افغان معیشت اور چین کا تعاون!

107

(گزشتہ سے پیوستہ)
طالبان کی عبوری کابینہ اگر امریکہ کی توقعات کے عین مطابق بھی ہوتی تو اس صورت میں بھی واشنگٹن نے اسے تسلیم نہیں کرنا تھا اسکی ایک وجہ تو صدر بائیڈن کی مقبولیت میں ہونیوالی کمی ہے جو کابل ائیر پورٹ پر ہونیوالی ہڑبونگ اور افراتفری کا نتیجہ ہے اور دوسری وجہ ریپبلیکن پارٹی کے طالبان حکومت کے خلاف زوردار بیانات کا تسلسل ہے جو دھیما پڑتا ہوا نظر نہیں آ رہا دوسری طرف طالبان مغربی ممالک کے تحفظات کو جس حد تک گوارا کر سکتے تھے انہوں نے کر لیا ،انکی عبوری کابینہ کی ساخت ظاہر کرتی ہے کہ وہ سخت معاشی مشکلات کے باوجود مغربی ممالک کے تمام مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیںپندرہ اگست کے بعد واشنگٹن‘ آئی ایم ایف اوریورپی یونین نے وہ تمام اقتصادی امداد منجمد کر دی ہے جو گزشتہ بیس برس سے افغانستان کو دی جا رہی تھی ان نا مساعد حالات میں طالبان کیسے کاروبار مملکت چلائیں گے اس سوال پر بھی امریکہ میں غوروخوض ہو رہا ہے دو امریکی محققین جو افغانستان کی اقتصادیات پر کتابیں لکھ چکے ہیں نے حال ہی میں ایک مضمون میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ نئی افغان حکومت کے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جن پر انحصار کر کے وہ اس مشکل وقت سے گذرا سکتے ہیں Graeme Smith اور David Mansfield واشنگٹن کے Overseas Development Institute میں Consultant Researchers ہیںانہوں نے انیس اگست کو شائع ہونیوالے ایک مضمون میںافغان حکومت کے ذرائع آمدنی کا جائزہ لیا ہے
اس تجزیے میں انکے پیش نظر یہ سوال ہے کہ کل تک سرکاری اخراجات کیلئے کابل کو چار ارب ڈالر سالانہ کی ضرورت ہوتی تھی جو امریکہ مہیا کرتا تھا اسکے علاوہ جو مالی خسارہ ہر سال ہوتا تھا اسکا 75 فیصد مغربی ممالک کی حکومتیں اور انکے ڈونرز پورا کرتے تھے اب یہ خطیر رقم کہاں سے آئیگی اسکے جواب میں انہوں نے لکھا ہے کہ کابل پر قبضے سے پہلے ہی طالبان اپنے ملک کے اہم ترین ذرائع آمدن پر قبضہ کر چکے تھے Even before their blitz into the capital Taliban had claimed the country’s real economic prize اس اقتصادی انعام کی تفصیل بیان کرتے ہوے مصنفین نے لکھا ہے کہ اس ملک کے تجارتی راستے‘ شاہراہیں‘ پل اور زیر زمین معیشت جنوبی ایشیا کی اکانومی کو متحرک رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ان محققین کی رائے میں آمدنی کے ان زرخیز ذرائع اور چین‘ روس ‘ ایران اور پاکستان کی افغانستان کیساتھ تجارت کرنے کی ضرورت طالبان کو مغربی ممالک کا دست نگرنہیں بننے دے گی نیویارک ٹائمز کے اس مضمون میں لکھا ہے کہ کل کے افغانستان میں جو کچھ ہوگا وہ تو غیر یقینی ہے مگر یہ طے ہے کہ اس ملک میں بہت کچھ مغربی طاقتوں کی مرضی کے خلاف ہو گا زیر زمین معیشت کے بارے میں مصنفین نے لکھاہے کہ افیون‘ حشیش اور دیگر منشیات ہی وہ کاروبار نہیں ہیں جن سے طالبان کو آمدنی ہوتی ہے انہیں اصل آمدنی روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت پر لگائے ہوے ٹیکسوںسے ہوتی ہے In size and sum the informal economy dwarfs international aid یعنی حجم اور مالیت کے اعتبار سے بیرونی امداد زیر زمین معیشت کے مقابلے میں بہت کم ہے جنوب مغربی صوبے نمروز کے بارے میں مصنفین نے لکھا ہے کہ ’’ ہماری ریسرچ کے مطابق افغان حکومت اور طالبان نے تاجروںسے اپنے زیر نگیں علاقوں میں پٹرول‘ خوراک اور دیگر اشیا کی نقل و حرکت پر لگائے ہوے ٹیکسوں کے ذریعے 235 ملین ڈالر ایک سال میں اکٹھے کئے‘‘ اس صوبے کے حصے میں بیرونی امداد کے صرف بیس ملین ڈالر ہر سال آتے تھے محققین کی رائے میں نمروز جیسا صوبہ جو ایران اور پاکستان دونوں کی سرحدوں پر واقع ہے کسی بھی معیشت دان کو یہ سکھا سکتا ہے کہ افغانستان کی اکانومی کو کن بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے
موسم گرما میں طالبان نے سب سے پہلے جس صوبائی دارلحکومت پر قبضہ کیا وہ زارنج تھا یہ صوبہ ہر سال حکومت کو ایران کی سرحد پر ہونیوالی اشیائے ضروریہ کی آمدو رفت پر لگائے جانیوالے ٹیکسوں کی صورت میں43.2 ملین ڈالر مہیا کرتا ہے اس رقم کے علاوہ زارنج ہر سال پچاس ملین ڈالر شہریوں پر مختلف ٹیکس لگا کر بھی اکھٹے کرتا ہے ماہرین کے مطابق اس صوبے کی زیر زمین اکانومی کو بھی اگر اسکی آمدنی میں شامل کر لیا جائے تواسکی معیشت کا سالانہ حجم 176ملین ڈالر بنتا ہے مصنفین کی رائے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک اسلئے سرحدوں پر ہونیوالی تجارت کو نہیں روک سکتے کہ اس صورت میں انہیں جو نقصان ہوگا وہ اسکے متحمل نہیں ہو سکتے ایران کی مثال دیتے ہوے لکھا گیا ہے کہ طالبان نے اس ملک کی سرحد کے جس حصے پر قبضہ کیا ہوا تھا صرف اسکے ٹیکسوں کی آمدنی گذشتہ سال 384 ملین ڈالر تھی یہ بارڈر کراسنگ ان تین میں سے ایک تھی جو دونوں ممالک کی طویل سرحد پر واقع ہیں اس تحقیق کے مطابق ہر سال ان تین مقامات پر سے دو ارب ڈالر کا تجارتی سامان گذرتا ہے تجارت کے اتنے بڑے حجم کو کوئی ملک بھی نہیں روک سکتا مصنفین نے لکھا ہے کہ دو ارب ڈالر کا تخمینہ صرف سرکاری اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے اسمیں اگر زیر زمین سرحدی تجارت کے حجم کو شامل کیا جائے تو وہ بھی دو ارب ڈالر سے کم نہیں ہے اسطرح سے افغانستان اور ایران کی سرحد پر ہونیوالی سالانہ تجارت چار ارب ڈالر بنتی ہے اسی طرح پاکستان کی سرحد پر ہونیوالی غیر سرکاری تجارت بھی سینکڑوں ملین ڈالر ہے ا س تحریر کے مطابق طالبان بہت جلد جنوبی ایشیاکی علاقائی تجارت کے Major Players یعنی بڑے کھلاڑی بن جائیں گے افغانستان کی سرکاری اور زیر زمین معیشت کے دیگر ذرائع پرمزید گفتگو اگلے کالم میں ہو گی