لگتا ہے عدالتیں تو’’مجرم بچائو‘‘ مہم پر ہیں!!

27

؎سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
اک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!!
بہت سے نامور فنکار ایسے بھی تھے جو پیوند زمین ہو گئے ۔حکومتی امداد کے لئے ترستے چلے گئے لیکن مگر ان کی آواز صدا بہ صحرا ہوئیں۔ کچھ حالیہ دور میں روحی بانو کو کوئی امداد نہ ملی۔ ابھی چند مہینوں پہلے نائلہ جعفری فریاد کرتی چلی گئی۔ کچھ نہ ہو سکا۔
خوشی کی بات ہے کہ عمر شریف کی آواز بہت جلد سنی گئی۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ ایک بڑے فنکار ہیں۔ ان کی برجستگی اپنی مثال آپ ہے۔ انہیں کیا بیماری ہے اس کے بارے میں تو علم نہیں لیکن ڈاکٹروں کے بورڈ کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ دنیا کے تین ممالک امریکہ، جرمنی، سعودی عرب ایسے ہیں جہاں انکا علاج ممکن ہے تو حکومت نے ویزے کے لئے ان ممالک سے رجوع کیا۔ امریکہ میں جارج واشنگٹن DCکے ہسپتال میں انہیں داخلہ مل گیا۔ ایئر ایمبولینس کاانتظام بھی کیا جارہا ہے اور جلد انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ امریکہ روانہ کر دیا جائے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی بیماری کو سنجیدگی سے لیا گیا اور حکومت سندھ نے بہت تیزی کے ساتھ کام کیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ خدا انہیں صحتِ کلی عطا فرمائے اور وہ مکمل صحت یاب ہو کر اپنی شگفتہ گفتگو سے عوام کو محفوظ کرتے رہیں(آمین)۔
دوسری طرف محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیر خان شدید علیل ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کسی نے ان کی عیادت نہیں کی نہ دوا علاج کے سلسلے میں کوئی پیشرفت دکھائی دی۔ یہ نہایت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم ان ہستیوں کو فراموش کر دیں جنہوں نے پاکستان کی جڑیں مضبوط کیں اور دنیا میں ایک نمایاں اور ناقابل تسخیر مقام دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے وزیراعظم عمران خان کو واشگاف الفاظ میں شکایت کی ہے کہ انہوں نے نہ تو ڈاکٹر صاحب کی عیادت کی نہ ہی ان کے علاج معالجے کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ کی۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے اس پر تو پوری قوم کو شرمندہ ہونا چاہیے اور ان سے معافی مانگنی چاہیے۔ انکی صحت اور تندرستی کے لئے اجتماعی دعائوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مکمل صحت یاب کرے(آمین ثم آمین)۔
ماسی مصیبتاں کئی دن کے مراقبے کے بعد اپنی حجرے سے برآمد ہو گئی ہیں کیونکہ انہیں حکومت کو برا بھلا کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ پٹرول پھر مہنگا ہو گیا۔ فرماتی ہیں پہلے معیشت کو بہتر بنانے کے لئے مرغی، انڈے اور کٹے دینے کا وعدہ کیا تھا اب پٹرول مہنگا ہونے پر ماسی کا مشورہ ہے کہ خان کو عوام کو گھوڑے اور سائیکلیں خریدنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ خان صاحب عوام کو گھبرائیں نہیں کی معجون کی ڈبیہ دے کر فارغ ہو جائیں گے۔ خان صاحب اب عوام میں گھبرانے کی بھی سکت نہیں۔ خمیرہ گائو زبان کھلائیے۔
بیچاری پھولن دیوری اور اس کے بائو جی خون کے آنسو رورہے ہیں۔ عوام کی خستہ حالت ان سے دیکھی نہیں جارہی۔ ڈر ہے کہ وہ بھلا چنگا بیچارہ کسی ہارٹ اٹیک میں مر ہی نہ جائے اور اتنی محنت سے کمایا ہوا کرپشن کا پیسہ یہیں رہ جائے۔ خان صاحب یہ لوگ ایک دھیلا بھی اس لوٹ کے مال سے واپس نہیں کرنے والے۔ عوام ان کے جھوٹ کو جان چکے ہیں۔ بس اتنا بہت کافی ہے۔ چور تو بھاگ گیا لنگوٹی بھی ساتھ لے گیا۔ اب کیا ہو؟ بس آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے رہیں۔ ن لیگی جوکر کہتا ہے ’’نواز شریف ہوتا تو ملک راکٹ کی طرح اوپر جاتا‘‘ اور پچھلے تیس سالوں میں تو اسے مریخ پر جانا چاہیے تھا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اب پرانا ہو گیا۔ اس لئے اب نیا نعرہ ایجاد ہوا ہے ’’کام کو عزت دو‘‘ جیسے کام ان دو پارٹیوں نے اپنے دور حکومت میں کئے ہیں چھوٹے اضلاع کے ترقیاتی کام کے لئے پیسہ مختص کیا گیا اسے اورنج لائن کے جہنم میں جھونک دیا جہاں سوکھا تھا وہاں اور سوکھا ہو گیا۔
سندھ حکومت نے بھی اپنی طرف سے خوب لوٹ مار مچارکھی ہے۔ انہیں کسی کے مرنے جینے سے کوئی واسطہ نہیں۔ چاہے کتے کاٹیں لوگ مریں۔ گٹر میں بچے ڈوب جائیں یا تھر میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کن۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والوں کی یہ مزدوری ہے جسے کے ذریعہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ وہ مجبور ہیں یہ ملازمت کرنے پر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی جان کو جو خطرات لاحق ہیں ان کو دور کیا جائے مگر اس طرف کسی سنگدل ارباب اختیار کی نظر نہیں ہے؎
دل کو روئوں یا پیٹوں جگر کو میں!
عوام گندہ پانی پی رہے ہیں بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن انکااللہ ہی محافظ ہے۔ حکومت سندھ کی کوئی ذمہ داری نہیں وہ ہیرو چیف منسٹر نامراد شاہ پیشانی پر لٹ بکھرائے الٹے سیدھے بیان دیتا رہتا ہے اور عوام اب کہتے ہیں؎
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا !
ن لیگی جوکر اور اس کے کپوت حمزہ کو جو عبوری ضمانت ملی ہے اس کا خوب فائدہ اٹھایا جارہا ہے گواہان کو بیان دلانے پر مجبور کیا جارہا ہے؟ آخر ان ملزمان کو ضمانتیں کیوں دی جاتی ہیں؟ غداروں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا۔ لال مسجد والا ملا عزیز دوسروں کے جھنڈے لگارہا ہے۔ اُسے پکڑا کیوں نہیں جاتا۔ پہلے بھی اس پر بہت سے کیسز بنے تھے مگر کچھ نہ ہوا۔ اگر غداروں کو جس میں جاوید لطیف کا نام بھی ہے سزائیں نہ ہوئیں تو یہ ملک کی چار دیواری میں سوراخ کرتے رہیں گے۔ عدالتیں کیا ’’مجرم بچائو‘‘ مہم پر ہیں۔ دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کو دیکھا نہیں عقل سے پہچانا ہے تو ان ججوں کے دلوں کو نہیں دیکھا رویے سے تو پہچانا ہے۔ ضمانتیں صرف اس لئے دی جاتی ہیں کہ یہ اپنے خلاف جرائم کے ثبوت کو مٹاسکیں۔