کیا طالبان کا عورتوں کے ساتھ رویہ اسلامی ہے؟

214

صاحبو! ہمارے افغان بھائی ایک طرف تو خوش ہیں کہ انہوں نے غیر ملکی قابضوں سے جان چھڑا لی، لیکن دوسری طرف انکو پاکستان کی آزادی کی طرح، ایک بھوکی اور افلاس زدہ قوم مل گئی۔ خزانے خالی اور نظام حکومت غیر فعال۔ ایک طرف انہیں اپنے کئے ہوئے وعدے نے جکڑ رکھا ہے کہ ملک میں شرعیہ نافذ کریں گے، دوسری طرف انہیں ان بیرونی ممالک کے مطالبات درپیش ہیں جو اس شرعیہ نظام کو نہیں سمجھتے۔سوال یہ ہے کہ افغانستان ایک انتہائی سنجیدہ بحران سے دو چار ہے۔ اسے جو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے وسائل چاہیٔں، وہ جن لوگوں نے دینے ہیں وہی ان سے نظام شرعیہ کی دوسری تفسیر چاہتے ہیں ۔اگر دنیا کے سر کردہ مسلمانوں نے اپنے مذہبی مشائخ کے ذریعے، افغان ملائوں کو شرعیہ کی صحیح تفسیر سے آگاہ نہیں کیا، اور انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں میں مروجہ اسلامی رسومات اور طریق زندگی سے آگاہ نہیں کیا تو وہ اپنے عقاید کے حصار سے مجبور بے اندازہ تکالیف کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسا وقت بھی آ جائے جب لوگ کھلی بغاوت پر اتر آئیں اور اسلام کو اپنے لیے ایک عذاب نہ سمجھنے لگیں؟ اگر طالبان عورتوں سے متعلق اسلامی احکامات کی وہی تفسیر کر لیں جو دنیا کے دوسرے اسلامی ملک کرتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے ملک کو تباہی سے بچا کر ترقی کی شاہراہ پر ڈال لیں۔ لیکن اس کام میںانہیں اسلامی برادری کی راہنمائی کی اشد ضرورت ہے اور وہ ضرورت آج ہے، کل نہیں۔
سوال یہ ہے کہ طالبان نے جو شرعیہ کے نفاذ کا راستہ اپنایا ہے، کیا وہی صحیح راستہ ہے؟ عورتوں کو گھروں میں بند رکھنا، لڑکیوں کو سکول جانے سے روکنا، مکمل پردہ پراصرار، وغیرہ ؟ افغانستان کے مسلمان کیا دنیا سے فرق ہیں؟ تعلیم کے لحاظ سے افغانستان دنیا کے نا خواندہ لوگوں میں سر فہرست ہے۔ کیا یہی ہمارا دین سکھاتا ہے؟ یقینا نہیں۔اگر ہم ملائوں کی یہ بات مان لیں کہ قران اور حدیث میں جب علم حاصل کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں، تو اس علم سے مراد دینی علم تھا۔ دنیاوی علوم نہیں۔اول تو یہ تشریح ہمارے علماء کی نہیں تھی۔ اگر مسلمان اس تشریح پر عمل کرتے تو ان میں نہ ایک ڈاکٹر ہوتا، نہ انجیئنرر، نہ معمار، نہ سائنسدان، نہ ریاضی دان، کیمسٹ، فزسسٹ، وغیرہ۔ یہ تو اکثرمسلمانوں نے اس تشریح کوطاق میں رکھا، تو کچھ ترقی کی۔ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کاروبار زندگی میں حصہ لیا، انڈونیشیا سے لیکر ایران تک، ملائشیا اور بنگلہ دیش میں، مصر، مراکش، اور الجزائر تک۔ کڑوڑوں عورتیں نہ صرف تعلیم حاصل کرتی ہیں، ان میں سے جو چاہیں، تو ملازمت، یا ذاتی کاروبار بھی کرتی ہیں۔ اور کئی حج کی سعادت بھی حاصل کرتی ہیں۔
قران مجید اللہ کی کتاب ہے اس میں مسلمانوں کے لیے کھلے کھلے احکامات لکھ دئیے ہیں۔ جن میں کوئی ابہام نہیں۔عورتوں کو بتایا گیا کہ جب مسلمان عورتیں گھر سے باہر نکلیں تو چادر اوڑھ لیا کریں تا کہ کفار سمجھ جائیں کہ یہ عورت مسلمان ہے اور اس سے تعرض نہ کریں۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ مسلمان عورت گھر سے باہر ہی نہ نکلے۔ اب قران کی اس نص کے خلاف آپ کوئی حدیث لے آئیں گے تو اس کی کیا حقیقت ہو گی؟ اب سوچیں کہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں سب مسلمان ہیں ، تو وہاں اس حکم کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ لیکن کیا کہا جائے کہ علمائے دین نے احادیث سے وہ وہ تاویلات نکالیں کہ عقل عش عش کرے۔
لیکن شاید افغانستان کے مسلمانوں کو اسلام کی زیادہ سمجھ ہے، اس لیے کہ انکو پڑھانے والے ہند و پاک کے جید علماء، جو غالباً دیوبندی فقہ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اسلام کی جو تفسیر افغان طلباء کو دی، وہ باقی دنیا کے مسلمانوں سے فرق تھی۔ لیکن کیا انہوں نے عورتوں کو دنیاوی تعلیم سے محروم رکھ کر سوچا کہ اگر کوئی عورت ڈاکٹر نہیں ہو گی، تو جب کوئی حاملہ عورت بچہ نہ پیدا کر سکے اور اسے آپریشن کی فوری ضرورت ہو تو کیا کسی مرد ڈاکٹر سے آپریشن کروانا جائز ہو گا؟ یا ہم اسلام کی غلط تفسیر کو پکڑ کر بیٹھے رہیں گے؟ اور عورت کو تکلیف سے مرنے دیں گے؟جو ایک طرح کا قتل ہو گا۔اللہ کے رسول نے کہا کہ علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ علم سے مراد صرف دینی علم تھا۔ ورنہ جب کہا گیا کہ علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جائو۔ تو چین میں آپ کونسا دینی علم ڈھونڈ نے جاتے؟
اب افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے سے جو حالات پیدا ہو رہے ہیں، اگر وہ بتدریج خراب ہوتے رہے تو افغانستان میں قحط پڑنے کا شدید اندیشہ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن طالبان بضد ہیں کہ ان کے شریعیہ قوانین کا سارا زور عورتوں اور لڑکیوں کو پردے کا پابند کرنے پر ہے۔ کیا اللہ کی کتاب میں اور سماجی ضروریات کا ذکر نہیں ہے؟ قران مجید میں کھلے الفاظ میں کاروبار میں ایمانداری کا ذکر ہے، کیا طالبان کی حکومت اس پہلو پر بھی توجہ دے گی؟
قران مجید کی ۱۳ سورۃ کی آیت ۱۱ میں اللہ تعلیٰ کا فرمان ہے کہ ’’بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کریں‘‘۔ غالباً افغان بھی قران کی تلاوت کرتے ہیں لیکن اس کے مفہوم کو جانے بغیر، اور نہ ہی ان کے اساتذہ ان کو تلقین کرتے ہیں کہ قران کو سمجھے بغیر پڑھنا ثواب تو ہے لیکن اس کا مقصد نہیں۔اسی بات کا ذکر اللہ کی کتاب میں ۴۷ سورۃ کی ۲۴ ویں آیت میں ہے:’’ کیا یہ لوگ قران پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔‘‘ راقم کو تو مذہبی علوم کی واجبی سی سمجھ ہے، لیکن ان علماء کی کمی نہیں جو طالبان کو قران اور سنت کی روشنی میں سمجھا سکتے ہیں کہ عورتوں پر کس حد تک پابندیاں ڈالی جا سکتی ہیں۔
پاکستانیوں، جب طالبان کی فتح پر بغلیں بجا بجا کر تھک جائو، توکچھ زمینی حقائق پر بھی توجہ دینا شروع کرو۔ افغانستان میں حالات کی وجہ سے قحط کے آثار نظر آنے شروع ہو چکے ہیں۔ کابل میںحکومت کا قیام اس بات کی گارنٹی نہیں کہ وہ حکومت بیرونی امداد کے بغیر عوام کی غذائی ضروریات مہیا کر سکے گی؟ عمومی لحاظ سے عوام ٹیکس نہیں دیتے اور نہ دینے کے قابل ہیں۔ بڑے شہروں میں جو تاجر حضرات ہیں وہ نقد میں سودے کرتے ہیں، جس میں حکومت کو ٹکہ نہیں ملتا۔
ایک اندازے کے مطابق ، افغانستان کی نوے فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے رہتی ہے یعنی دو ڈالر فی کس روزانہ کی آمدنی۔کیونکہ ملک میں فیملی پلاننگ کا رواج نہیں، یہ آبادی تیزی سے بڑھتی رہے گی اور اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق چار کڑوڑ سے بڑھ کر سن 2084 تک7.7کڑوڑہو جائے گی۔موجودہ آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آبادی کا رحجان تیزی سے بڑھنے کا ہے۔تقریباً سب افغان مسلمان ہیں۔اگرچہ ان کی قومیتیں مختلف ہیں۔سب سے زیادہ پشتون ہیں اس کے بعد تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمین، وغیرہ۔۱۰ سے ۱۹ فیصد شعیہ ہیں اور باقی سنی۔
اب تک تو امریکی امداد پر ہی ملک چل رہا تھا۔بالفرض محال، اگر امریکی اور انکے اتحادی، کسی طور، افغانیوں کی امداد پر راضی ہو بھی جاتے ہیں، تو بھی افغانستان کو کئی سالوں تک امداد کی ضرورت رہے گی۔اور پھر، جیسا کہ تاریخ شاہد ہے، اس کے ساتھ کرپشن اور وسائل کی بانٹ پر رسہ کشی شروع ہو گی۔ عین ممکن ہے کہ ملک پھر خانہ جنگی کی طرف چلا جائے۔اسی لیے مشرق کے حکیم الامت نے افغانیوں کو مشورہ دیا تھا: قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گُم۔ کہ ہو نام افغانیوں کا بلند۔ جب تک افغانی قبائل میں تقسیم رہیں گے، وہ ایک قوم نہیں بن سکیں گے۔ اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن نا ممکن بھی نہیں۔
فرض کیجئے کہ آئین پاس ہو گیا، حکومت بن گئی۔ اور بیرونی امداد شروع ہو گئی ، تو کیا افغانی لڑکیوں کو تعلیم دلوانا شروع کر دیں گے؟ خود ساختہ شرعیہ قوانین کو پسِ پشت ڈال دیں گے؟ ہر افغانی گھر میں لیٹرین بنوائیں گے؟ کیا ملک میں صنعت و حرفت کی داغ بیل ڈالیں گے؟ انصا ف کا جدید نظام لائیں گے؟ پارلیمنٹ کو فعال بنا کر اہم قانون سازی شروع کریں گے؟آزاد صحافت کو برداشت کریں گے؟ پاپی اُگانا بند کریں گے جس سے سارے یوروپ کو کوکین مہیا ہوتی ہے؟ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کردیں گے، تا کہ سیاحت کو فروغ ملے اور بیرونی سرمایہ کاری ہو؟ لگتا تو نہیں، پر شاید؟
افغانستان کی معیشت کا ایک پہلو غیر رسمی ہے، جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ اس میں زراعتی پیداوار کا بڑا کردار ہے۔ کالم نگار عتیق صدیقی ایک امریکن کتاب کا حوالہ دیکر فرماتے ہیں :’’کابل پر قبضہ سے پہلے ہی طالبان اپنے ملک کے اہم ترین ذرائع آمدن پر قبضہ کر چکے تھے۔ اس ملک کے تجارتی راستے، شاہراہیں،پل، اور زیر زمین معیشت ، ۔۔۔ اس ملک کے زرخیز ذرائع اور چین، روس، ایران اور پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے کی ضرورت، طالبان کو مغربی ممالک کا دست نگر نہیں بننے دے گی۔۔۔‘‘ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور طالبان ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔