چائے کے کپ کا ابال!!

245

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی افغانستان کے دارلحکومت کابل پہنچنے کے بعد کی ایک تصویر شیئر ہوئی جس میں انہیں چائے کا کپ اٹھائے کچھ افراد کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کابل کے دورے نے انڈیا میں تھر تھلی مچا دی۔ کابلی قہوہ ہم نے نوش فرمایا اور دھواں ہندو کی کھوپڑی سے اٹھ رہا ہے اور جلن ایسی کہ امریکی برنال بھی بیکار ثابت ہوگئی۔حمید سے حمید تک افغانی محاذ پر ایک تاریخ بنا رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔12 اپریل2019ء کو ترقی پا کر لیفٹیننٹ جنرل بن گئے تھے۔ فیض حمید کو رواں برس اپریل میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملی تھی اور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔فیض حمید کو رواں برس اپریل میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملی ۔برطانوی اخبار ’دا گارڈین‘ کے مطابق ابتداء کے دس سال آئی ایس آئی کے لیے کچھ اچھے نہیں رہے۔تاہم حالات دسمبر 1979 میں بدلے جب افغانستان میں سوویت ٹینکوں نے چڑھائی کر دی۔ ایجنسی نے افعانستان کی سرحد پر خفیہ ٹریننگ کیمپ بنا رکھے تھے جس میں اسی ہزار سے زائد جنگجوؤں کو’جہاد‘ کی ٹریننگ دی گئی۔ 1989 میں افغانستان سے روسیوں کے انخلاء کے بعد سی آئی اے نے پاکستان کو تقریباً خیر باد کہہ دیا تھا لیکن آئی ایس آئی میں جہاد کا جذبہ باقی رہا۔ 1993 میں امریکہ نے پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کردیا جن پر دہشتگرد ہونے کا شبہ ہے۔ 2001 میں جب امریکی اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پہنچے تو سابق صدر پرویز مشرف نے طالبان سے نظریں پھیر لیں اور اس کے بعد جنوری میں انہوں نے جہادی گروپوں کا خاتمہ کرنے کا عزم کیا۔آئی ایس آئی پاکستان کا منجھا ہواتربیت یافتہ ادارہ ہے جس کی صلاحیتوں کی دنیا قائل ہے۔ پاکستان اندرونی بیرونی دشمنوں سے جو آج تک بچا چلا آرہا ہے اللہ کے کرم کے بعد پاک فوج کی جفا کش تربیت اور حب الاطنی ہے۔ جنرل ضیا الحق نے امریکہ کا ساتھ دیا اور روس کی طاقت توڑ ڈالی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کی قیادت میں ادارے کی افغان جنگ میں کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں ، فوج ایک منظم ادارے کا نام ہے۔ جب افغانستان سے سوویت فوج کا انخلا مکمل ہوا تو امریکی سی آئی اے کا اندازہ تھا کہ نجیب اللہ حکومت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں ختم ہوجائے گی۔ لیکن جنرل حمید گل کی خواہش تھی کہ چھ مہینے بھی کیوں؟ چنانچہ انھوں نے بینظیر حکومت کو بریفنگ دی کہ گذشتہ دس برس میں مجاہدین اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی بڑے افغان شہر پر آسانی سے قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو نجیب اللہ کے فوجی دستوں کا مورال تیزی سے ختم ہوجائے گا اور پھر ایک کے بعد ایک شہر مجاہدین کے آگے ڈھیر ہوتا چلا جائے گا۔جنرل حمید گل کا ورثرن جیت گیا۔ امریکہ نے 2001 میں اسامہ بن لادن کی تلاش کو جواز بنا کر افغانستان پر پھر چڑھائی کر دی اور بیس سال تک مسلسل جنگ مسلط کرنے کے باوجود تھک ہار کے اگست 2021 میں بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔امریکہ کا خیال تھا افغانستان کو بے آسرا چھوڑ جانے سے خانہ جنگی ہو گی اور بھارت اور پاکستان میں بھی کشیدگی مزید بڑھے گی مگر آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹینٹ فیض حمید کا کابل میں حالیہ دورے نے دشمنوں کو پریشان کر دیا اور یہ ثابت کر دیا افغانستان سے متعلق تمام گزشتہ پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں، افغانستان میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، افغانستان کے عوام کے ساتھ۔ جنرل فیض حمید کے حالیہ دورہ ٔکابل سے پاک افغان تعلقات کی نئی پالیسی مرتب ہوئی اور افغانستان میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ بلا شبہ پاک افغان تعلقات میں جنرل حمید گل سے جنرل فیض حمید تک آئی ایس آئی نے اہم ترین کردار ادا کیاہے۔