عہد جدید میں سلطنتوں کی مدتِ استعماریت!

229

ترکی کے سابق صدر سلیمان ویمرل نے چند دہائیوں پہلے کہا تھا کہ زمانہ عہد جدید میں سلطنتوںکی استعماریت کی مدت صرف چالیس سالوں تک محدود رہ گئی ہے جو زمانۂ قدیم کی سلطنت قیصر و کسرا، خلافتوں، ملوکیتوں، استعماری طاقتوں کی طرح صدیوں تک حکمرانی نہیں کر پائے گی جس طرح مسلمان عربوں کا 9سو سال اندلس، مرکزی ایشیا کے مسلمانوں کا سات سو سال، سلطنت عثمانیہ کا چھ سو سال یا پھر برطانوی، فرانسیسی، ولندیزی، پرتگالی، ہسپانوی اور اطالوی حملہ آوروں کا سینکڑوں سال نوآبادیاتی نظامِ حکومت برقرار رہا مگر آج عہد جدید کی استعماری طاقت امریکہ صرف 46سال تک ویتنام اور بیس سال تک افغانستان پر اپنا تسلط برقرار رکھ پائی جس کو دونوں ملکوں سے اپنی آخری فلائیٹ کے ذریعے بھاگنا پڑا ہے جس کے باوجود ابھی بھی امریکہ اور مغرب عراق، لیبیا اور شام پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں جس کے عوام اب شاید افغانستان کو دیکھ کر متحد ہو کر مغربی دنیا کی جدید نو آبادیاتی نظام سے چھٹکارہ پا لیں گے جن کو نسلی اور مذہبی نفرتوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ وہ عراق جس نے برطانوی سامراجی طاقت سے آزادی حاصل کی جس کے نامزد بادشاہ فیصل کو بغداد کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا وہ دوبارہ سامراجی استعماری طاقتوں کا شکار ہو کر مقبوضہ کالونی بن گیا جس کے قوم پرست صدر صدام کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا کہ آج عراق شیعہ، سنی، عربوں اور کردوں میں بٹا ہوا ہے جس کی تیل کی دولت ہڑپ کر لی گئی مگر کربلا کے مجاوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جو اپنا حسینی ماتم کرتے رہے جبکہ دولت مغربی طاقتیں لوٹ کر لے گئیں۔ اسی طرح لیبیا جس کو کرنل قذافی نے بادشاہت سے نجات دلوائی تھی جو فلسطین کا مددگار ثابت ہوا تھا جو افریقہ کا قیادت بن کر سامنے آیا جس نے افریقی ریاستوں کی یونین اور ایک کرنسی کی بنیاد رکھی تھی انہیں ایک دن مغربی طاقتوں نے اپنے خوفناک اور دہشت ناک حملوں سے تباہ و برباد کر کے کرنل قذافی کو دنیا بھر کے سامنے قتل کر دیا یہی حال آج شام کا ہے کہ جس کی قیادت لالچی اور متصبی ہے جو 80فیصد سنی مسلمانوں کا دشمن بن چکا ہے جن کا عقیدہ شرک کا ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خدا مانتا ہے وہ آج مسلمانوں کا دشمن بن چکا ہے جس کی آڑ میں مغربی طاقتیں بشمول صہونیت انبیائے کرام کے جائے مقام ملک شام کو نیست و نابود کررہی ہیں کہ آج شام کے چالیس لاکھ مسلمان دربدر گھوم رہے ہیں جبکہ ہزاروں شامی باشندے مارے جا چکے ہیں جس کا سب سے بڑا دشمن حافظ اللہ اسد ہے جو اقلیت میں ہو کر اکثریت کو قتل و غارت گری پر تلا ہوا ہے جو ایک ناقابل برداشت عمل ہے جن کو شاید معلوم نہیں ہے کہ وہ دن دور نہیں ہے کہ جب عوام کی طاقت اسی طرح رسوا کرے گی جس طرح امریکہ افغانستان سے رسوا ہو کر بھاگا ہے تاہم امریکہ نے افغانستان میں پڑی ہو ئی لکڑی کاٹھی جو اس کے گلے تک چلی گئی ہے کہ اپنی تمام بحری ہوائی اور بری فوجی طاقت کے باوجود ایک لاکھ ننگے پائوں پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس، موٹر سائیکلوں اور بائیسائیکلوں پر سوار طالبانوں سے شکست کھا گیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی جو ۳۱ اگست کو اپنی آخری فلائیٹ کے ساتھ افغانستان چھوڑ کر بھاگ نکلا جس نے بیس سال پہلے ایک غیر انسانی اور غیر اخلاقی جنگ مسلط کی تھی کہ طالبان نے دہشت گرد اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی جس کی آڑ میں کابل اور دوسرے علاقوں پر ایسی ہولناک بمباری کی تھی کہ انسان تو انسان حیوان بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے آج وہی طالبان دوبارہ بڑی شان وشوکت سے کابل پر قابض ہو چکے ہیں جنہوں نے اٹھارویں صدی کی روایات کے مطابق ایک مذہبی ریاست کی بنیاد رکھی ہے جس میں تمام ملائوں کو حکمران بنایا گیا ہے جن کا علم صرف اور صرف دینی مدرسوں کا ہے جو دنیاوی علوم سے ناواقف ہیں جو نہیں جانتے کہ جدید ریاست میں جدید تعلیم کام آتی ہے جس کا افغانستان میں فقدان ہے جن کی وجہ سے افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کے امکانات پیدا ہورہے ہیں جن کو اسلامی روایات کے مطابق فتح مکہ صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ سے سبق حاصل کرنا ہو گا کہ کس طرح حضور پاک ﷺ نے میثاق مدینہ میں غیر مسلمانوں کو مساوی حقوق دئیے۔ صلح حدیبیہ میں قیدی کافروں کو مسلمانوں کو علم سکھانا پڑرہا تھا۔ فتح مکہ میں مسلمانوں کے قاتلوں ظالموں اور جابروں کو عام معافی دے کر معاف کر دیا تھا جس کے بعد مکہ میں امن قائم ہوا۔ جس کا اسلام پوری دنیا میں پھیل گیا جس کے بعد سرزمین حجاز کے باسیوں نے چند دہائیوں میں اندلس، ایران، شام، مصر، مرکزی ایشا اور یورپ فتح کر لیا تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ جب قیصر و کسرا کی سلطنتوں کا پوری دنیا پر قبضہ تھا جن کے محلوں میں عیش و عشرت جاری تھی جن کے بادشاہوں کے فرمان موت کے پروانے تصور ہوا کرتے تھے مگر مسلمانوں کی مزاحمت نے مجوزہ سلطنتوں کو ڈھیر کر دیا۔ آج بھی وہی طاقت استعمال کی جائے تودنیا بھر کی پسی ہوئی عوام کو مقامی اور غیر مقامی استحصالی طاقتوں سے نجات مل سکتی ہے بشرطیکہ نظریاتی ایمان اور جوش ہو۔بحرحال دور جدید میں سلطنتوں کا دور ظلمت اور بربریت کے خاتمے کا وقت آپہنچا ہے جس کے حواریوں کا وہی حشر ہو گا جس طرح افغانستان کے غنی کا ہوا ہے کہ ہو اپنی تین لاکھ فوج کے باوجود تیس ہزار طالبانوں کے سامنے ٹک نہ سکا۔ لہٰذا افغانستان میں طالبان کی کامیابی صرف افغانستانوں کی فتح نہیں ہے اس کے کے بڑے دور رس نتائج برآمد ہوں گے جس میں آزادی پسند قوتیں مضبوط ہوں گی جو اپنے اپنے ملکوں کے جابروں اور ظالموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں کہ اگر بھوکے ننگے طالبان سپرپاور کو شکست دے سکتے ہیں تو مظلوم عوام اپنے آمروں، جابروں اور ظالموں سے کیوں نہیں چھٹکارا پا سکتے ہیں جو عنقریب عرب اسپرنگ ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ بے بس اور بے کس ،بدحال اور بے حال عوام متحد ہو جائیں۔