فلپائن: صدر کا سیاست سے سبکدوش ہونے کا اعلان

237

فلپائن کے صدر روڈریگو دوترتے نے کہا کہ وہ 2022 میں نائب صدر کے عہدے پر الیکشن نہیں لڑیں گے اور سیاست سے سبکدوش ہوجائیں گے جس سے ممکنہ طور پر ان کی بیٹی کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا موقع ملے گا۔

پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلپائنی صدر اب بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے 2016 میں ملک کو منشیات سے نجات دلانے کے وعدے پر الیکشن جیتنے کے وقت تھے لیکن آئین انہیں صدارت کی دوسری مدت سے روکتا ہے۔

76 سالہ روڈریگو دوترتے کا کہنا تھا کہ ‘یہ فلپائنیوں کے جذبات ہیں کہ میں اہل ہوں اور نائب صدارت کے لیے انتخاب لڑنا قانونی لحاظ سے آئین کی خلاف ورزی ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج میں سیاست سے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہو’ آمر حکمران نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ مئی میں ہونے والے انتخابات میں ملک کے دوسرے اہم ترین عہدے پر مقابلہ کریں گے۔

تاہم ان کے اس اقدام پر ناقدین نے کہا تھا کہ یہ اعلان اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد انہیں مجرمانہ کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پلس ایشیا ریسرچ کے حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روڈریگو دوترتے نائب صدر کے لیے دوسری ترجیح ہیں۔

سوشل ویدر اسٹیشن کا ایک سروے ظاہر کرتا ہے کہ 60 فیصد فلپائنیوں کا یہ خیال تھا کہ روڈریگو دوترتے کا نائب صدارت کے لیے انتخاب لڑنا آئین کی روح کے منافی ہوگا۔

روڈریگو دوترتے کی جانب سے یہ حیران کن اعلان اس مقام پر کیا گیا جہاں امیدوار کے طور پر ان کی رجسٹریشن کی توقع کی جارہی تھی۔

واضح رہے کہ ان کے قریبی معاون کرسٹوفر لارنس ‘بونگ گو’ نے ان کے بجائے نائب صدارت کے امیدوار کے طور پر خود کو رجسٹر کرایا۔

یاد رہے کہ با رعب صدر نے اب تک اپنے ترجیحی جانشین کا اعلان نہیں کیا زیادہ تر افراد کو ان کی بیٹی سارہ کے جانشین ہونے کی توقع ہے جو حالیہ انتخابات میں سب سے آگے رہی تھیں۔

فلپائن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر جین فرینکو کا کہنا تھا کہ ‘آخری سروے کے نتائج سے انہیں یہ احساس ہو چکا ہے کہ 2022 میں اگر روڈریگو دوترتے اور ان کی بیٹی دونوں الیکشن لڑیں گے تو انہیں شکست ہوسکتی ہے’۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سارہ ممکنہ طور پر فلپائن میں اپنے والد کو مجرمانہ کارروائی سے بچا سکتی ہیں جبکہ عالمی کرمنل کورٹ کے پراسیکیوٹرز ان کی مہلک منشیات جنگ کی تحقیقات کر رہے ہیں، انسانی حقوق کے گروپس کے اندازوں کے مطابق اس جنگ میں ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا۔

تاہم جنوبی شہر دواؤ کی میئر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے والد نائب صدر کے عہدے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ انتخابات نہیں لڑیں گی۔