انجیلا مرکل:جرمنی کو یوروپ کی طاقتور ترین قوم بنا دیا !

213

جب اکتوبر 2018 میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ انتخاب نہیں لڑیں گی تو پوری قوم نے جہاں جہاں بھی لوگ تھے انہوں نے اس سے اظہاریکجہتی میں کھڑے ہو کرچھ منٹ تک تالیاں بجائیں اور اس کو خراج تحسین پیش کیا، جس سے ان کی انجیلا سے بے پناہ عزت اور جذبہ کا اظہار آشکار تھا۔ انجیلا نے ۱۸ سال تک جس طرح آٹھ کڑوڑ جرمنوں کی قیادت ، قابلیت، مہارت، جفا کشی اور خلوص سے کی، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ اور جرمن قوم اس کی خدمات کو سراہ رہی تھی۔ان اٹھارہ سالوں کی قیادت میں اس نے جو بوجھ کاندھوں پر اٹھایا، اس کے خلاف ایک ذرہ بھر کی بد دیانتی یا طاقت کے غلط استعمال کا الزام نہیں لگایا جا سکتا تھا۔اس نے اپنے کسی رشتہ دار کو حکومت میں ملازمت نہیں دی۔اس نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ملک کی شان بڑھا رہی ہے۔ اس نے کروڑوں نہیں بنائے اگرچہ بنا سکتی تھی، نہ ہی اس نے اپنے لیے کوئی انعامات رکھوائے اور نہ وعدے وعید کہ اسے کسی وقت ملیں گے۔اس نے اپنے پرانے حلیفوں سے جھگڑے نہیں اٹھائے۔ اس نے کبھی اول فول بکواس نہیں کی۔اور نہ ہی برلن کی سڑکوں پر تصویریں بنائیں۔
یہ انجیلا مرکل تھی جسے عالمی خاتون کہا گیا جو ساٹھ لاکھ مردوں کے برابر تھی۔ گذشتہ روز مرکل نے اپنی پارٹی کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔اور اس طرح اس نے جرمن قوم کو ایک بہتر حالت میںجرمنی دے دیا۔جرمنوں کا رد عمل، ان کی تاریخ کا مثالی تھا۔پوری قوم اپنے گھروں کی بالکنیز پر نکل آئے اور اس کے لیے پورے چھ منٹ تک تالیاں بجا کر اپنی پُر جوش محبت اور تکریم کا اظہار کیا۔ جرمنوں نے ایک ایسی عور ت کو خیر باد کہا، جو پیشہ کے لحاظ سے ایک کیمیکل فزسٹ تھی، جسے فیشن اور تراش خراش کا کوئی شوق نہیں تھا، نہ ہی جائیدادیں بنانے کا، یا قیمتی کاروں کا، قیمتی کشتیوں کا اور ذاتی جہاز رکھنے کا۔اسے معلوم تھا کہ وہ سابقہ مشرقی جرمنی سے آئی تھی۔ وہ جرمنی کی سب سے اونچی پوزیشن چھوڑ کر جا رہی تھی۔ اور اس نے اپنے پرانے ملبوسات تک بھی نہیں بدلے۔خدا اس نیک عورت کا نگہبان ہو اور اس عظیم جرمنی کا۔
ایک پریس کانفرنس میں کسی رپورٹر نے پوچھا کہ ہم نے محسوس کیا ہے، تم ایک ہی سوٹ کو بار بار پہنتی ہو، کیا تمھارے پاس اور سوٹ نہیں؟ اس کا جواب تھا کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں کوئی فیشن ماڈل نہیں۔ایک اور پریس کانفرنس میں کسی نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی گھریلو ملازمہ نہیں، جو تمہارا گھر صاف کرے، کھانا پکائے، وغیرہ؟ اس کا جواب تھا، نہیں۔میرے پاس کوئی ملازمہ نہیںمجھے ان کی ضرورت نہیں۔ میں اور میرا خاوند یہ سب کام خود کرتے ہیں۔
ایک اور صحافی نے پوچھا ، کپڑے کون دھوتا ہے؟ تم یا تمہارا خاوند؟ اس کا جواب تھا۔ میں کپڑے اکھٹے کرتی ہوں اور میرا خاوند انہیں مشین میں ڈالتا ہے۔عام طور پر یہ کام رات کو کرتے ہیں جب بجلی پر دبائو کم ہوتا ہے۔ لیکن اس میں بھی ضروری ہمسایوں کا خیال ہوتا ہے کہ انہیں آوازیں نہ جائیں۔پھر اس نے صحافیوں سے کہا کہ میرا خیال تھا کہ تم مجھ سے حکومت کی کار کردگی پر سوال کرو گے؟
مرکل عام شہریوں کی طرح ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہے جس میں وہ وزیر اعظم بننے سے پہلے سے رہتی آ رہی ہے۔ اس نے وزیر اعظم بننے کے بعد اسی میں قیام جاری رکھا۔ اس کی نہ کوئی کوٹھی ہے، نہ نوکر چاکر ہیں، نہ پیراکی کا تالاب اور نہ ہی کوئی پائیں باغ۔یہ ہے مرکل، جرمنی کی پرائم منسٹر، وہ ملک جو یوروپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔
اس جرمن خاتون نے ۱۸ سال یوروپ کے ملک کی قیادت کی لیکن ایسے کہ اسلام کے خلفائے راشدین کے دور حکومت کی یاد تازہ ہو جائے۔ سبحان اللہ۔ پاکستان کیا جتنے بھی غریب ملکوں کے حکمران ہیں ان کے لیے انجیلا مرکل کا کردار ایک چیلنج رکھتا ہے۔ ہمارے لوگ جب وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو ان کو سرخاب کے پر لگ جاتے ہیں اور اپنی غریب قوم کے خزانے کو اپنی عیاشیوں پر، شان و شوکت پر، پروٹوکول پر، لٹاتے ہیں۔ پاکستانی حکمران تو جائدادیں بنانے، اقربا اور اولاد کو مالا مال کرنے میں جت جاتے رہے ہیں۔اب صرف ایک وزیر اعظم آیا ہے جو اپنے گھر میں رہتا ہے اور اپنا خرچ بھی خود ہی اٹھاتا ہے۔ اور اس غریب قوم پر بوجھ نہیں بنا ہے۔ نہ جائیدادیں بنا رہا ہے اور نہ عزیز و اقارب کو نوا ز رہا ہے ۔ اس کی پرانے حکمرانوں کو بہت تکلیف ہے۔ہماری استدعا ہے کہ انجیلا مرکل کے حالات زندگی پر ایک جامع مضمون پاکستانی سکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، تا کہ طلباء کو ایک اعلیٰ شخصیت کو بطور ایک عمدہ سیاستدان اور قائدکے رول ماڈل دیکھنے کا موقع ملے۔
انجیلا مرکل ۱۷ جو لائی ۱۹۵۴ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔اور 2005 میں جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں۔1973 میں مرکل نے ہائی سکول پاس کیا۔اس کے بعد انہوں ے لیپزگ یونیورسٹی سے پڑھائی شروع کی اور اسی جگہ مرکل کی ملاقات اپنے خاوند اُلرچ مرکل سے ہوئی۔ان کی شادی ۱۹۷۷ء میں ہوئی۔لیکن۱۹۸۲ میں انجیلا کی طلاق ہو گئی لیکن انہوں نے اپنا نام نہیں بدلا۔۱۹۸۶ میں انجیلا کو اپنے ڈاکٹرول تھیسز جو کوانٹم فزکس میں تھی، اس پر ڈایکٹریٹ کی ڈگری مل گئی۔اپنی تعلیم کے دوران، انجیلا ریاست کے نوجوانوں کے ادارے میں کام کرتی رہیں۔۱۹۸۹ء میں برلن کی دیوار ختم ہونے کے بعد، انجیلا نے نئی جماعت جمہوریت کی صبح میں شمولیت اختیار کی اور اس کی پارٹی نمائندہ بن گئیں۔یہ جماعت بعد میں کرسچین ڈیموکریٹ یونین کا حصہ بن گئی، اور پارٹی انتخابات بھی جیت گئی، جس میںمرکل نائب ترجمان بن گئیں۔ دسمبر ۱۹۹۰ء میں جرمن اتحاد کے بعد جو پہلا انتخاب ہوا ، اس میں مرکل نے ایک سیاسی سیٹ جیت لی۔ جنوری ۱۹۹۱ میں ان کو خواتین اور نوجوانوں کی وزارت دی گئی۔۱۹۹۴ کے انتخابات میں مرکل کو ریکٹر کی سیفٹی وغیرہ، پر وزیر ماحولیات بنایا گیا ۔ اپریل ۱۹۹۵ میں برلن میں اقوام متحدہ نے جو ماحولیات پر کانفرنس منعقد کی، اس کی صدارت مرکل نے کی۔اسی سال مرکل نے دوسری شادی اپنے پرانے کلاس فیلو دوست پروفیسر سے کر لی۔
چانسلر کوہل پر کرپشن کے الزامات لگے جن سے مرکل نے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔۱۰ اپریل ۲۰۰۰ء کو مرکل کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی پہلی خاتون اور غیر کیتھولک صدر بن گئیں۔ اور۲۲ نومبر ، ۲۰۰۵ء میں مرکل ملک کی پہلی چانسلر بن گئیں۔ اس وقت انکی عمر ۵۱ سال تھی۔اور اس عمر میں وہ چانسلر کا عہدہ سنبھالے والی پہلی شخصیت تھیں۔
مرکل نے اپنے عہد میں پیش آنے والے بڑے بڑے مشکل واقعات کا بخوبی مقابلہ کیا۔ جیسے یورو۔زون میں قرضوں کا مسئلہ۔مرکل نے ان مشکل اقتصادی حالات کامقابلہ کرنے کے لیے اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی کو اختیار کیا اور اس میں فرانسیسی صدر کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔اور اس مشترکہ حکمت عملی پر یوروپی حکومتوں کوپابند کروایا۔مرکل کو اپنے دور حکومت کا ایک اور بڑابحران دیکھنا پڑا جو کہ لاکھوں مہاجرین کا سیلاب تھا جو شام اور افغانستان سے امڈتا چلا آ رہا تھا۔مرکل نے ان مہاجرین کی یوروپ میں کھپت کی بہت کوشش کی۔ اس نے جرمنی میں دس لاکھ مہاجرین کو داخل کیا جس سے اس کی پارٹی کی سیاسی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔جس کا کچھ مداوا تب ہوا جب مرکل نے ہم جنسوں میں شادی کے قوانین کی مخالفت نہیں کی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکل کی حکمرانی کا نمایاں کردار اس کا حقیقت پسندانہ رویہ تھا جس میں وہ مخالفین کی بھی جائز تنقید کا خیر مقدم کرتی تھی۔اس کی ایک اچھی مثال مرکل کا یہ فیصلہ تھا کہ ۲۰۱۱ کے جاپان کے ایٹمی بجلی گھر میں حادثہ ہونے پر جرمنی میں بھی ایٹمی بجلی گھر کو بند کردیا جائے۔ سن ۲۰۱۱ء میں مرکل کو امریکہ کا صدارتی میڈل آف فریڈم کا اعزاز دیا گیا۔
انجیلا مرکل کا دور حکومت اس کی یوروپ میں کئی خدمات سے عبارت تھا۔اس کے دور میں جرمنی یوروپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بنا۔ مرکل نے زبردستی فوجی بھرتی کا پروگرام ختم کروایا۔اس نے جرمنی کے مستقبل سے ایٹمی توانائی اورنباتاتی وسائل سے حاصل ہونے والی توانائی کو ختم کروایا۔ ہم جنسوں کی شادی کا قانون، قومی سطح پر کم از کم اجرت کا قانون، اور اگر باپ چھوٹے بچوں کی پرورش میں حصہ لے تو اس پر اس کو فوائد۔وغیرہ۔ مرکل کو اس کے اہل وطن نے کہا کہ اس نے جرمنی کو نازک حالات میں اچھی طرح سے سنبھالا دیا۔ مرکل نے کو وڈ کی وباء کا بھی اور ملکوں سے بہتر مقابلہ کیا، جس میں جرمنی کی حالت دوسروں کے مقابلہ میں بہتر رہی۔
انجیلا مرکل اس مہینے کے آخر میں جرمنی کے انتخابات ہونے پر اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گی ۔ اور غالباً اپنے اپارٹمنٹ میں ، ہمیشہ کی طرح، سادہ زندگی گزاریں گی۔عین ممکن ہے کہ ان کی خدمات ، تعلیم اور تجربہ کی بنیاد پر کسی عالمی ادارہ کا سر براہ بنا دیا جائے۔ ان سے بہتر کسی قابل شخصیت کا ملنا آسان نہیں۔ایک بہت اعلیٰ خاتون جو ہر لحاظ سے دنیا کی خواتین میں چراغ روشن ہے۔