اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت۔۔۔۔۔

171

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اور نیوزی لینڈ کی حکومت، دونوں نے مل کر، پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، پاکستان کو شرمندہ کیا، عین وقت پر، میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے، یہ کہہ کر کھیلنے سے معذرت کرلی کہ انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے، سلامتی کا مسئلہ ہے، اور پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے جواب کا انتظار کئے بغیر، بے شرمی سے اپنا سامان باندھ کر چل دئیے۔
یہ جو سفید فام ہیں ان کا مشترکہ مسئلہ اور ذہنی آزار یہ ہے کہ یہ دوسری رنگت کے لوگوں کے مقابلہ پر اپنے آپ کو انوکھی مخلوق سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے بارے میں وہی غلط فہمی ہے جو یہودیوں کو ہے یعنی یہ کہ وہ اللہ کی خصوصی مخلوق ہیں اور ان کے مقابلہ پر اور انسان اور نسلیں کمتر ہیں۔ اسی خبط میں مبتلا نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اور حکومت نے پاکستان کی کرکٹ کی دنیا کو حیران و پریشان چھوڑ کر وہاں سے فرار ہونے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی۔ عمران خان نے خود نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کو فون کرکے ان سے التجا کی کہ وہ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو شرمندہ نہ کریں، پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں، انہیں یقین دلایا کہ پاکستان میں سلامتی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آخر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم دو ہفتے سے پاکستان میں تھی، پریکٹس کررہی تھی، خود کو پاکستان کی کرکٹ کی فضا سے ہم آشنا کررہی تھی، اسے کچھ نہیں ہوا تھا لیکن عمران خان کی التجا صدا بصحرا ثابت ہوئی،،ان کی ہم منصب ٹس سے مس نہیں ہوئیں کیونکہ ان کے ذہن میں بھی تو وہی خناس ہے کہ سفید چمڑی والی جانیں کوئی عام نہیں ہیں، وہ خدائی مخلوق ہیں اور بقیہ نسلوں سے الگ کوئی چیز ہیں۔
بد تہذیبی کی روایت اب مغربی معاشروں کی پہچان بنتی جارہی ہے بلکہ بن چکی ہے اور اس کی بنیاد میں جو اینٹ ہے وہ یہی خناس ہے، ذہنوں کا فتور، کہ ان کی جانیں بقیہ دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ قیمتی ہیں اور غریب ملکوں کے عوام تو کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں مسل دینا کوئی بات ہی نہیں ہے۔ اچھا ہے حشرات الارض جتنے کم ہوں اتنا ہی مہذب دنیا کیلئے بہتر ہے۔
امریکہ بہادر تو اس معاملہ میں اور بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ افغانستان سے ذلیل اور خوار ہوکر نکلتے نکلتے بھی وہ نہ جانے کتنے مجبور افغان عوام کو موت کی نیند سلاآئے۔ تیس اگست کو آخری امریکی فوجی افغانستان سے نکلا لیکن اس سے ایک دن پہلے ایک بیگناہ افغان کنبے پر بزدلوں کا وہ ہتھیار بیدریغ آزمایا گیا جس کیلئے امریکہ کی خاص شہرت نائین الیون کے سانحہ کے بعد سے چلی آرہی ہے۔ یعنی ڈرون کا حملہ جس نے گذشتہ بیس برس میں پاکستان کے قبائلی علاقہ میں نہ جانے کتنے ہزار بیگناہوں کی موت کی نیند سلادیا۔ کابل میں بھی 29 اگست کو دہشت گردوں کے خلاف مبینہ کارروائی میں یہ بزدلانہ ہتھیار استعمال ہوا لیکن دس جانیں کن کی گئیں؟ ایک ایسے افغان کنبے کی جس کا سربراہ برسوں سے امریکی افواج کی خدمت کرتا آیا تھا۔ اسے اس کی کارکردگی کا یہ انعام ملا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی موت کے سپرد کردیا گیا۔ مرنے والے معصوموں میں سات بچے بھی تھے جن میں سے سب سے کم عمردو برس کا تھا۔
بیس دن کی تحقیق کے بعد امریکہ کی سنٹرل کمان کے سربراہ جرنیل نے دنیا کے سامنے اعتراف کیا کہ مارے جانے والے افغان شہری، دہشت گرد نہیں تھے بلکہ بیگناہ تھے۔ انہوں نے تو اپنی طرف سے ایک رسمی سوری کہہ دیا اور سمجھے کہ ان کا کام پورا ہوا اور اب ان کی یا ان کے ملک کی کوئی ذمہ داری نہیں، معافی مانگنے کا دستور تو ویسے بھی مغربی حکومتوں کی تہذیب میں نہیں ہے اور رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے لہذا اس کنبے کے رشتہ داروں یا اقربا ء سے معافی چہ معنی دارد۔ اور رہی طالبان حکومت سے معذرت یا معافی کی بات تو اسے تو تسلیم کرنے کیلئے امریکہ بہادر اور ان کے مغربی حلقہ بگوش فی الحال بالکل آمادہ نہیں ہیں سو بات کرنے یا معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہاں، دوسری طرف، طالبان حکومت کو ناکام کرنے کی قابل مذمت مہم میں مسلسل پیش رفت ہورہی ہے۔ مغرب کے ارادے ڈھکے چھپے نہیں وہ افغانستان کو ترسا ترسا کر مارنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ جنگ کے میدان میں تو طالبان نے انہیں نیچا دکھادیا لیکن اب مغربی حریف، ہارے ہوئے جواریوں کی طرح یہ آخری پانسہ پھینک رہے ہیں کہ افغانستان کے جو دس ارب ڈالر امریکی بینکوں میں جمع ہیں انہیں نہ نکلنے دیا جائے۔ جواز یا بہانہ یہ ہے کہ جب تک طالبان امریکہ اور امریکی چیلوں کی پسند کی حکومت نہیں بناتے نہ ان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی افغانستان کا دبایا ہوا پیسہ انہیں لوٹایا جائے گا۔اللہ اللہ خیر صلا۔
بے شرمی اور اپنے دامن کو پاکیزہ اور پوتر سمجھنے کا خناس ایسا ہے کہ مغربی حکومتیں اور ان کے پروردہ گماشتے اس کھلی ہوئی دھاندلی، بد دیانتی اور بلیک میل کو اپنی پالیسی کی کلید اور جواز بناکر پیش کررہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس چور اشرف غنی کے اقوام متحدہ میں سفیر کو، جو افغانستان کا خزانہ خالی کرکے اسے اپنے ہمراہ دبئی لے گیا، مغرب آج بھی افغان حکومت کا نمائندہ تسلیم کرتا ہے اور مُصر ہے کہ اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نشست پر یہی اشرف غنی کا گماشتہ ڈٹا رہے۔ سچ ہی تو کہا تھا بزرگوں نے کہ’’ جسے پیا چاہے وہی سہاگن‘‘
اور تو اور، جہاں ایک طرف طالبان حکومت کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ اور میڈیا رات دن مفسدانہ اور شر انگیز پروپیگنڈا کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے میں مصروف ہیں وہاں افغانستان کے حلیف پڑوسیوں کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ سازشی کارروائیاں بھی ہورہی ہیں۔ اس مہم میں خاص نشانے پر پاکستان اور چین ہیں۔ پاکستان کے خلاف تو یہ شکایت ہے کہ پاکستان کی مدد سے طالبان نے حیرت انگیز سرعت اور کامیابی کے ساتھ سامرجیوں کے پاؤں اپنی سرزمین سے اکھیڑے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے ایک طرف تو طالبان کی سرپرستی کی دوسری طرف امریکہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ یہ سب باتیں اس زمرے میں آتی ہیں جس کیلئے ہماری زبان میں ایک جملہ ہے جو ہارے ہوئے بے شرموں کی تصویر کھینچ دیتا ہے: کسیانی بلی کھمبہ نوچے۔
لیکن پاکستان سے خطرہ پھر بھی سامراج کو اتنا نہیں ہے جتنا چین سے ہے سو چین کے خلاف اب مغربی سامراجی جتھہ بنارہے ہیں۔ دنیا کے سب سے چالاک اور چالباز سامراجی، یعنی کبھی کے گریٹ برطانیہ، اور حالیہ سب سے بڑے سامراجی، امریکہ نے اچانک یہ اعلان کیا کہ دونوں، نئے اور پرانے سامراجی، اپنی پخ، آسٹریلیا، کو ایٹمی آبدوزیں فراہم کرینگے تاکہ چین کی طرف سے لاحق مبینہ خطرہ کا سد باب کیا جاسکے۔ چین نے آج تک کسی ملک کی سالمیت کو چیلینج نہیں کیا جبکہ یہ مغربی سامراجی جب جی میں آتا ہے کسی کمزور ملک کی خود مختاری اور حاکمیت کو خاطر میں لائے بغیر دندناتے ہوئے اس میں گھس جاتے ہیں، معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں، اس ملک کے وسائل کو لوٹتے ہیں اور پھر وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں اسے مکمل طور سے تباہ کردینے کے بعد جس کی تازہ ترین مثال افغانستان ہے۔ لیکن الزام چین پر ہے کہ وہ آسٹریلیا کیلئے خطرہ بن گیا ہے اور اسے آنکھیں دکھا رہا ہے۔
مغربی سازشیوں سے تو خدا ہی نمٹے گا۔ مشکل یہ ہے کہ سامراج اتنا بے شرم ہوچکا ہے کہ اب اسے غیرت کے نام سے کچھ نظر نہیں آتا تو ان کیلئے جو قرآن کی زبان میں آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے ہوجاتے ہیں سبق سکھانے کیلئے قدرت بھی نئے وسیلے فراہم کردیتی ہے۔ لیکن فی الحال ہمارے پاکستان کیلئے افغانستان کے حوالے سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ طالبان بظاہر کسی مشورہ یا دانائی اور حکمت کی بات کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں دکھائی دیتے۔ پاکستان اور ہر دوست ملک کی طرف سے مشورہ یہی ہے کہ طالبان اپنی حکومت کو سازشیوں کی دستبرد سے محفوظ بنانے کیلئے برائے نام ہی سہی پشتونوں کے علاوہ دیگر افغان نسلوں کو بھی حکومت میں جگہ دیں، جو ان سے منحرف ہیں ان اقلیتوں کو رام کرنے کیلئے انہیں نمائندگی دیں تاکہ ایک طرف تو ان کی حکومت کو زیادہ پذیرائی ملے اور دوسری طرف مغربی سازشیوں کا پھن بھی کچلا جاسکے جو عورتوں کے حقوق کا نعرہ لگا کر طالبان کے خلاف محاذ کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اپنے معاشروں میں ان کے خواتین کا کیا احترام ہے یہ دنیا جانتی ہے لیکن شر پھیلانے کیلئے یہ سامراجی کسی حربے سے گریز نہیں کرتے۔
سو طالبان کیلئے بھی یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے سخت رویہ میں لچک پیدا کریں۔ جنگ لڑنے کیلئے جو ہتھیار میدان جنگ میں کارآمد ہوتے ہیں وہ سیاست اور سفارت کاری میں کام نہیں دیتے۔ طالبان نے سامراج کا پھن کچلنے میں جس شاندار مہارت اور جسارت کا ثبوت دیا ہے وہ اپنی جگہ قابلِ ستائش ہے لیکن اب ضرورت اس کی ہے کہ حکومت کرنے اور اسے استحکام بخشنے کے کام کو فوقیت دی جائے اور ایسی پالیسیوں کو اختیار کیا جائے جس سے اپنے عوام بھی مطمئن ہوں اور سامراجی شر کو پھیلنے اور زہر پھیلانے سے اپنے ملک اور اپنی قوم کو بچایا جاسکے۔ ہوسکتا ہے کہ طالبان کیلئے یہ کڑوی گولی ہو لیکن مرض سے چھٹکارا پانے کیلئے اسے حلق سے نیچے اتارنا ہی ہوگا۔؎
؎دیکھیں کیا گذرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک!!