پی ٹی آئی کی کامیابی عوام کی بیداری کا ثبوت ہے!!

197

پھولن دیوی کی عدالت میں حاضری، کنیز خاص نے بہت سے ڈھولچی، طبلچی جمع کر لئے تھے۔ عدالت کے اندر بھی کچھ براجمان تھے۔ جب پھولن دیوی کمرۂ عدالت میں داخل ہوئیں تو ڈھولچی ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے انہوں نے ’’اسلام علیکم‘‘ کہا اور جب تک بیٹھ نہ گئیں سب کھڑے رہے۔ ججز یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ یہ رویہ عدالتی اصولوں اور قانون کے خلاف تھا۔ ذرا سوچنا چاہیے کہ عوام پر عدالت کا احترام لازم ۔ کمرہ ٔعدالت ایک عورت ملزمہ کی حیثیت سے آئی ہے۔ جس پر کرپشن کے الزامات ہیں، جس نے جھوٹ اور مکاری کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ کیا عوام کو زیب دیتا ہے اس طرح ایک مجرمہ کا استقبال کریں۔ پھولن دیوی یہ سمجھ رہی تھیں کہ ان کے باپ کے زمانے کی لونڈی، باندی عدالت ہے۔ یہاں پر اس چوٹٹی کا احترام بجا ہے۔ ججز ان کے اس رویے پر چراغ پا ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ عدالت کا احترام ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا۔ جج صاحب نے سوال کیا کہ ان کے (پھولن دیوی کے) اس رویے کی وجہ سے کہ یہعدالت میں حاضری کی تہذیب سے بھی نابلد ہیں ’’کیوں نہ انکی ضمانت منسوخ کر دی جائے‘‘۔ وہ تو خیر ہو گئی ان کے وکلاء اور عطا تاررڑ نے معافی مانگ لی۔
اس ٹبر کے لئے جب یہ عدالت میں حاضری دیتے ہیں ایک ہجوم گلاب کی پتیاں نچھاور کرتا ساتھ ہوتا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے اوپر کرپشن کے کئی کیسز ہیں۔ آج کل طلال چودھری اور جاوید لطیف بہت چپک رہے ہیں۔ جاوید لطیف غدار وطن ہیں اور سزایافتہ بھی ہیں۔ وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہیں۔ ان پر سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کے الزامات ہیں۔ عمران خان نے خود کہا کہ یہ قبضہ مافیا بہت طاقتور ہو گیا ہے۔ سندھ میں زرداری گروپ نے اربوں کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اندرون سندھ بلاول کو کسی جلسے جلوسوں میں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ روٹی، کپڑا، مکان ڈرامہ فلاپ ہو گیا۔ اب آج کل وہ ن لیگ پر تیروں کی بارش کررہے ہیں۔ پی ڈی ایم کا پھر جنازہ نکلنے والا ہے۔ ملا جی آرام کریں۔ سابق کرکٹر شعیب اختر فرماتے ہیں ’’مجھے زرداری کی حب الوطنی پسند ہے‘‘ یعنی آپ کو بھی وطن سے اتنی ہی محبت ہے جتنی زرداری کو ہے۔ آپ کی عقل پر تو ماتم کرنا چاہیے۔ آپ جیسے پاگل دیوانوں کی کمی نہیں۔
یہ ایسے ہی لوگ ہیں جنہیں کہا جاتا ہے ’’مر گئے مردود، نہ فاتحہ نہ درود‘‘ دلوں پر حکومت وہی لیڈر کرتے ہیں جن کے دلوں میں عوام کا دکھ ہوتا ہے جو اپنی قوم اور ملک کے لئے کچھ کر کے اس دنیا سے جاتے ہیں۔ سید علی گیلانی صاحب ایک ایسے ہی زیرک لیڈر تھے انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔اپنی زندگی کے 50سال جمہوریت کی بقاء کے لئے قربان کر دئیے اور دنیا میں اپنا نام کر دیا۔ وہ اپنے آپ کو پاکستان کہا کرتے تھے اور انہیں پاکستانی جھنڈے میں دفن کیا گیا۔ اور اپنی قوم کو جبر سے نجات دلانا چاہتے تھے۔ اپنی قوم کی آزادی دلوانے کے خواہاں تھے۔ ان کے جنازے میں ایک ہجوم اشکبار تھا۔ وہ لوگ کبھی نہیں مرتے جو کسی مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور ان کی نظر میں اپنی قوم اور ملک کی بقاء کے بارے سوچتے ہیں وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک شاندار مستقبل چھوڑ کر جاتے ہیں۔
تبدیلی سرکار بہت مذاق اڑایا جاتا ہے اور اب آنکھیں کھول کر دیکھیں اتنی مہنگائی کے سمندر میں غوطے لگاتے ہوئے عوام اُسی سرکار کو ووٹ دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں معیشت کی بدحالی کا سبب کون ہے اور یہ چور ڈاکو سب کچھ لوٹ کر عیش کررے ہیں۔ مرے پر سو درے عوام کی زبوں حالی پر گرگٹ کی طرح آنسو بہارہے ہیں لیکن حضور اب یہ سوچئے عوام آپ کے بھرّے میں نہیں آئیں گے جو اچھی طرح آپ کو پہچان گئے ہیں البتہ لاہوریوں کی سمجھ میں نہیں آیا ہے وہ ابھی تک بھگوڑے کے سحر میں گم ہیں وجہ یہ ہے کہ اپنے کاذب حکمران کے دور حکومت میں ہر قسم کا کرپشن کرنے کے لئے آزاد تھے۔ قومی خزانے میں بھی حصہ ملا۔ سرکاری زمینوں پر قبضے کئے کوئی بازپرس نہ ہوئی۔ حوصلے بڑھ گئے۔ وہی مثال ہے کہ ’’جب سیاں بھئے کوتوال پھر ہمیں ڈر کس کا ہے۔ جرائم بہت سی نئی نئی شکل میں ایجاد ہو گئیں۔ حد یہ ہے پیسہ کمانے کی دھن میں معصوم بچوں سے زیادتی کی فلمیں بنا کر دوسرے ملکوں میں بھاری رقوم لیکر بیچی جانے لگیں۔ آٹا، چینی کا بحران پیدا کردیا۔ مہنگائی کا پہاڑ توڑ دیا۔ عوام بیچارے پس کر رہ گئے لیکن آج یہ ثابت ہو گیا کہ حق کی فتح ہو گئی۔ بیداری اور تبدیلی مبارک ہو۔
باطل دوئی پسند ہے حق ہے لا شریک ہے
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول!!
ہماری قوم بڑی صابر اور جفاکش ہے۔ جن مسائل سے اور مصیبتوں سے وہ گزررہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے لیکن جس طرح وہ کاروبار زندگی چلارہے ہیں ان کے صبر کو داد دینی چاہیے چونکہ وہ پرامید ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں کے لئے بہتری آئے گی پی ٹی آئی کی کامیابی عوام کی بیداری کا ثبوت ہے۔ انشاء اللہ عوام اگر سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ جائیں تو حکومت کامیابی کے ساتھ اپنی منزل مقصود تک ضرور پہنچ جائے گی۔ اس کرپشن مافیا کو عوام ہی شکست دے سکتے ہیں۔