نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے ٹور کی منسوخی کے پیچھے آخر کار بھارت کی سازش آشکار ہو ہی گئی

214

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اور اس کے ساتھ تمام آفیشلز پاکستان پہنچ چکے تھے۔ کرکٹ ٹیم کی نیٹ پریکٹس جاری تھی، چار دن گزر چکے تھے کہ اچانک نیوزی لینڈ کی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو میچ شروع ہونے سے چند گھنٹوں قبل اُسے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا اور جمعے کا میچ کینسل کر کے ہفتے کو ساری ٹیم کو ایک چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے دبئی پہنچا دیا گیا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر حکومتی ارکان نے پریس کانفرنس کر کے نیوزی لینڈ پر بدنیتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی سکیورٹی الرٹ تھا اور نہ ہی نیوزی لینڈ کی حکومت نے اس بات کے کوئی شواہد پیش کئے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے اشارتاً کہا کہ یہ دو اور ملکوں کی ایماء پر اور سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ چور کی داڑھی میں تنکا، پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے ایک ٹویٹ کر کے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کے منسوخ کیے جانے کے پیچھے برطانیہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن پھر شیخ رشید کا اشارہ درست ثابت ہوا اور برطانیہ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا دورہ کرنے والی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھکے ہوئے ہیں۔ بقول وفاقی وزیر فواد چودھری اس سے زیادہ تھکی ہوئی مجبوری یا وجہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنی اور اب آسٹریلیا نے بھی کہا ہے کہ اگلے سال پاکستان میں آنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورے کے متعلق وہ دوبارہ غور کررہے ہیں اور ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہواہے۔ اب وفاقی وزراء شیخ رشید احمد اور فواد چودھری نے ایک پریس کانفرنس کر کے وہ تمام شواہد میڈیا کے سامنے پیش کئے ہیں جنہیں کوئی بھی بین الاقوامی میڈیا رد نہیں کر سکتا کیونکہ ہر چیز کھول کر بیان کر دی گئی ہے جسے انٹرنیٹ پر جا کر چیک کیا جا سکتا ہے اور ان ثبوتوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ کس طرح سے بھارت کی طرف سے جعلی اکائونٹ شروع کئے گئے پچھلے ماہ اگست میں سکیورٹی تھریٹ کی ای میل سنگاپور کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائی گئیں جبکہ ایک کھلاڑی کو بیوی کو ای میل بھیج گئی کہ اگر وہ کھلاڑی پاکستان گیا تو اُسے قتل کر دیا جائے گا۔ ایک ای میل اکائونٹ کو شروع کرنے والے بھارتی شخص اوم پرکاش نے احمد آباد سے پچھلے ماہ شروع کیا گیا تھا اور اُسے آفریدی کے جعلی نام کے ساتھ استعمال کر کے پھیلایا گیا۔ ان آنکھ کھول دینے والے حقائق اور شواہد کے بعد ان لوگوں کو اب حقائق کا اندازہ ہو جانا چاہیے جو کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کے پاس سکیورٹی کا اصل جواز موجود تھا اس لئے انہوں نے یہ ٹور کینسل کیا۔ مگر اب وہ کیا کہیں گے کہ انگلینڈ کا تھکن کا جواز بھی حقیقی تھا جو انہوں نے سیزیز کینسل کر دی؟ اور اب آسٹریلیاکا اگلا بہانہ کیاہو گا کسی کو نہیں معلوم لیکن یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ایک بڑے پلان اور منصوبہ بندی کے تحت یورپ اور مغرب اپنی افغانستان میں پسپائی کا بدلہ پاکستان کو ہر شعبے میں تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل کر کے اپنی خفت مٹانا چاہتا ہے۔ جس طرح سے نیوزی لینڈ میں مسجد میں ایک سفید فام باشندہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارتا رہا اور اُسے سوشل میڈیا پر براہ راست نشر بھی کرتا رہا تو اس کو بہانہ بنا کر آئندہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ منسوخ کر سکتا ہے اور اور اسی طرح سے پاکستان بھی اپنا انگلینڈ کا دورہ تھکن کا بہانہ بنا کر منسوخ کر سکتا ہے کیونکہ تھکن خالی گوروں کو ہی نہیں ہوتی برائون کو بھی ہوتی ہے اور اگر اب کرکٹ کی دنیا میں یہ دونوں بہانے رائج ہو چکے ہیں تو پھر ایسا ہی سہی پس ثابت یہ ہوا کہ سکیورٹی تو ایک بہانہ تھا، اصل تو سبق سکھانا تھا اور عمران خان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات نے اب ایک اور سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔