یوٹیوب کی دنیا!!

289

آج دنیا میں ہر چیز اتنی تیزی سے بدل رہی ہے جتنی پہلے کبھی نہیں بدلی تھی۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہر شعبے میں ہر چیز اتنا تیز چل رہی ہے کہ جو پچھلے ہزاروں سال میں کبھی نہ چلی تھی۔
دنیا میں سب سے پہلے الیکٹرونک ٹی وی سیٹ سان فرانسسکو میں سات ستمبر 1927ء کو دیکھا گیا تھا جو اکیس سالہ ٹیلر فارنس ورتھ نامی لڑکے نے بنایا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ چودہ سال کی عمر تک تو ٹیلر کے گھر میں بجلی ہی نہیں تھی۔ ٹی وی کو عام ہوتے ہوتے کئی سال لگے۔ پاکستان آتے آتے 1967-68ء ہو گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے بعد دوسرے چینلز آنے میں لگ بھگ 33سال لگے یعنی 1991ء، لیکن آج کی دنیا بہت تیزی سے چل رہی ہے اور یہ ’’یوٹیوب‘‘ کی دنیا ہے۔
یوٹیوب 2005ء کو شروع ہوا یعنی صرف سولہ سال پہلے لیکن آج دو ملین لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو بہت زیادہ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں یعنی صرف سولہ سال میں یہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھنے والا ویڈیو نیٹ ورک بن گیا۔ اس سے پہلے اگر کسی بھی ٹی وی چینل کو اگر دنیا میں بیس سے تیس ملین لوگ دیکھ لیتے تو اسے بہت بڑا نیٹ ورک مانا جاتا تھا۔
آج 300گھنٹے ویڈیوز کو ہر منٹ یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے یعنی کہ ایک دن میں جتنا مواد یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے اتنا دس سال میں امریکہ کے سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک کو ملا لیا جائے تو پھر بھی نہیں ہوتا ہے جتنے یوٹیوب پر ایک دن میں ہوتا ے۔
آج دنیا میں روز ایک بلین گھنٹے کی ویڈیوز یوٹیوب پر دیکھی جاتی ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو یوٹیوب استعمال کرنے والے دو بلین میں سے تیس ملین ایسے ہیں جو روز یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے دس سال سے پچاس سال کی عمر کے لوگوں میں سے دس میں سے آٹھ لوگ ایسے ہیں جو ہر مہینے یوٹیوب پر کچھ نہ کچھ ضرور دیکھتے ہیں۔
2025ء تک 32سال کی عمر کے آدھے سے زیادہ لوگ ایسے ہوں گے جو کسی بھی ٹی وی سروس کیلئے کوئی ادائیگی نہیں کریں گے اور وہ یو ٹیوب پر ہی سب پروگرام دیکھیں گے۔ آج بھی دس میں سے چھ لوگ ایسے ہیں جو لائیو ٹی وی دیکھنا پسند نہیں کرتے بلکہ آن لائن ویڈیوز دیکھتے ہیں جو کہ لائیو پروگرامز کی ریکارڈنگز ہوتی ہیں۔
ہر مہینے یوٹیوب پر دیکھے جانے والے گھنٹے 35ٹریلین سے زیادہ ہیں۔ یوٹیوب پر ویڈیوز بنانے والے خود سٹار بن چکے ہیں۔ 10,113یوٹیوب ویڈیوز ایسی ہیں جوایک بلین ویوز ہر مہینے Generateکرتی ہیں۔ یو ایس اے میں 300ملین لوگ رہتے ہیں اس لئے یوٹیوب امریکن ہونے کے باوجود80فیصد یوٹیوب ویوز امریکہ سے باہر سے آتے ہیں۔
50فیصد سے زیادہ یوٹیوب اپنے موبائل فون پر دیکھتے ہیں اور یہ اعداد و شمار ہر سال بڑھتے جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ موبائل فون بنانے والی کمپنیاں اپنے سکرینز کو بہتر سے بہتر بناتی جارہی ہیں اور وہ ایسا اس لئے کررہی ہیں کیونکہ یوٹیوب دیکھنے والے لوگ کم سے کم چالیس منٹ فون پر یوٹیوب دیکھتے ہیں۔
یوٹیوب استعمال کرنے والوں میں 38فیصد خواتین اور 62فیصد حضرات ہیں۔ یوٹیوب کی شہرت ہر سال 60فیصد بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت اٹھارہ سے پچاس سال کے لوگ جن کے پاس کیبل ٹی وی ہیں وہ بھی یوٹیوب پر ریکارڈ کیے ہوئے پروگرام دیکھتے ہیں جبکہ عادتاً وہ کیبل ٹی وی کیلئے آج بھی پے کررہے ہیں۔
یوٹیوب کو آپ 76مختلف زبانوں میں سرچ کر سکتے ہیں۔76فیصد زبانیں 95فیصد لوگوں کو کور کر لیتی ہیں جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اسی وجہ سے یوٹیوب 88ممالک میں آفیشلی ان کی زبانوں میں لانچ کیا گیا جس پر سرچ رزلٹ اس ملک کے حساب سے دیکھتے جاتے ہیں۔
اپنی بزنس کو ترقی دینے کیلئے 9فیصد چھوٹی بزنسز، یوٹیوب کو استعمال کرتی ہیں یوٹیوب پر لوگوں کے پاس اتنی چوائس ہوتی ہے کہ بیس فیصد لوگ ویڈیو پلے کرکے دس سیکنڈ میں ہی اگلی ویڈیو پر سوئچ کر جاتے ہیں۔ اسی لئے جو لوگ ویڈیو بناتے ہیں انہیں خیال رکھنا چاہیے کہ ویڈیو کا شروع کا حصہ سب سے زیادہ اچھا ہو ۔اتنے بڑے یوٹیوب کو چلانے کیلئے گوگل کمپنی جو یوٹیوب کی مالک ہے اُسے 63بلین ڈالرز خرچ کرنے ہوتے ہیں۔ یوٹیوب کو 2006میں گوگل نے صرف 1.65بلین میں خریدا تھا۔ یوٹیوب کے ریونیو ہر سال 50فیصد سے باہر آرہے ہیں کیونکہ آج زیادہ سے زیادہ لوگ یوٹیوب کیلئے ویڈیوز اور Adsبنارہے ہیں اور چلارہے ہیں۔
’’Ryan Toy Reviews‘‘ایک چھ سالہ بچے کا یوٹیوب چینل ہے جس کی آمدنی 2017ء میں یوٹیوب سے گیارہ ملین ہوئی تھی۔ یہ یوٹیوب سے اب تک 30ملین ڈالرز کے لگ بھگ کما چکا ہے۔ Dan TDMنام کے ویڈیوز گیم نے 2017ء میں 16.5ملین ڈالرز کمائے، اپنی گیم کی ویڈیو دکھا کر۔
وی چینلز جو ایک لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہر سال کماتے ہیں یوٹیوب پر اس وقت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح adsبھی 40%ہر سال بڑھ رہے ہیں۔ یوٹیوب دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو پلیٹ فارم ہے اور حیران کن طور پر آسان بھی کوئی بھی ایک فون پر آرام سے اپنی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر سکتا ہے، کامیاب ہونے کی کوشش انسان ہمیشہ کرتا ہے ہزاروں سالوں سے، پچھلے سو سالوں کو ہی دیکھ لیں تو بلین آف لوگ یہ تمنا کرتے چلے گئے دنیا سے کہ وہ اپنے آپ کو ٹی وی پر دیکھ پائیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہر انسان اگر وہ چاہے تو کچھ کر کے دکھا سکتا ہے۔ وہ یوٹیوب پر کر کے دکھاسکتا ہے۔
دنیا تیز چل رہی ہے یوٹیوب کے ساتھ۔۔آپ بھی چلئے!!۔