مجبوری!

110

پہلے کبھی یہ ہوتا تھا کہ مسجد کا امام صرف نماز پڑھانے پر مامور تھا، جمعہ کے دن ایک واعظ آتا تھا وعظ کرتا نماز بھی پڑھاتا اور چلا جاتا، اس کا حلیہ امام سے قدرے بہتر ہوتا، پھر لوگ اس کو عالم کہنے لگے پھر رفتہ رفتہ وہ مفسر اور محدث بھی کہلایا جانے لگا کیونکہ وہ مدرسے کے بچوں کو تفسیر پڑھاتا اور حدیثیں یاد کراتا، کچھ وقت اور گزرا جو SENIORعالم تھا وہ شیخ الاسلام، شیخ الحدیث اور مفسرِ تفسیر بھی ہو گیا، یہ سچ ہے کہ ۱۹۴۷ سے قبل علامہ کم نظر آتے تھے ۱۹۴۷ کے بعد یہ تعداد بڑھتی گئی، مودودی جوش ملیح آبادی کے ساتھ حیدر آباد میں کام کرتے تھے، زبان اور علمی زبان سے آگہی ہو گئی تھی اسی کو کام میں لاتے ہوئے انہوں نے چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن لکھی جو پڑھے لکھے طبقے میں مقبول ہو گئی مگر اسی دوران پاکستان میں واعظین اور علاموں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا، مسجد کے امام کو پروموشن ملا اسے عالم کہا جانے لگا اور اس کو مسجد کے منبر سے ہر بات کہنے کی سند مل گئی، آپس میں اختلاف مسلک کا رہا جو کبھی کبھی سر پھٹول تک جا پہنچتا، علی گڑھ یونی ورسٹی کے طلباء نے جب دین پر سوال اٹھانے شروع کئے تو ان اماموں کو کچھ پڑھنا بھی پڑا، مگر اجہتاد اور قیاس کی عدم موجودگی میں دین اور فقہ پر جو جمود طاری ہو چکا تھا وہ ختم نہ ہو سکا صرف پرانی کتابوں سے گرد جھاڑی جا سکی، سو عقلی سطح میں کوئی تبدیلی نہ آسکی اور ذہن بھی تبدیل نہ سکا، مغرب اسی جمود کو بنیاد پرستی کہتا ہے اور لطف یہ کہ اجتہاد اور قیاس کا دروازہ کھل نہ سکا بلکہ ان دو ٹکے کے اماموں نے مغرب کی ضد میں بنیاد پرستی کی جانب سفر اختیار کیا، سیاست میں جب مذہب کو جگہ ملی تو وہ سیاست میں یہی بنیاد پرستی لے کر آئے، ان عناصر کو فوج کی حمایت حاصل تھی، چند خاندان اور اشرافیہ جو اپنے آپ کو سیاست دان کہتی ہے ان کو اقتدار کی کچھ خیرات فوج دے دیتی ہے مگر اتنی نہیں کہ حکومت بنا سکیں تو لامحالہ ان کو حکومت سازی کے لئے دینی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنی پڑتی ہے اور حکومت میں ان کو حصہ بھی دینا پڑتا ہے اور ان سیاست دانوں کی مجال نہیں کہ وہ ان دینی جماعتوں کی مرضی کے خلاف کوئی قانون سازی کر سکیں۔
ظاہر ہے کہ اس پس منظر میں بین الاقوامی سیاست میں جو فکری تبدیلیاں آرہی ہیں ان سے نہ دینی حلقے آگاہی رکھتے ہیں اور نہ ہی سیاست دان، بلاول نے گو کہ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی مگر اب وہ ہر طرح سے ایک فیوڈل لارڈ ہے، سیاسیات کا علم بہت ترقی کر چکا مگر اس کو سیکھنے اور جدید طرز سیاست کے طریقے پاکستان میں ناپید ہیں، فوج نے پاکستان میں اللہ اکبر اور فوج زندہ باد کا جو کلچر پیدا کر دیا ہے سیاست اس کے اندر ہی ہو گی، کوئی سیاست دان نہ تو مذہب کو OBSOLETEکہہ سکتا ہے نہ ہی جدید طرز سیاست پر اصرار کر سکتا اگر کرے گا تو اس کی سیاست مر جائے گی یا اسے کافر کہہ کر مار دیا جائے گا، مغرب کا طریقہ ء واردات یہ ہے کہ جب بھی اسے پاکستان کو بنیاد پرستی اور رجعت پسندی کی جانب دھکیلنا ہوتا ہے وہ دینی حلقوں کی بنیاد پرستی اور رجعت پسندی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور پاکستان کے عوام پھر ہاتھ سے پھسلتی بنیاد پرستی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں، کارٹوں اور خاکے اسی مقصد کے لئے بنائے جاتے ہیں اس سیاست کو سمجھنے اور سمجھانے والا پاکستان میں کون ہے؟ یہ بڑا سولیہ نشان ہے۔
اسی پس منظر میں کشمیرکو دیکھئے دنیا کو کشمیر سے کوئی دلچسپی ہے نہیں کبھی پاکستان کے کسی وزیر اعظم کو خود پاکستان کے ناخواندہ عوام کی نظر میں معتبر بنانا ہو تو کبھی کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر دی جاتی ہے خانۂ کعبہ اور روضۂ رسول کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور عوام اس کو خدا کا محبوب بندہ مان لیتے ہیں پھر وہ ظل اللہ بن جاتا ہے، مگر اس کی ہر بات صرف اور صرف عوام کو گمانوں میں قید رکھنے کے لئے ہوتی ہے، عالمی میڈیا اس کی ہر بات کو نظر انداز کرتا ہے ان کو معلوم نہیں کہ عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں نہ ہی عالمی سیاست اصولوں پر ہوتی ہے، یہ کشمیر پر عالمی ضمیر جگانے کی کوشش گزشتہ ستر سال سے کررہے ہیں یہی حال فلسطین کا ہے آپ دنیا کو کیا دے رہے ہیں جو دنیا آپ کی بات سنے؟
یہی حال افغانستان کا ہے اس پر بھی دنیا بھر سے اپیلیں کی جارہی ہیں کہ دنیا اس کو سنبھالے اس کے ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر افغان حکومت کو جو قانونی حکومت ہے ہی نہیں اگر تسلیم نہ کیا گیا تو خانہ جنگی ہو گی دوسری طرف یہ بلند بانگ دعوے کہ طالبان نے امریکہ جیسی سپرپاور کو مار بھگایا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کہہ چکے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو گی وہاں کھانے کو کچھ نہیں، یہی سچ ہے کھانے کو کچھ نہ ملا تو ایک طرف خانہ جنگی ہو گی تو دوسری طرف افغانی پاکستان میں داخل ہو جائیں گے اور پاکستانیوں کے ہاتھ سے نوالہ چھین کر کھائینگے اور سول آبادی ان خونخوار درندوں جو اسلحہ بند بھی ہیں مقابلہ نہ کر پائیں گے پھر اقوام عالم سے اپیلیں ہونگی دہائیاں دی جائینگی عالمی ضمیر جگایا جائیگا، ایک بات سمجھ لینا چاہیے کہ فی زمانہ کوئی ملک چاہے وہ سپرپاور ہی کیوں نہ ہو کسی چھوٹے سے چھوٹے ملک پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے وہ ایک خاص اسٹرٹیجی کے تحت ایک مشن پر آتے ہیں اور مقاصد پورے ہونے کے بعد چلے جاتے ہیں، امریکہ خطے میں چالیس سال تک پاکستان اور افغانستان کی معاشی، معاشرتی سیاسی سماجی زندگی کو روک لگانے کے لئے آیا تھا وہ مقاصد حاصل کر لئے گئے اب اگر امریکہ کا انخلا اس مقصد کے لئے ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو تو یہ مقصد بھی پورا ہوتا نظر آتا ہے، اگر انخلاء کا مقصد یہ ہے کہ بھوکے اور بدحال افغانی پاکستان میں داخل ہو جائیں تو یہ مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے، جدید سیاست کی ذرا سی سمجھ ہوتی تو اس سیناریو کو پڑھا جا سکتا تھا، کینیڈا، یورپ ،برطانیہ، امریکہ اور روس افغان حکومت تسلیم نہیں کریں گے جو دو چار ملک پاکستان سمیت تسلیم کر بھی لیں اور مغرب ان پر پابندیاں لگا دیں تو کیا ہو گا، روس، چین اور ایران کو تحفظات ہیں یہ جو پاکستان اور افغانستان کے عوام کو پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہمیں کسی علم کی ضرورت نہیں یہی خرابی کی جڑ ہے مغرب کو مغربی نظریات اور ان کے ذہن کو پڑھنا ضروری ہے عمران کو ایک سیکشن آفیسر کے سامنے بٹھا دیا جائے تو پسینے چھوٹ جائیں گے ان کے ،کجا یہ کہ طالبان امریکی حکمت عملی کو سمجھ سکتے ہیں،امریکہ کا انخلا امریکی کی ایجنسیوں کے مشورے سے ہوا ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک گہری حکمت عملی ہے جس کو نہ پاکستان سمجھ پارہا ہے نہ طالبان کی جہالت، یہ اسلام کی مجبوری ہے کہ وہ دور تک دیکھنے نہیں دیتا، جبکہ جو نظر اور عقل سے اوجھل ہوتا ہے کوئی فتنہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے، پاکستان کی فوج اور عمران کی ساری اچھل کود صـرف LOCAL CONSUMPTIONکے لئے ہے اور ہاتھ کچھ نہیں آنا، اس لئے کہ پاکستان میں فوج کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے اور شاید یہ عالمی ایجنڈا ہے جس تک نظر نہیں جارہی۔