سیاسی تشریحات!!

88

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی 1608میں وارد ہوئی اور رفتہ رفتہ پورے ہندوستان پر اس کا کنٹرول ہو گیا، 1858 میں ایک قانون کے تحت پہلے وائسرائے لارڈکیننگ نے ہندوستان کا کنٹرول سنبھا لیا، اس سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی نے تمام معاملات اپنی مرضی سے چلائے، اور 28دسمبر 1885ء میں دو پارسی افراد دادا بھائی نورو جی اور ڈنشا ایدلجی نے ALLAN OCTOVIAN HUMEکی مدد سے آل انڈیا نیشنل کانگریس قائم کی، تاکہ انڈین خود ہندوستان کا نظام چلائیں، 1858سے 1885ء تک کا عرصہ محض 28سال بنتا ہے گویا پہلے وائسرائے کی تقرری سے صرف 28سال بعد حکومت برطانیہ نے چاہا کہ ہندوستانی خود اپنی حکومت چلائیں، ان حقائق کے بعد بھی اگر تجزیہ کار یہ کہیں کہ جنگ عظیم دوم کے کاری زخم کھانے کے بعد برطانیہ نے انڈیا سے جانے کا فیصلہ کیا تو اس دانش پر حیرت ہو گی، جنگ عظیم اول سے قبل ہی آل انڈیا نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا اور اشارے مل رہے تھے کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ ہندوستانی خود اپنے سیاسی معاملات دیکھیں، 1857ء کا غدر تو پہلے وائسرائے کے آنے سے پہلے کی بات ہے، ہم چونکہ جھوٹی تاریخ بچوں کو پڑھاتے ہیں تو بچے یہی یقین کرتے ہیں کہ ایک عورت کی فریاد پر محمد بن قاسم بغداد سے بھاگا ہوا آیا اور سندھ پر حملہ آور ہو گیا، بالکل اسی طرح ہم نے یہ بھی سمجھ لیا ہے کہ ہم نے انگریزوں سے آزادی چھین لی ہے برطانیہ نے ہندوستان کیوں چھوڑا اس موضوع پر کوئی وضاحت برطانوی حکومت کی جانب سے نہیں آئی اور نہ ہی ایسی کوئی دستاویز سامنے آئی، ایسٹ انڈیا کمپنی سے برطانوی حکومت نے معاملات کیوں اپنے ہاتھ میں لئے اس بارے میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں ان واقعات کا ذکر ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی درندگی کے حوالے سے ہیں جو اس نے مقامی آبادی سے روا رکھی تھی مگر یہ بھی ذہن نشین رہے کہ کمپنی کے انگریز ملازمین صرف بارہ سو تھے باقی ساری فوج ہندوستانیوں کی تھی اور ہندوستانی ہی ہندوستانیوں کو مار رہے تھے۔
سیاست MULTI DIMENSIONALہوتی ہے اور یہ ساری دنیا کا طریقہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کرنے کی بجائے ہمیشہ ان کو الزام دیتے ہیں جو ان کے ملک پر حملہ کرتے ہیں اور علاقے پر قبضہ کر لیتے ہیں افغانستان کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے، افغانستان میں برطانیہ روس اور امریکہ کے آنے کے اسباب سب مختلف تھے سب الگ الگ، مگر پاکستان کے تجزیہ نگار نہ تو اتنا علم رکھتے ہیں نہ وہ سچ بول سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو سچ بولنے کی اجازت ہے، بنیاد پرستوں کی طاقت کے سبب ان باتوں پر بات نہیں ہو سکتی جو ان کے نظریات سے متصادم ہوں یا جس سے ان کو اپنی فکری برہنگی کا خدشہ ہو، اور اگر کسی نے یہ جرأت کی تو اس کی سزا موت ہو سکتی ہے پاکستان وہ ملک ہے جہاں صحافی قتل ہورہے ہیں اور یہ صحافیوں، اقلیتوں، لبرلز، عورتوں اور بچیوں کے لئے بھی محفوظ نہیں ہے لہٰذا یہ توقع تو رکھنی ہی نہیں چاہیے کہ پاکستان میں بے باک تجزیہ ہو سکتاہے، پھر ہر ٹی وی چینل کی اپنی پالیسی ہے ان کو حکومت کی بات ماننی ہوتی ہے کیونکہ ان کو حکومت کے اشتہارات بھی چاہیے ہوتے ہیں، اینکرز اس پالیسی سے اختلاف کر ہی نہیں سکتے وہ ایک حد تک ہی سچ بول سکتے ہیں اور ایک بڑے مشاہرے کا امکان ہو تو وہ ادارہ تبدیل بھی کر سکتے ہیں، پاکستان میں نصاب میں جو بین الاقوامی امور پڑھایا جاتا ہے وہ کسی صحافی کے کام کا ہے نہیں، جب تک مغربی دنیا کی external policy approachکے بین السطور مفاہیم کا باضاطہ مطالعہ نہیں کیا جاتا مغرب کی FOREIGN POLICIESسمجھ میں نہیں آ سکتیں، انڈیا میں انگریز نے POLITICAL TERMSسے آگاہی دی ورنہ ہم پارلیمنٹ، دستور، قانون، سیاست وغیرہ سے کہاں واقف تھے اور اب بھی ہم ساری مغرب میں استعمال ہونے والے TERMSاستعمال کرتے ہیں، 1990سے پہلے نہ جانتے تھے کہ پاکستان کی STRATEGIC LOCATIONہے یہ بات ایک رپورٹ میں کہی گئی اور تب سے ہم نے اس کو گود لے لیا ہے۔
پاکستان کے نابالغ اینکرز کو نہیں پتہ کہ اب عالمی سیاست میں ملکوں کے درمیان جنگوں سے فتح اور شکست کا مفہوم جا چکا اور نہ ہی کوئی ملک کسی ملک پر قبضہ کر سکتا ہے، ہم اب تک غزنوی ،غوری اور بابر کی فتوحات کے نشے سے نہیں نکل پاتے، امریکہ، روس اور برطانیہ کو افغانستان میں کوئی شکست نہیں ہوئی یہ سب مفادات کے ایڈونچرز تھے یا نادیدہ تحقیق کی کوشش، امریکہ کو افغانستان میں تیل نکلنے کا اندازہ ہو جاتا تو شاید اس کا Exitمختلف ہوتا، امریکہ جس کا SATTELITE SYSTEMزمیں پر چلتے کیڑوں کو دیکھ سکتا ہے وہ بھوکے ننگے طالبان کو ختم نہیں کر سکتا، یہ سوچنا ہی احمقانہ ہے، امریکہ کو بیس سال افغانستان میں رکنے کے لئے طالبان کو زندہ رکھنا ضروری تھا ورنہ دنیا کہتی کہ تمہارا کام ختم ہو گیا اب واپس جائو، امریکہ نے چالیس سال خطے کو جنگ کے دہانے پر بٹھا کر آدھے پاکستان کو کھنڈر بنا دیا اور افغانستان میں زندگی کی سانسیں روک دیں اس کا یہی مشن تھا اور وہ اس مشن میں کامیاب رہا، اب بھی امریکہ کے اس بیان کو نہیں سمجھا جارہا جس میں کہاجارہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان میں اتنے ہی مفادات ہیں جتنے روس اور چین کے ہیں اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کسی مقام پر امریکہ کو واپس آنے کی ضرورت پڑی تو اس کو کون روک سکتا ہے، اکثر تجزیہ نگار اس بات سے ناواقف ہیں کہ سی آئی اے اور پنٹا گون کے مشن عشروں پہلے بنتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ان میں ردوبدل ہوتا ہے اور خاص وقت پر ان کو EXECUTEکیاجاتا ہے جس پر داخلی سیاست مخل نہیں ہوتی، میڈیا اس کو سپورٹ کرتا ہے، یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان کو اپنی FUNDS ALLOCATIONSہوتی ہیں سینیٹ اس پر سرسری کارروائی کرتی ہے۔
پاکستان کے امریکہ ،یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک سے کوئی قابل رشک تعلقات نہیں ہیں یہ ملک جب چاہیں پاکستان کی ARM TWISTINGکر کے اپنی بات منوا سکتے ہیں، تاہم پاکستانی سیاست دان، میڈیا اور فوج بڑھکیں مار سکتے ہیں اور یہ سب مولویوں کے حوصلے بڑھانے کے لئے ہوتی ہیں، یا LOCAL CONSUMPTIONکے لئے تاکہ عوام روٹی نہ مانگیں، پاکستان کی حکومتیں بیرونی طاقتوں کی TOUTرہی ہیں اور عمران کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ یہ شخص باجوہ کے ساتھ ایک خاص مشن پر ہے جس کا مطلب پاکستان کو ایک مقررہ وقت کے لئے خطے میں اہم کردار سے روکنا اور معاشی ترقی کو معطل کرنا ہے اندازہ لگائیے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں کون مرغیوں، چوزوں، انڈوں، کٹوں کی بات کرتا ہے اور جو کرے اسے فاتر العقل ہی کہا جائیگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.