پنجشیر کے احمد مسعود اور سابق افغان نائب صدر امر صالح کی پراسرار گمشدگی کیا پاکستان کیلئے باعث پریشانی ہے؟

190

وادیٔ پنجشیر میں جہاں گزشتہ دنوں طالبان کے مکمل قبضے یا کنٹرول کی خبر پاکستان کیلئے باعث اطمینان رہی وہیں وادی کے دامن میں محصور دو پنجشیر کے لیڈروں احمد مسعود اور امر صالح کی پراسرار گمشدگی نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کیلئے لمحۂ فکریہ پیدا کر دیا ہے۔ کیا وہ ہلاک ہو گئے ہیں یا پھر روپوش ہو گے ہیں۔ کچھ اعلانات نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود طالبان بھی اس پورے معاملے میں خاموش نظر آرہے ہیں جو اس نکتے کو فروغ دیتے ہیں کہ دونوں کی گمشدگی یا روپوشی ایک باہمی رضا مندی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ جس وقت وادی پنجشیر کیلئے طالبان کی پیش رفت ہورہی تھی اور کئی مقامات پر ’’مزاحمتی محاذ‘‘ اور طالبان کے درمیان لڑائی کی خبریں بھی موصول ہورہی تھیں عین اس وقت پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کابل پہنچے ہوئے تھے اور ایک تیسرے فریق یا ثالث کے طور پر وہ طالبان اور احمد مسعود کی پارٹی کے درمیان مزید خوں ریزی کے بغیر کسی ایک معاہدے پر پہنچے کی کوشش کررہے تھے اور بالآخر اس ثالثی کے بعد’’مزاحمتی محاذ‘‘ کے لوگوں نے طالبان کو پنجشیر میں داخل ہونے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کیا اور مسعود اور صالح پس منظر سے غائب ہو گئے۔ اس حوالے سے دو ممالک پاکستان اور فرانس کے نام لئے جارہے ہیں جہاں پر یہ دونوں افراد اگر زندہ ہیں تو موجود ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ نقشے پر نظر ڈالیں تو پنجشیر کاعلاقہ چاروں طرف سے طالبان کے زیر قبضہ افغان علاقے میں گھرا ہوا ہے اور بات تقریباً ناممکن نظر آتی ہے کہ کوئی شخص وہاںسے بغیر باہمی رضا مندی کے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ بات عین ممکن ہے کہ طالبان کی مرضی سے ملا برادر کی طرح احمد مسعود کو بھی پاکستان کی تحویل میں دے دیا ہو، تاکہ خون ریزی سے بچا جا سکے یا پھر وہ پاکستان کے راستے فرانس بھی جاسکتے ہیں جہاں پر ان کے والد احمد شاہ مسعود کی بیٹی، یعنی احمد مسعود کی بہن ہے جو فرانسیسی حکومت کے تعاون سے ایک جلاوطن تحریک پنجشیر کے حوالے سے چلا سکتی ہیں ۔ واضح رہے کہ فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کبھی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ امریکہ یا برطانیہ نہیں بلکہ فرانس طالبان کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گا اور وہاں ایک پروپیگنڈا سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ احمد مسعود پیدا تو ہوئے تھے افغانستان میں مگر ابتدائی تعلیم انہوں نے ایران میں حاصل کی اس کے بعد انہوں نے بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری یونیورسٹی آف لندن سے حاصل کیں۔ ان کے اس پس منظر کے باعث بھی انہیں یورپ اور امریکہ کا میڈیا زیادہ کوریج دیتا ہے اور اسی لئے شاید ایران کا رویہ بھی پنجشیر کے حوالے سے پاکستان اور طالبان کے خلاف معاندانہ ہے۔ آج کی دنیا میں ہر بات کا انحصار مفادات سے وابستہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سینیٹ کی کارروائی کے دوران ٹونی بیلنکس نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں کے پاک امریکی تعلقات کے دوران پاکستانی حکومت کا رویہ امریکہ کے ساتھ کہیں مخلصانہ بھی تھا اور کبھی معاندانہ بھی رہا کیونکہ جس طرح سے امریکہ کے مفادات ہیں اسی طرح سے کئی مقامات پر پاکستان کے بھی قومی مفادات ہوتے ہیں اورانہیں ان مفادات کے حوالے سے ہی عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس تمام صورت حال میں شروع دن ہی سے پاکستان کا موقف بڑا واضح رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہر حال میں افغانستان میں خانہ جنگی سے گریز کیا جائے چاہے اس کی خاطر آئی ایس آئی کے سربراہ کو کابل ہی کیوں نہ جانا پڑے اور ظاہر ہے اس صورت حال میں کسی ایک پارٹی یا ملک نے ناراض تو ہونا ہی تھا مگر اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو صرف وہ ہی قدم اٹھانا چاہیے جو کہ ملک کے مفاد میں ہو نہ کہ غیر ضروری مداخلت۔ پچھلے چالیس سالوں میں افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی صورت حال نے پاکستان کو براہ راست متاثر کیا ہے اور آج بھی چالیس سال سے ملک میں تیس لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں،کیوں؟