نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ کیوں ملتوی ہوا؟ 5 آئیز تنظیم کا اس سے کیا تعلق ہو سکتا ہے

272

اس وقت پورے پاکستان میں ہنگامہ مچا ہوا ہے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے آخری وقت میں سٹیڈیم میں آنے سے انکار کر دیا جبکہ تماشائی بھی پہنچ چکے تھے۔ سارے انتظامات بھی مکمل ہو چکے تھے۔ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا تھا۔ ملکوں نے دوسرے ملکوں میں جانے سے تو انکار کیا تھا یا ٹیموں کیساتھ کھیلنے سے انکار کیا تھا لیکن ملک میں آ کر اور میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے دورہ ملتوی کرنے کی بات کی ہو۔ اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ عمران خان اس وقت دوشنبہ شہر میں تھے کانفرنس کی وجہ سے ۔جب ان کو خبر دی گئی تو انہوں نے طوری طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو فون کیا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان کا جواب نفی میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت کو خبر ملی ہے ٹیم جب میچ کھیل کر سٹیڈیم سے باہر نکلے گی اس پر حملہ کیا جائے گا جیسا سری لنکن ٹیم پر کیا گیا تھا۔ اس لئے ہم اپنے کھلاڑیوں کی زندگی کا رسک نہیں لے سکتے ہیں۔ پورا ملک اور کرکٹ کی دنیا حیران رہ گئی۔ دوسرے ملکوں کے کرکٹ کے کھلاڑیوں نے ردعمل دینا شروع کیا۔ کرس گیل نے پاکستان آنے کا اعلان کیا۔ سیمی نے تنقید کی۔ خود نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ رمیز راجہ نے اس کو آئی سی سی میں لے جانے کا اعلان کیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے مالی نقصان کی رقم بتائی لیکن ابھی تک نتیجہ نہیں نکلا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے پاکستان آنا تھا۔ اس کے بعد آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ہونا تھا۔ لیکن اب ہر ٹیم کے دورہ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ ٹیم نے کھیلنے سے انکار کیوں کیا اگر آپ اس کا جواب ڈھونڈے کی کوشش کریں تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے اور ایک لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی شروعات نظر آتی ہے یہ صرف دہشت گردی کی واردات کی بات نہیں ہے بلکہ اس خطہ کے لئے بلکہ اس خطے کے ملکوں کے لئے یا ان کے خلاف ایک کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے جو عام بات اخبارات یا خبروں میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ TTPیا تحریک طالبان پاکستان نے اس ٹیم پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی یا بھارتی تنظیم راء نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ٹیم پر حملہ کرنے کی تیاری کی ہوئی تھی یہ خبر لیک کی گئی یا ٹیلیفون کال لیک کروائی گئی تاکہ یہ خبرنیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ثبوت کے طور پر پہنچائی جائے اور ان پر دبائو ڈال جائے کہ وہ دورہ منسوخ کر کے ٹیم کو واپس بلوائیں اور ایسا ہی ہوا ۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق برطانیہ نے بھی اپنی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ پاکستانی کرکٹ کو دوسرا بڑا دھچکہ ہے۔ ویسے یہ بات امید کی جارہی تھی کہ برطانیہ بھی اپنی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دے گا۔ رمیز راجہ کا دوبارہ شدید ردعمل آیا۔ ایک کہاوت بہت مشہور ہے ’’سرمنڈواتے ہی اولے پڑ گئے‘‘رمیز راجہ کے چیئرمین بنتے ہی اتنی مشکلات اور شرمندگی کا سامان کرنا پڑرہا ہے جس کا کوئی حل سمجھ میں نہیں آرہا ہے اب پاکستان کے لئے ایک ہی راستہ بچا ہے یا تو کسی چھوٹی ٹیم بنگلہ دیش یا سری لنکا کو کسی طرح راضی کر کے پاکستان کا دورہ کروانے یا ریٹائرڈ بین الاقوامی سینئر کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائے اور ایک دوستانہ میچ پنڈی اور لاہور یا کراچی میں رکھے جائیں تاکہ سکیورٹی کلیئرنس کا پیغام دنیا بھر کی ٹیموں کو جائے۔
اب دیکھتے ہیں یہ فائیو آئیز یا پانچ آنکھیں کیا ہیں۔ دراصل یہ پانچ ملک ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیااور نیوزی لینڈ ان پانچ ملکوں کی سیکرٹ سروس یا ایجنسیاں آپس میں پیغامات یا معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا میں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی ورنہ وہ بھی پاکستان کو سبق سکھاتے آپ دیکھیں گے آنے والے دنوں میں آسٹریلیا بھی اپنا دورہ منسوخ کر دے گا۔ پاکستان کے لئے جب سے طالبان نے افغانستان میں حکومت سنبھالی ہے اور امریکہ یہاں سے گیا ہے اس خطہ کی اہمیت مغربی ملکوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے چائنہ نے جب سے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے ہیں مزید چائنہ نے افغانستان، ایران سے بھی اپنے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ یہ بات امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کو پسند نہیں آرہی ہے۔ وہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کو سزا دینے کی سوچ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے پاکستان کو مزید FATFمیں گرے لسٹ میں رکھا جائے حالانکہ پاکستان نے سارے پوائنٹس پر عمل درآمد کر لیا ہے۔ ایک نئی تنظیم جو تین ملکوں کی ہے اس کا نام ہے INDO PACIFIC DEFENCE PARTNERSHIPیہ تین رکنی تنظیم ہے اس کے ممبر آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ ہیں۔ یہ سمندر میں چین کا راستہ روکنے اور اس کا اثر کم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہونگے۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے بعد چین سے خائف ہے اور اس کو کسی طرح بھی سپرپاور نہیں ظاہرہونے دینا چاہتا ہے۔ آنے والے دن یہ ایریا بڑی طاقتوں کی جنگ میں تبدیل ہونے جارہا ہے۔