مباحثہ کرنے والے ہیں وہ کسی کے دبائو میں آنے والے نہیں۔ انہوں نے ایم سی بی کے دونوں ڈائریکٹروں سے سوال کیا وہ شوباز کو پہنچانتے ہیں تو دنوں مکر گئے۔ جج نے کہا کمال ہے یہ تین بار چیف منسٹر رہے ہیں آپ انہیں نہیں پہچانتے تو دونوں بغلیں جھانکنے لگے۔ ن لیگ کا جوکر بھی انہیں پہچاننے سے قاصر رہا۔ ہو سکتا ہے 70سال کی عمر میں یادداشت کمزور ہو گئی ہے انہوں نے بھی اپنا رونا گانا شروع کر دیا۔ کینسر کا مریض ہوں۔ یہ لوگ سمجھے ڈرا دھمکا رہے ہیں بدتمیزی سے پیش آرہے ہیں۔ جہاں ان گیدڑوں کے اوپر فرد جرم عائد کرنے کا وقت آتا ہے فوراً بیماریاں حملہ آور ہو جاتی ہیں ورنہ کوئی ان کی سفاری سوٹ اور ہیٹ میں تیز چال دیکھے تو لگے گا کہ کوئی اٹھارہ سالہ نوجوان مارچ کررہا ہے لندن میں جب انہیں کوئی پاکستان دکھائی دیتا ہے تو سر پر پیررکھ کر بھاگتے ہیں۔
رمضان شوگر مل کی چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ افغانستان شوگر نہیں بھیجی جارہی تھی بلکہ خالی ٹرک جاتے اور واپس آتے تھے۔ 20ملازمین کے اکائونٹ کھول کر پیسہ اس طرح گھمایا جارہا تھا کہ معلوم ہو کہ کسی کاروبار میں لین دین کا معاملہ ہے۔ یہ فراڈ ایم سی بی بینک کی دو برانچوں میں کیا جارہا تھا۔ ایک چنیوٹ او ر ایک لاہور برانچ استعمال ہورہی تھیں۔ ان شاطر ذہن لوگوں کو فراڈ کرنے میں مہارت حاصل ہے اور یہ سیاست میں جمے رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی نہ کسی طور پر عہدے برقرار رکھنا ہے، حکومت پر قابض رہنا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ وراثت جیسی پالیسی چلی جارہی ہے۔
عدالتیں جب تک ان دونوں یعنی نواز ٹبر اور زرداری کوسزائیں دے کر نااہل قرار نہیں دے دیتیں تب تک اس ملک کا پنپنا مشکل ہے۔ کوئی بھی کوئی حکومت آئے ان کے گرگے کسی کو چین سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ انہیں جب پکڑا جاتا ہے تو رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ اندر عدالت میں جرائم کی فہرست سنائی جارہی ہے باہر مریم نواز یعنی پھولن دیوی اس صدی کی اعلیٰ مکار جھوٹی عورت کہہ رہی ہے ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ سارے ثبوت موجود ہیں عبوری ضمانتیں ابھی تک منسوخ نہیں ہوئیں۔ یہ لوگ وہ سانپ ہیں وہ اژدھے ہیں جو ملک کو نگل گئے ہیں۔ کیا انہیں زندہ رہنے کا حق ہے؟ یہ پاک سرزمین جسے شہیدوں کے لہو سے سینچا گیا ہے ان ناپاک قدموں کا وجود اب برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ یہاں کی عدالتیں وہ قوانین کیوں نہیں اپنالیتں جو کئی ملکوں نے اپنے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے اپنائے ہیں جب تک مجرمان کو ختم نہیں کیا جائے گا جرم ہوتا رہے گا۔ ماسی کمرہ ٔعدالت میں اورن لیگ کا جوکر اپنی مظلومیت کے راگ الاپ رہا ہے۔ باہر پھولن دیوی کی زرخرید ماسی مصیبتاںاپنے مراثی ٹولے کے ہمراہ موجود ہے اور نعرے لگوارہی ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ زیادتی ہورہی ہے جوکر کو جج صاحبان نے بٹھا دیا ہے کہ آپ بول چکے اب خاموشی سے بیٹھ جائیے۔
خورشید شاہ( پی پی ) کے دو بیٹوں اور دو بیویوں کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ان مجرمان نے عدالت میں ضمانتیں قبل ازگرفتاری کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ اگر یہ درخواستیں خارج کر دی جاتی ہیں تو ان کی گرفتاریاں ہوں گی۔ اگر ان تمام لٹیروں کو عام مجرمان کی طرح جیلوں میں رکھا جائے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں انہیں جو جیلوں میں مراعات حاصل تو یہ وہاں آرام سے پڑے رہیں گے۔ گھر سے مرغن کھانے آتے رہیں۔
نواز شریف کو جب پرویز مشرف نے ملک بدر کیا تو انہوں نے سعودی عرب میں بھی جا کر سٹیل مل لگانے کی بابت سوچ لیا تھا۔ ایک شیخ سے معاملات طے ہوئے تھے مگر شیخ بھی بڑے کائیاں لوگ ہیں وہ بغیر کچھ حاصل کئے کچھ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ سو ان کو شرما حضوری کے لئے مراد شریف نے (والد نواز) کے تجویز پیش کی کہ نواز شریف اپنی بیٹی اسما کی شادی اس شیخ سے کر دیں جو لڑکی سے دگنی عمر کا تھا۔ کم عمر اسما کی قسمت کا فیصلہ ہو گیا اور اسے منظر سے بالکل غائب کر دیا گیا۔ ماں کی بیماری (کلثوم نواز) میں اک دو دفعہ نظر آئی تھی تو معلوم یہ ہوا یہ کہ شیخ کی یہ چوتھی بیوی تھی۔ شیخ کو کوئی ایک دوسری لڑکی پسند آگئی اور وہ اس سے شادی کرنے کے موڈ میں آگئے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پانچ بیویاں وہ نہیں رکھ سکتے سو انہوں نے نواز شریف کی بیٹی کو طلاق دے دی نواز کے منشی اسحاق ڈار نے اپنے سب سے نکمے بیٹے سے اسما کی دوسری شادی کروا دی۔ وہ بیچاری کس حال میں ہے کسی کو اس کے بارے میں معلومات نہیں اور یہ چور ٹبر بھی اس کو کوئی ذکر نہیں کرتا نہ وہ کسی تقریب میں نظر آتی ہے۔