’’بیس سال بعد‘‘

103

بیس سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے۔ دنیا بدل جاتی ہے۔ بیس سال میں ، کہتے ہیں کہ ہر دس سال میں دنیا میں ایک نئی جنریشن آجاتی ہے یعنی ان کا طور طریقہ سوچ پچھلے لوگوں سے تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔ اس حساب سے بیس سال میں یعنی 2001ء سے لے کر 2021ء تک دو جنریشنز گزر چکی ہیں اور جو بچہ گیارہ ستمبر 2001ء کو پیدا ہوا تھا وہ اب بیس سال کا ہو گیا یعنی عرصہ گزر گیا مگر دنیا اس 9/11کو بھول نہیں پاتی لگتا ہے کل کی بات ہو کیونکہ کچھ ایسے واقعات جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا 9/11 (نائن الیون)ان میں سرفہرست ہے۔
ستمبر گیارہ 2001ء کو تقریباً تین ہزار لوگ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں اپنی جانیں کھو بیٹھے تھے جس میں چار سو پولیس آفیسر اور فائر فائٹرز بھی تھے۔ یو ایس اے میں کبھی بھی اتنے پولیس آفیسرز اور فائر فائٹرز ایک ساتھ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئے۔ وہ لوگ بھی مرنے والوں میں شامل تھے جو مدد کو پہنچے اور ملبے تلے دب گئے۔
ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر یہ حملہ پہلی بار نہیں ہوا تھا، پہلے بھی 1993ء میں حملہ ہو چکا ہے جس میں چھ لوگوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھوئے ،ان دو ٹاورز میں روزانہ 50,000لوگ کام کرتے تھے اور آنے جانے والے لوگوں میں کوئی 40,000لوگ شامل تھے۔
ورلڈ ٹریڈ سنٹر گرنے سے وہاں 1.8ملین ٹن کا ملبہ پھیل گیا تھا جس میں سے دبی ہوئی باڈیز نکالنا سب سے بڑا مرحلہ تھا پھر ملبے کو صاف کرنے میں تقریباً نو ماہ کا عرصہ لگ گیا، 1.3ملین گھنٹے لگے تھے وہ جگہ صاف کرنے میں اور آفیشلی مئی تیس 2002ء کو وہاں صفائی کا کام ختم ہوا تھا حیرت انگیز طور پر ملبے میں سے اٹھارہ لوگ زندہ نکلے تھے۔
یونائیٹڈ کی فلائٹ 93کے مسافروں کو اپنے فونز کے ذریعے پہلے طیارے کی ہائی جیکنگ کا پتہ چل گیا تھا، اس لئے اس جہاز کے ہائی جیکرز پر قابو پانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں ہائی جیکرز نے جہاز کو گرا دیا اور اس میں سوار چالیس افراد کی موت واقع ہو گئی ،کبھی یہ نہ پتہ چل سکا کہ یہ جہاز کہاں سے لے جایا جارہا تھا!!
اس زمانے میں سمارٹ فونز نہیں آئے تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا ایسا تھا جو آپ کو فونز کی ایپس کے ذریعے دنیا سے ملائے، اسی لئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی ساری کوریج لوگوں نے ٹی وی پر ہی دیکھی تھی لیکن پینٹاگون پر حملے کی ویڈیوز اور imgesفوراً سامنے نہیں آئی تھیں ان کو 2006میں ریلیز کیا گیا تھا پبلک کیلئے۔
9/11کا سانحہ اتنا بڑا تھا کہ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کا کوئی مرکزی کوآرڈی نیشن نہیں تھا اس لئے چیزیں زیادہ مشکل نظر آرہی تھیں۔
9/11کسی بیرونی طاقت کا امریکہ پر اس طرح کا حملہ کرنا پہلا واقعہ تھا، جولوگ بچ گئے اس حملے سے انہیں بڑے ٹراما سے گزرنا پڑا۔ وہ لوگ جو اس وقت بلڈنگ میں تھے یا آس پاس تھے انہیں سانس کے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جسے Asthma اور lung inflammation وغیرہ، کافی لوگ چند ماہ بعد ان بیماریوں سے جانبر نہ ہو سکے۔ جو لوگ اس ٹراما سے گزرے وہ کبھی نارمل نہیں ہوئے۔ حکومت نے ان متاثرہ لوگوں کیلئے بہت سہولتیں فراہم کی جو آج تک جاری ہیں ان میں ڈاکٹرز، فائر فائٹرز اور پولیس کے اہل کار شامل تھے۔
اس حادثے میں مرنے والوں کی عمریں دو سال سے پچاسی سال (85)کے درمیان تھیں اور مرنے والے 75-80فیصد لوگ مرد تھے یعنی Maleتھے۔ لاشوں کااتنا بُرا حال تھا کہ آج تک بھی ان کی شناخت جاری ہے۔ 2020ء تک 1,647لوگ یعنی 60فیصد باڈیز کو شناخت کر لیا گیا تھا ۔ 1647باڈیز ستمبر 2021ء کو شناخت کر لیا گیا تھا یعنی کچھ ہی دن پہلے۔
امریکہ کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر گرنے سے صرف دو سے چار ہفتے کے بیچ میں 123بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور یہ سلسلہ کئی آنے والے برسوں میں چلتا رہا، کئی بڑی بڑی کمپنیاں اور بزنس کو بند ہونا پڑا تھا۔ 9/11کو کیا ہوا تھا یہ ہر اس شخص کو اچھی طرح یاد ہے جو اس وقت موجود تھا۔ دنیا ہی بدل گئی تھی اس کے بعد جو لوگ اس وقت ٹریڈ سنٹر میں موجود تھے وہ تو متاثر ہونے ہی تھے بلکہ پوری دنیا ہی متاثر ہوئی۔ ہوائی سفر سے لے کر کئی چیزیں شک و شبے کا شکار ہو گئیں۔ امریکہ کا نقطہ نظر اور پالیسیاں کئی ملکوں کو لے کر بدل گئیں۔ آج بھی گیارہ ستمبر 2001ء کل کی بات معلوم ہوتا ہے۔ اس حادثے کا اثر اتنا شدید تھا کہ لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی اس کے نقش اسی طرح تازہ ہیں۔