اسلام میں خواتین کا مقام!

209

حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، حضرت بی بی فاطمۃ الزہرہ اور حضرت بی بی زینب کے اقوال، اعمال اور کردار کے بعد کوئی شک نہیں باقی رہتا ہے کہ اسلام میں خواتین کا وہ مقام ہے جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو آلِ رسولﷺ کہلاتی ہیں جن کے اقوال، اعمال اور کردار پر مسلمان فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ جو حضور پاک ﷺ کی زوجیات، بیٹیاں اور نواسیاں ہیں۔جنہوں نے آپ ﷺ سے تربیت، تعلیم اور علم حاصل کیا تھا۔ حضرت خدیجہؓ قبل از اسلام اور بعد ازاں اسلام ایک تاجر خاتون تھیں۔ جن کا کاروبار مکہ سے شام اور یمن تک پھیلا ہوا تھا۔ جن کی حضور پاک ﷺ نے ملازمت اختیار کی تھی جس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ سے شادی کی۔ چنانچہ شادی سے پہلے اور بعد میں بھی حضرت خدیجہ کی تجارت جاری رہی جس کا دین اسلام کے پھیلائو میں بہت بڑا کردار رہا ہے۔ لہٰذا حضور پاک ﷺ جو پیدائشی نبی ہیں جو اللہ پاک کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کہا کرتے تھے جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی کی مخالفت کی۔ شرک سے منع کیا۔ لوگوں میں مساوی انصاف فراہم کرنا اپنا فریضہ سمجھا۔ ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی۔ غلاموں، غریبوں، بے کسوں، بے سہاروں کا سہارا بنے۔ لوگوں میں صادق و امین مشہو ہوئے۔ اپنی ایمانداری اور دیانتداری کی وجہ سے حضرت خدیجہ ؓ کو پسند آئے جن کی وجہ سے ان کا کاروبار دن دگنا اور رات چوگنا ہوا جنہوں نے متاثر ہو کر آپ ﷺ سے شادی کی درخواست کر دی جس کو حضور پاک ﷺ نے قبول فرمایا حالانکہ حضور پاک ﷺ اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا جو پہلے سے شادی شدہ بھی رہی تھیں لہٰذا حضرت خدیجہؓ نے حضور پاک ﷺ سے شادی کے بعد بھی تجارت جاری رکھی۔ جب حضرت خدیجہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں تو حضور پاک ﷺ نے دوسری شادیاں کیں جن میں حضرت عائشہ صدیقہ کا نام سرفہرست ہے جب حضور پاک ﷺ ظاہراً اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صحابہ کرام حضرت عائشہ ؓ سے مشورہ جات۔ روایات اور حضور پاک ﷺ کے فرمودات وصول کیا کرتے تھے جو آپ ﷺ کے بعد صحابہ اکرام کی مشیر بن گئیں تھیں جن کے اقوال اور اعمال مصدقہ تصور سمجھے جاتے تھے۔ جن سے لوگ حضور پاک ﷺ کے حالات، واقعات اور فرمودات سن کر مستفید ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ کو اپنے چاہنے والوں کی کمان کرنا پڑی چاہے وہ جنگ منافقوں اور دشمنوں کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ جس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کی دشمنی سامیوں کی شکل میں ہمیشہ قائم رہی ہے جس کی وجہ سے تاریخ اسلام میں شک و شبہات پیدا کئے گئے ہیں۔ یہی حال حضور نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرہ کا ہے کہ جنہوں نے جنگوں میں مردوں کی مرہم پٹی کی تھی یا پھر حضرت زینب ؓ نے کربلا کے میدان سے شام تک یزید لعنتی کے دربار میں حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد خاندان اور دوسرے شہداء کی نمائندگی کی ہے جن کی بدولت آج مسلمان یزید پر لعنتیں بھیجتے چلے آرہے ہیں کہ جس نے حضور پاک ﷺ کے نواسے اور آل کے ساتھ ناروا سلوک اور ظلم و ستم کیا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا واقعات اور حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں خواتین کو برابر کے حقوق و فرائض میسر ہیں جس میں علم حاصل کرنا۔ جنگوں میں حصہ لینا۔ علاج معالجہ کرنا۔ تعلیم دینا، تجارت کرنا، ملازمت کرنا، سماج کو سدھارنا وغیرہ وغیرہ شامل ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر افغانستان، ایران، سعودی عرب جیسے ملکوں میں خواتین پر مختلف اداروں اور کاروبار اور تعلیم پر پابندیاں عائد ہیں۔ اگر کسی ملک میں سختی سے قانون کی پابندی عائد ہو۔ ہر شہری قانون کے مطابق رہتا ہو۔ قانون کا صحیح نفاذ ہو۔ مرد و عورت کو مساوی انصاف میسر ہو تو ملکی اور قومی ترقی میں اہم رول ادا کر سکتی ہیں جس کا بنیاد پرست مخالف ہے جو عقل و شعور سے باہر ہے۔ تاہم حالات و واقعات گواہ ہیں کہ دنیا بھر کے مسلم ریاستوں میں خواتین کی اکثریت محنت و مشقت کرتی نظر آتی ہے جو چاہے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملیشیا، ترکی، مصر وغیرہ ہو مسلم خواتین کھیتوں، کھلیانوں، محکموں، اداروں میں اپنا اہم رول ادا کررہی ہیں جن کے بغیر ترقی ناممکن ہے جو اپنے اپنے کلچر، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن کے مطابق پردوں میں ہوتی ہیں۔ بعض دوپٹوں ،چادروں یا معمولی کپڑوں میں ملبوس ہوتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ سخت پردہ صرف اور صرف جاگیرداروں، رسہ گیروں، امیروں، چوہدریوں، وڈیروں اور قبائلی سرداروں کے گھروں تک محدود ہوتا ہے جس کے برعکس عام غریبوں، مسکینوں اور لاچاروں کے پاس بدن ڈھانپنے کا کپڑا تک نہیں ہوتا ہے جس کو کبھی کسی عالم نے ایشو نہیں بنایا ہے نا ہی بے بس اور مظلوم عورت کے حق میں آواز اٹھاتا ہے جو ظالموں کے ہاتھوں اپنی عزت کھو بیٹھتی ہے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے مختاراں مائی اور ڈاکٹر شازیہ کے ریپ پر فتوے دئیے کہ جنرل مشرف حکمران کو زنا پر ایکشن نہ لینے پر پھانسی دی جائے چونکہ زیادہ تر علماء نے آمروں، جابروں، ظالموں، یزیدوں کا ساتھ دیا ہے اس لئے انہیں بے بس اور بے کس خواتین کی عزت و آبرو لٹتی ہوئی نظر نہیں آتی ہے۔ بہرحال خواتین انسانی ترقی کا حصہ ہیں جن کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ جن کی تعلیم عام لازم ہونا چاہیے جن کو ہر میدان میں کام کاج کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے جو بچوں کی بنیادی گھریلو تربیت اور درس گاہ کہلاتی ہے لہٰذا عہد جہالت کی بدولت خواتین کی درس و تحریر سے روکنا کسی اپنے قبائلی کلچر، رسم و رواج کا حصہ ہو سکتا ہے مگر اسلام کا نہیں ہے جس کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے خود فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے جو صرف مردوں کے لئے نہیں یہ علم عورتوں کے لئے بھی ہو سکتا ہے جبکہ چین کوئی مسلمان ملک نہ تھا نہ ہی صلح حدیبیہ کے کافر مسلمان تھے لیکن صلح حدیبیہ میں کافروں سے علم حاصل کرنے کا حکم ہوا ہے اس سے خواتین کی تعلیم لازم و ملزم ہے جس کے بغیر انسانی معاشرہ نامکمل یہ وہ لوگ جو خواتین کی تعلیم کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں انہی حضور پاک ﷺ کی تعلیمات سے سبق حاصل کرنا ہو گا کہ انہوں نے معاشرے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔ آج کا معاشرہ جس ترقی کے راستے پر گامزن ہے اس میں خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے جو کسی بچے کو پیدائش سے لے کر جوانی تک پرورش اور تربیت دیتی نظر آتی ہے جس میں مرد کی حصہ داری کم ہوتی ہے۔ قصہ مختصر خواتین کی تعلیم و تربیت ، کام، کاج ترقی میں اپنے اپنے عہد جہالت کے کلچر نافذ کرنے کی بجائے عہد روشن کے مطابق حقوق دئیے جائیں تاکہ مسلم معاشرہ بھی دنیا کی ترقی میں حصہ لے پائے جس کا فقدان مسلم ریاستوں میں بہت کم ہے جس کی وجہ سے آج مسلم ریاستیں دنیا کی ترقی میں بہت پیچھے ہے جس کا الزام خواتین کی پسماندگی اور ناخواندگی ہے جو مردوں کے مقابلے پیچھے ہے یہ جانتے ہوئے کہ آج کی مغربی خاتون چاند ستاروں اورسیاروں کی دریافت میں حصہ لے رہی ہے۔ ہر قسم کے پیشے سے منسلک ہے جو ایک استانی، ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان بھی ہے جن سے انکے بچے سب کچھ سیکھ رہے ہیں ۔اگر عورت جاہل ہو گی تو اولاد بھی جاہل کہلائے گی جس کا مظاہر ہ آج مسلم معاشرے میں پایا جاتا ہے جس کاالزام صرف اور صرف خواتین کی تعلیم سے محرومی ہے ،لہٰذا تعلیم اور علم ہر مرد اور عورت کے لیے لازم قرار دیا جائے تاکہ مسلم معاشرہ اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آئے۔