چھوٹا منہ بڑی بات !

115

مغرب کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر غریب دنیا میں اپنا استحصالی نظام رائج کرنے اور مشرقی دنیا کے وسائل پر بیدردی سے ہاتھ صاف کرنے کے وقت سے آجتک یہ غلط فہمی رہی ہے کہ وہ دنیا میں تہذیب اور شائستگی کا واحد منبع اور مخزن ہے اور یہ کہ خدا نے اسے سفید فام ہونے کی برتری کی بنیاد پر یہ منصب سونپا ہے کہ وہ، بقول مغربی دانشوروں کے، غیر مہذب دنیا میں اپنی تہذیب کی روشنی پھیلائے۔ مغرب کا یہ وہم دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے کچھ اور بھی زیادہ یوں بڑھ گیا کہ دنیا بھر کی عسکری طاقتوں میں امریکہ بہادر سرِ فہرست آگئے اور امریکہ کی تاریخ سے واقف حضرات تو یہ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ کو یورپ سے آنے والے تارکینِ وطن نے، جو بزعمِ خود زائرین تھے، یہی نعرہ لگاکر اپنے تسلط اور شکنجے میں لینا شروع کیا تھا کہ یہ نئی دنیا ہمیں خداوند نے اس لئے ہی دی ہے کہ ہم اسے یہاں پر آباد غیر مہذب ریڈ انڈینوں سے پاک کریں اور یہاں تہذیب کی روشنی پھیلائیں۔
سو طالبان نے جب سے امریکہ کو اس کی اوقات یاد دلائی ہے اور دنیا کی واحد سپر پاور افغانستان سے منہ چھپاکر فرار ہوئی ہے طالبان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ مغربی دانشور، جو صدیوں سے خوش فہمی کے مریض رہے ہیں،، وہ اب ہاری ہوئی بازی کو طالبان کے خلاف منہ پھاڑ پھاڑ کر یہ دعوے کرکے جیتنا چاہتے ہیں کہ طالبان تو تہذیب سے عاری وحشی درندے ہیں جن کے زیرِ انتظام افغانستان میں انسانی حقوق پامال ہونگے، ان کے بقول دعوے کے ساتھ ہونگے اور تہذیب اپنے منہ میں انگلی دئیے کھڑی رہیگی۔ کچھ دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کو پھر سے تیار رہنا چاہئے کہ وہ مظلوم افغانوں کی دادرسی کیلئے طالبان کو تہذیب کا سبق دے سکیں۔
مغرب سے اس مفسدانہ اور منفی رجحان کی یلغار میں، جس کا ہدف طالبان ہیں، ہمارے کچھ مشرقی خود ساختہ دانشور بھی شامل ہیں اور اس طوفانِ بدتمیزی میں وہ بھی پیش پیش ہیں جو اپنی مرضی یا کسی مجبوری سے مغربی پروپیگنڈا کے اس حملے میں پیش پیش ہیں۔
اس یلغار کی تان کہاں آکر ٹوٹتی ہے؟ اس نقطے پر کہ طالبان کے افغانستان میں عورتوں کے حقوق کو بہت خطرہ ہے اور طالبان کا یہ کہنا کہ وہ عورتوں کو ان کا وہ جائز مقام دینگے جس کی اسلامی شریعت اجازت دیتی ہے اور بطورِ خاص یہ کہ لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہیگا بس اتنا ہوگا کہ لڑکیاں مخلوط تعلیم حاصل نہیں کرینگی بلکہ ان کے اپنے علیحدہ اسکول ہونگے، محض طالبان کی دروغ گوئی ہے اور بہت جلد دنیا یہ دیکھ لیگی کہ طالبان عورتوں کو پتھر کے دور میں واپس لیجائینگے۔ ہماری ملالہ یوسف زئی نے بھی اس خطرہ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اب ان کی ہم کیا بات کریں کہ جنہیں اٹھارہ برس کی عمر میں امن کا نوبل انعام دے دیا گیا اور مغربی پروپیگنڈا مشین کے مطابق وہ باہر کی دنیا میں پاکستان کی بیٹی کہلوائے جانے کا واحد حق اور استحقاق رکھتی ہیں۔
مغرب کی اس ساری شرانگیز مہم میں بھارتی قلمکار اور تبصرہ نگار بہت سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت نے سفارتی اور سیاسی محاذوں پر تو افغانستان میں جو منہ کی کھائی ہے اس کے بعد اگر بھارتیوں، اور خاص طور پہ مودی سرکار میں ذرہ برابر بھی شرم ہوتی تو وہ منہ چھپائے پھرتے لیکن ہندوتوا کے جنون کا شکار بھارت بھی اب مغرب کے ساتھ اپنا منہ کالا کررہا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ سرخرو ہوجائے گا۔ جو اس کی سراسر غلط فہمی ہے لیکن پاگل پن کا تو کوئی علاج نہیں۔ سو بھارتی دانشور بھی، جن کی اپنی تہذیب میں عورت کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے اور صدیوں سے عورت اس میں پستی اور ظلم سہتی رہی ہے، اپنے حلق پھاڑ پھاڑ کر یہ دعوی کر رہے ہیں کہ افغانستان کی عورت بہت مظلوم ہے اور طالبان کے دور میں اس کے وجود کو بہت خطرہ ہے۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات کی اس سے بد تر مثال ملنی ناممکن ہے۔
ہندو سماج میں عورت کا کیا مقام اور مرتبہ رہا ہے، اور آج بھی ہے، یہ ہم پاکستانیوں اور بھارت کے مسلمانوں سے زیادہ اور کون جان سکتا ہے کہ ہم ایک ہزار برس تک اس کو بہت قریب سے دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے تو خیر پاکستان میں ہوش سنبھالا لیکن اپنے والدین اور بزرگوں سے ہندو سماج میں عورت کی تحقیر اور تذلیل کی جو داستانیں سنی ہیں اور پھر تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے تو اس کے بعد بھارت کے اس شرانگیز پروپیگنڈا پر ہنسی آتی ہے کہ اس سماج کے باسی بھی اپنے آپ کو عورتوں کے حقوق کے علمبردار کے روپ میں پیش کررہے ہیں جس سماج اور تہذیب میں عورت کو اپنے شوہر کی چتا پر ستی ہونا پڑتا تھا اور سماج کے ٹھیکیدار اسے زندہ جلادینے میں اپنی شان سمجھتے تھے۔
لیکن اس مغرب کو بھی، جس کی دہلیز پر ان دنوں بھارتی نیتا اور دانشوری کے ٹھیکیدار رات دن ماتھا ٹیک رہے ہیں، آئینہ دکھا نا بہت ضروری ہے تاکہ وہ بھی اپنی اس تہذیب کے، اس تہذیب کے جس کا ہر مغربی ملک زور شور سے ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، اور اس تہذیب میں عورت کا کیا مقام رہا ہے اور بہت سے ممالک میں تو آج بھی عورت کا جس طرح استحصال ہورہا ہے، خد و خال دیکھ سکیں اور اگر حیا و شرم ہو تو اس حقیقت کا اعتراف کرسکیں کہ دینِ اسلام نے عورت کو مرد کے شانہ بشانہ جو مقام دیا تھا اور جو مقامِ احترام و فضیلت مسلم معاشروں میں عورت کو چودہ سو برس سے حاصل رہا ہے مغرب کی تہذیب یافتہ عورت اس کو آج بھی ترس رہی ہے۔
مغربی دانشور بغلیں جھانکنے لگتے ہیں جب انہیں ان کی اپنی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں عورت کو ہمیشہ دوسرے درجے پر رکھا گیا ہے۔ امریکہ سے شروع کرتے ہیں جس کا یہ زعم ہے کہ جو مقام اس نے عورت کو دیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی دنیا میں کہیں بھی عورت کو نہیں ملا تھا۔ یہ بات تو پورے مغرب میں اظہر من الشمس ہے کہ مغرب کے ہر ملک میں اور ہر مغربی معیشت میں ایک ہی پوسٹ پر، اور ایک ہی طرح کا کام کرنے والے مرد اور عورت میں عورت کی آمدنی یا تنخواہ یا مشاہرہ مرد کے مساوی نہیں ہوتا بلکہ اس سے کم ہوتا ہے۔
امریکہ میں سفید فام مردوں کو ووٹ کا حق تو امریکہ کا آئین منظور ہونے کے ساتھ ہی مل گیا تھا، اور سیاہ فاموں کو اس کیلئے پہلی جنگِ عظیم کے اختتام تک انتظار کرنا پڑا، اور جنوب کی ریاستوں میں تو انیس سو پچاس کی دہائی تک یہ انتظار رہا، لیکن سفید فام عورتوں کو بھی یہ حقِ رائے دہی 1920 سے پہلے نصیب نہیں ہوا اور یہ حق حاصل کرنے کیلئے انہیں پوری ایک صدی تک مہم چلانی پڑی۔
فرانس کو یہ زعم مرض کی طرح لاحق ہے کہ جو آزادیاں عورت کو اس نے دی ہیں وہ کہیں اور نہیں ہیں۔ یہ بیماری انقلابِ فرانس سے، جو 1789 میں پیش آیا تھا، شروع ہوئی تھی اور اب تو دو صدیوں سے زیادہ پرانی ہوچکی ہے لیکن اس بزعم خود تہذیب کے مرکز نے عورت کو ووٹ دینے کا حق دوسری جنگِ عظیم کے بعد، یعنی 1945 میں دیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کو یہ زعم ہے کہ اس کی تہذیب اور آزادی کا شعور دنیا میں بیمثال ہے لیکن اس تہذیب یافتہ قوم میں عورت کو حقِ رائے دہی 1971 سے پہلے نصیب نہیں ہوا تھا اور 1990 میں جاکر کہیں یہ ترقی ہوئی کہ عورتیں قومی، ریاستی اور لوکل انتخابات میں مرد کے برابر یہ حق استعمال کرسکیں۔
برطانیہ جو بہ زعمِ خود ہندوستان کو مہذب بنانے کیلئے وہاں اپنی چودہراہٹ جما کے ڈیڑھ صدی بیٹھا رہا اس میں عورت کی تذلیل کا یہ عالم تھا کہ 1876 تک کوئی عورت میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں لے سکتی تھی اور اگر اسے طب کا پیشہ اپنانا ہوتا تھا تو اس کیلئے صرف یہ راستہ کھلا تھا کہ وہ کسی اور ملک سے طب کی تعلیم لیکر آئے لیکن پھر اسے برطانیہ کی میڈیکل کونسل سے اجازت لینی ہوتی تھی جس کا حصول تقریبا ناممکن تھا۔
طب کے پیشے میں عورت کی اس صریح تحقیر نے ایک عجیب و غریب داستان کو جنم دیا۔ ایک خاتون تھیں، ڈاکٹر مارگریٹ این بلکی، جو 1789 میں پیدا ہوئی تھیں اور 1865 میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے مرد کا روپ دھار کر میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور مرتے دم تک ڈاکٹر جیمز بیری کے فرضی نام سے طب کو اپنا پیشہ بنائے رہیں۔ ان کے انتقال کے بعد یہ بھید کھلا کہ ڈاکٹر جیمز بیری مرد نہیں عورت تھے۔
یہ ہے ان مغربی معاشروں کی حقیقت اور ان کا وہ روپ جسے اب دیدہ و دانستہ چھپایا جاتا ہے۔ نہ صرف اس داغدار ماضی کو پردوں میں رکھا جاتا ہے بلکہ عورتوں کا بیدریغ استحصال کرنے والے غریب، اور ان کے بقول کم تہذیب یافتہ دنیا کو رات دن بھاشن دیتے ہیں کہ اگر اسے ترقی کرنی ہے تو اسے مغرب سے روشنی لینی ہوگی۔ ہم نے سوچا تھا کہ اس کالم کا عنوان رکھیں،‘کس منہ سے یہ بھاشن دیتے ہو’؟ لیکن کیا کریں کہ ہمیں جو تعلیم ملی ہے وہ یہ سکھاتی ہے کہ ہر بات کہنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے اور اس سلیقہ سے گریز بدتہذیبی ہوتا ہے۔ اور پھر ہمارے ساتھ تو ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ سفارتکاری میں عمر بتائی ہے اور شاید آپ نے بھی سفارتکار کی یہ تعریف سنی ہو کہ سفارتکار لفظوں کا ایسا جادوگر ہوتا ہے اور الفاظ سے چمتکار کرکے بات اس سلیقے سے کہتا ہے کہ اگر وہ آپ سے یہ کہے کہ جہنم میں جاؤ تو آپ فوری سامان ِ سفر باندھنے لگتے ہیں۔ سو ہم بھی آج اس پر اکتفا کرتے ہیں اور یہ کہ کر بحث کو سمیٹ لیتے ہیں کہ اے مغرب کے نقیبوں اور نقالوں، طالبان اور اسلامی دنیا پر دشنام کرنے سے پہلے ذرا آئینے میں اپنی صورت بھی دیکھ لو کہ آئینہ جھوٹ نہیں کہتا۔ اتفاق ہے کہ ابھی دو روز پہلے ہی یہ شعر ہوا تھا جس پر آج کا کالم تمام کرتے ہیں کہ
آئینہ تو سچا ہے جھوٹ کہہ نہیں سکتا
داغدار چہروں کے عیب کس طرح ڈھانپے؟
اے مغرب کی برتری کا جھوٹ پھیلانے والو، دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گھر کے دروازے پر جمع کوڑا تو صاف کرلو۔ لیکن تمہیں شرم کہاں۔
———————————————————————————————————–