طالبان کابینہ وجود میں آگئی، اب دنیاکا ردعمل کیا ہو گا؟

91

افغانستان میں 30 افراد سے زیادہ کی کابینہ کا اعلان ہو گیا۔ ذبیح اللہ مجاہد جن کو لوگ وزیر اطلاعات امید کررہے تھے ان کو نائب وزیر اطلاعات کا شعبہ ملا۔ سب سے حیران کن اعلان وزیراعظم کا تھا۔ عام تاثر دنیا میں یہ تھا کہ ملابرادر وزیراعظم ہوں گے۔ قطر کے مذاکرات میں جو ان کا کردار تھا یا بعد میں جس طرح پوری دنیا میں یہ امید کی جارہی تھی کہ وہی وزیراعظم ہوں گے اس کے برعکس ملا حسن اخوند کو یہ عہدہ ملا جو پس منظر میں تھے ان کے متعلق یہ خبریں ہیں کہ بہت مذہبی آدمی ہیں اور اسلام کو نافذ کرنے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اب دیکھتے ہیں ملا برادر کس طرح ان کے ساتھ کام کرتے ہیں ایک اور نائب وزیراعظم کا اعلان ہوا ہے اس کا عہدہ مُلا یعقوب کو ملا۔ وزیر دفاع کا افغانستان میں اس وقت تین طرح کی شورش موجود ہیں ۔ وادی پنج شیر جہاں مسعود نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے امر اللہ صالح بھی کہیں پہاڑوں میں روپوش ہے۔ بھارت امریکہ اور مغربی ممالک بھی ان کو سپورٹ کررہے ہیں وہ ہر قیمت پر افغانستان میں افراتفری چاہتے ہیں وہ طالبان کو سکون سے حکومت نہیں کرنے دینا چاہتے۔ ان کے مفادات اب بھی افغانستان میں موجود ہیں وہ احمد مسعود کو سپورٹ کر کے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے بکھری ہوئی اشرف غنی کی تین لاکھ فوج وہ بھی افغانستان میں ہی موجود ہے اس میں بھی احمد شاہ مسعود تاج شامل ہیں۔ تیسرے داعش کے لوگ بھی کسی نہ کسی شکل میں افغانستان میں ہی ہیں وہ بھی طالبان کو سکون سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ ملا یعقوب کو بہت اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے سراج الدین حقانی وزیر داخلہ ہوں گے۔ کابل میں جس طرح عورتوں نے مظاہرہ کیا ہے وہ بہت خطرناک سوچ کی غمازی کرتا ہے کابینہ کے حلف اٹھانے سے پہلے عورتوں کی اتنی ہمت کہ وہ احتجاج کریں اور پاکستان کے خلاف نعرے لگائیں بھارت اور مغربی ایجنڈا ہے طالبان حکومت کو اس کو بہت سیریس انداز میں لینا چاہیے یہ سوچ اور انداز آگے چل کر ان کو سکون سے حکومت نہیں کرنے دے گا اور ایک خانہ جنگی کاماحول شروع ہو جائے گا۔ نئے NDSچیف ملا عبدالحق کو پاکستان کے خلاف پالیسیوں کو بدلنا ہو گا تاکہ پڑوسی ملک میں سکون ہو۔ اس وقت ان کے سامنے داخلی طور پر بہت چیلنج ہیں۔ وزیر خارجہ کا عہدہ بہت اہم ہے وہ جس شخص کو ملا ہے ان کے متعلق یہ مشہور ہے وہ مذاکرات کے ماہر ہیں پوری دنیا سے انہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کروانا ہے تاکہ مالی طور پر افغانستان مستحکم ہو سکے ورنہ جس طرح امریکہ اور مغربی ممالک مالی پابندی لگا رہے ہیں افغانستان گھٹنوں پر آجائے گا۔ مہنگائی آسمان پر پہنچ جائے گی لوگ پھر اشرف غنی حکومت کو یاد کریں گے۔
اس کابینہ کے اعلان کے بعد اب مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے ردعمل کا انتظار ہو گا۔ امریکہ کی لسٹ میں جتنے دہشت گرد تھے زیادہ تر سب ہی وزیر بن گئے ہیں۔ اب ان کے سر کی قیمتوں کا کیا ہو گا جو ان کو گرفتارکروانے یا مارنے کی قیمت لگائی گئی تھی کیا وہ واپس لی جائے گی اور ان سے مذاکرات کئے جائیں گے اور ان کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جائے گا یا دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ کل جب ایک صحافی نے جوبائیڈن سے افغانستان کو تسلیم کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا یہ فیصلہ ابھی بہت دور ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے امریکہ بھی بہت محتاط رہے گا اور حالات کا انتظار کرے گا بہت سے مغربی ممالک بھی خاموش ہیں صرف جرمنی کی طرف سے بیانات آرہے ہیں اور نئی حکومت کو شائد جلدی تسلیم کر لیں برطانیہ بھی افغانستان سے اپنے تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی راہ میں امریکہ اور سینیٹرز سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سب سے اہم پوزیشن اور فیصلہ روس اور چائنہ کا ہو گا۔ جب سے طالبان وفد نے چین کا دورہ کیا تھا اس کے بعد سے چین طالبان کے ساتھ کھڑا ہے میری ذاتی رائے میں طالبان حکومت کو اب سب سے زیادہ مالی مدد چین سے ہی ملے گی اس کے پاس ہی سب سے زیادہ پیسے ہیں دوسرے فوجی طاقت بھی ہے پاکستان طالبان کا دوسرا گھر ہے ان کی زیادہ تر قیادت پاکستان میں ہی پڑھی ہے پاکستان کا ایک بارڈر طالبان کے آنے کے بعد محفوظ ہو گیا اب وہ بھارت سے کشمیر کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کر سکے گا سب سے زیادہ پاکستانی قوم کو جنرل باجوہ کا احسان ماننا چاہیے کہ اس نے افغان بارڈر پر باڑھ لگا کر مزید تیس لاکھ مہاجرین سے پاکستان کو محفوظ کر دیا ورنہ مزید تیس لاکھ افغانی پاکستان میں داخل ہو جاتے اور ان کو روکا نہیں جا سکتا تھا آنے والے دنوں میں طالبان حکومت کی کارکردگی پر ہی مغربی ممالک کا ردعمل سامنے آئے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.