معاشتی خستگی!

197

عمران کی حکومت کے تین سال پورے ہوئے، عمران نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کئے تھے وہ تاحال پورے نہ ہو سکے، عمران نے اپنے انتخابی جلسوں میں زیادہ تر ایسے وعدے کئے جن کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا، کسی بھی سیاسی جماعت میں کوئی ماہرِ معاشیات نظر ہی نہیں آتا اور سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے اس قدر دبائو میں ہوتی ہیں کہ وزرائے خزانہ کا سارا وقت معاشی حالت پر وضاحتیں دیتے ہی گزر جاتا ہے، ملک بھر میں گنتی کے چند معیشت دان ہیں۔ حکومتیں بادلِ ناخواستہ انہی کے وزیر خزانہ منتخب کر لیتی ہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام میں چلے جاتے ہیں تو ایک ماہرِ معیشت باہر سے آجاتا ہے اور پھر اپنا بیگ اٹھا کر واپس چلا جاتا ہے، ملک کی جامعات میں معاشیات پر کوئی ریسرچ ورک ہوتا نہیں اورنہ ہی کسی حکومت نے معاشی منصوبہ بندی پر توجہ دی، ایوب خان کے بعد معاشیات پر کوئی کام ہوا ہی نہیں، جامعات میں معاشیات کا نصاب بھی معیار کے مطابق نہیں ہے، سو ماہر معاشیات پیدا ہی نہیں ہوتے، پانچ عشروں سے یہ خلاء موجود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی نادیدہ ہاتھ ملکی معیشت کو بہتر کرنے سے روک رہا ہے اور ملک میں لوگ آہستہ آہستہ خطِ غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں، یہ بات تشویشناک ہے جو چند لوگ نظر آتے ہیں ان کا تعلق مڈل کلاس سے ہوتا ہے اور ان کو آسانی سے خریدا جا سکتا ہے اور وہ ذرائع ابلاغ پر آ کر معیشت کی وہ تصویر کشی کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے سب کو چین سے روٹی ملتی ہے معاشیات ترقی کررہی ہے، یہ قوم کے ساتھ دھوکہ ہے معیشت کا تقابل ایسے ملکوں سے کیا جاتا ہے جن کا معیار زندگی بہت بلند ہے اور GDPاچھا ہے اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے تو یہ کہنا آنکھوں میں مرچیں جھونکنے کے مترادف ہوگا، امریکہ میں معیارِ آمدنی زیادہ ہے جس کی وجہ سے قوت خرید بھی بہت بلند ہے۔ پاکستان میں روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں تو ان کی قوت خرید کہاں ہو گی، جب ذرا بھی گیس کی قیمت اونچی ہوتی ہے تو لوگوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اب بھلا پٹرول کی قیمت کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے مگر نام نہاد ماہرین معاشیات عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ مہنگائی ہے ہی نہیں کراچی میں بجلی کے بل پچاس ہزار تک آتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آمدنی چار پانچ لاکھ ہونی چاہیے۔ آمدنی کی یہ سطح بہت کم لوگ چھوتے ہیں، لہٰذا نام نہاد ماہر معاشیات کا یہ کہنا ہے پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں دیگر ممالک سے کم ہیں بہت بڑی علمی بددیانتی ہے۔
عمران نے عوام سے اتنے جھوٹے وعدے کئے اور میڈیا نے ان سے نہیں پوچھا کہ جو وعدے کئے جارہے ہیں وہ قابل عمل ہیں ہی نہیں، عمران خبر بناتے رہے اور میڈیاان کے بیانات کا تجزیہ نہ کر سکا، میڈیا میں یہ اہلیت تھی ہی نہیں، اہلیت ہوتی تو میڈیا عوام کو بتا سکتا تھا کہ جو وعدے کئے جارہے ہیں وہ قابل عمل ہی نہیں، مثلاً یہ بات کہ لوگ پاکستان میں نوکری کی تلاش میں آئینگے یہ سراسر دیوانگی تھی، معاشی گروتھ نواز کے زمانے میں پانچ فی صد سے نیچے تھی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ عمران پانچ سالہ TANUREمیں اس گروتھ کو پندرہ فی صد تک لے جاتے اور ملک اتنا خوش حال ہو جاتا کہ لوگ پاکستان میں روزگار کی تلاش میں آتے، ملک میں انڈسٹری ڈوب چکی توازن ادائیگی بگڑا ہوا اور وسائل بہت محدود تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ملک میں ترقی ہو کہ لوگ تلاشِ معاش میں آئیں، کسی ملک میں پچھلی صدی میں ایسا کبھی نہ ہوا کہ معاشی گروتھ پانچ سے بڑھ کر پندرہ فی صد ہو جائے، مگر شاباش عمران کو کہ اس نے کس ڈھٹائی سے سفید جھوٹ بولا اور اس سے زیادہ شاباش میڈیا کو کہ اس نے پوچھا ہی نہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے خبر بنتی رہی اور اخبار میں جگہ پاتی رہی، اگر عمران اقتدار میں آتے ہی صنعتکاری شروع کر دیتے تو ذرا سی امید بن جاتے کہ شائد عوام کو چین کا سانس آتا کہ روزگار مل رہا ہے آمدنی میں کچھ اضافہ ہو گا اور ان کی قوت خرید بڑھ رہی ہے مگر عمران نے تو شروع سے ہی مرغی انڈے کٹے کی بات شروع کی انہوں نے پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھولنے کی بات کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ان کی سوچ کس قدر اتھلی اور اوچھی اور ان کو معاشیات کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہے حالانکہ سکول یا کالج کا فریش مین بھی بتا سکتا ہے کہ صنعتکاری کے بغیر ملک میں ترقی ایک دیوانے کا خواب ہے جس کی تعبیر مل ہی نہیں سکتی۔
دنیا بھر میں ہر منتخب حکومت اپنے ملک کی معاشی ترقی کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اور ملک کے وسائل کو ترقی دینے کی کوشش کرتی ہے ملک میں صنعت کاری کرتی ہے تعلیم اور صحت پر خاص توجہ دیتی ہے تاکہ عوام کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور ان کی معیار زندگی بلند ہو مگر بدقسمتی سے پاکستان کے کسی حکمران میں معاشی وژن تھا ہی نہیں گو کہ عمران نے عوام کو بہت رنگین خواب دکھائے مگر معاشیات پر توجہ دینے کے لئے نہ تو ان کے پاس کوئی ٹیم تھی اور نہ ہی ان کا مقصد ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانا تھا، بظاہر وہ اپنے منشور کے برعکس طالبانی سوچ لے کر آئے آکسفورڈ سے فارغ التحصیل اور کرکٹ کی دنیا میں پلے بوائے کے نام سے پہچانے جانے والے شخص نے پہلے شلوار چڑھائی سب روشن خیالی اتار کر پھینکی اور عربی پڑھنے حجاب اور نام نہاد اسلامی ڈریس کوڈ کی ترویج شروع کی، پاکستان کے عوام کے ساتھ ہونے والا یہ سب سے قبیح دھوکہ تھا عمران نے اپنی تمام توجہ افغانستان میں مرکوز کر دی، فوج کو اس کی ذہنی صلاحیت کا اچھی طرح علم تھا، باجوہ نے STEERING SEATسنبھالی اور عمران اس کا قیدی بن گیا، سارے فیصلے باجوہ لیتے ہیں ان کو بھی ملک کی معاشی ترقی سے کوئی غرض نہیں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس ملک میں صرف فوج آرام سے تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں یا مولوی جو پاکستان کی UNPRODUCTIVE LABORہے جو کوئی کام نہیں کرتی مگر پیٹ بھر کر کھاتی ہے اس طبقے کو فوج کی سرپرستی حاصل ہے، بدقسمتی سے افغانستان میں اونٹ اس کروٹ نہیں بیٹھ رہا جیسا فوج سوچ رہی تھی عالمی کھلاڑی جن کے افغانستان میں مفاد ہے وہ افغانستان میں دیکھنا چاہتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں، افغانستان بھوک افلاس اور قحط کے دہانے پر ہے چین اور روس اس کی مدد نہیں کر سکتے فوج کے دفاعی تجزیہ نگار کہہ چکے ہیں کہ صرف مغرب افغانستان کو بھوک سے بچا سکتا ہے، اللہ سے نہ دعا کی جارہی ہے اور نہ ہی اللہ کی رحمت برس رہی ہے مگر بھوکے ننگے افغانی اسلامی نظام چاہتے ہیں اور پاکستان ان کی حوصلہ افزائی کررہا ہے خانہ جنگی ہوئی تو افغانی پاکستان میں بزور طاقت داخل ہونگے اور پاکستانیوں کے ہاتھ کا نوالہ چھین کر کھائیں گے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی معاشی خستگی پر اگلے چار عشروں تک قابو نہیں پا سکتا ہے۔