پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟

85

صدر بائیڈن نے اپنی جانب سے اپنے نئے منشور کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق وہ ہرگز اس موقف کے حق میں نہیں ہیں کہ امریکہ عالمی سپاہی بنا رہے اور دنیا میں جہاں بھی اس کی دانست میں کوئی ایسی سیاسی یا عسکری پیش رفت ہو جو اس کے نظریہء حکومت یا سیاسی فلسفہ سے مطابقت نہیں رکھتی تو وہ فی الفور اپنی فوج وہاں بھیج کر اس نظام یا اس فلسفے کے خلاف چڑھائی کردے۔
غور کیا جائے تو یہ انقلابی اقدام ہے کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے دنیا نے یہی دیکھا ہے کہ امریکہ نے جا اور زیادہ تر بیجا دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اسے یہ گمان ہوا کہ کوئی ایسی پیش رفت ہوئی ہے جو اس کے نظریات یا اس کے طریقِ حکومت اور حکمرانی سے متصادم ہے تو اس نے کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنی طاقت کے بل بوتے پر مداخلت کی ہے۔ جہاں جہاں ممکن ہوا کہ اس کی یک طرفہ یا اس کے حلیفوں کے اشتراک کے ساتھ اس کی مداخلت کو اقوامِ متحدہ کی چھتری مل سکتی ہو وہاں اس نے برائے نام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، جس کا وہ پانچ میں سے ایک مستقل رکن ہے، کا پروانہء راہداری لیا ہے لیکن جہاں ایسا کرنا ممکن یا سہل نہیں ہوا وہاں اس نے اس ضرورت کو اپنے راستے کا پتھر نہیں بننے دیا اور بین الاقوامی قانون کو باقائدہ منہ چڑاتے ہوئے دھڑلے سے یکطرفہ کارروائی کی ہے اور کسی قانون کو خاطر میں لائے بغیر وہ سب کچھ کیا ہے جو وہ کرنا چاہتا تھا۔
افغانستان کے خلاف امریکہ نے ایسا ہی یکطرفہ فوجی مداخلت کا طبل بجا کر 2001 میں اس غریب اور مفلوک الحال ملک پہ دھاوا بول دیا تھا۔ بیس برس تک حضور وہاں چودہری بنے رہے، اس کے نظام کو بدلنے اور اپنے رنگ میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن افغانستان کی دم اس طویل عرصے میں بھی سیدھی نہیں ہوئی، وہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہی اور پھر ناچار سابقہ صدر ٹرمپ نے، جن کا زعم اور تکبر انہیں یہ سکھاتا تھا کہ دنیا ان کے قدموں کی دھول ہے ان ہی طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے پاکستان کی منت سماجت کی جنہیں صفحہء ہستی سے مٹانے اور نمونہء عبرت بنانے کا زعم لیکر ان کے ایک پیشرو، صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر یہ کہ کر دھاوا بولا تھا کہ وہ طالبان کیلئے زمین تنگ کردینگے۔
ہمیں صدر بائیڈن کے اس اعتراف پر کہ امریکہ عالمی پولیس مین یا دنیا بھر کا چوکیدار نہیں بن سکتا وہ شعر یاد آگیا جو اپنے بچپن میں ہم نے اپنے محلے کے حلوائی کو بارہا زور زور سے پڑھتے ہوئے سنا تھا:؎
پہلے سے نہ سوچا تھا انجام محبت کا
اب ہوش میں آئے ہو جب سر پہ قضا آئی!!
صدر بائیڈن کے اس بیان پر ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے بہت لے دے ہورہی ہے لیکن اس مخالفت میں کوئی منطق نہیں ہے یہ محض مخالفت برائے مخالفت ہے بالکل ایسے ہی جیسے عمران خان کے سیاسی حریف ان کے ہر اقدام پہ انگلی اٹھانا اور اسے طعن تشنیع سے نوازنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا بچکانہ ذہن انھیں یہی خوف دلاتا رہتا ہے کہ اگر انہوں نے ہر بات پر عمران کو ہدفِ ملامت نہیں بنایا تو بی بی مریم نواز ان سے ناراض ہوجائینگی اور وہ ناراض ہوئیں تو ان کے مفرور پدرِ بزرگوار، جو لندن میں اپنی کمیں گاہ سے گاہے بگاہے تیر پھینکتے رہتے ہیں برہم ہوجائینگے۔ اور آپ جانیں کہ پاکستان کی موروثی سیاست میں پارٹی کے مالکان کی ناراضگی ان بونے، بالشتیئے سیاسی گماشتوں سے کیا قیمت وصول کرسکتی ہے۔
یہ تو بہرحال بہت مثبت پیش رفت ہے کہ صدر بائیڈن کو اپنی چودہراہٹ کی حدود کا ادراک ہوگیا لیکن اس کے باوجود وہ چودہراہٹ کی اس حرکت سے ہرگز باز آتے دکھائی نہیں دیتے کہ افغانستان میں طالبان نے انہیں جس طرح اوقات یاد دلائی ہے بلکہ چھٹی کا دودھ یاد دلادیا ہے تو اس کے جواب میں وہ اپنی طرف سے، اور شہ دیکے اپنے حلیفوں اور حواریوں کی طرف سے طالبان حکومت کا حقہ پانی جب تک ممکن ہو بند رکھیں تاکہ طالبان یہ تسلیم کرلیں کہ امریکہ اب بھی دنیا کا چودہری ہے اور سرتابی کرنے پر دانے دانے کو ترسانے کی سکت رکھتا ہے۔
امریکی اور دیگر مغربی ممالک میں افغانستان کے زرِ مبادلہ کے دس ارب ڈالر سے زیادہ ہنوز منجمد ہیں۔ امریکہ اور اس کے حلیف سامراجی خزانے کے سانپ بنے ہوئے ہیں اور سینہ ٹھونک کر کہہ رہے ہیں کہ یہ اثاثے طالبان کے حوالے اسی وقت ہونگے جب افغانستان میں ان کی پسند کی حکومت بن جائیگی۔ یعنی امریکہ بہادر اب ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکانا چاہتے ہیں۔ جنگ کے میدان میں تو وہ چاروں خانے چت ہوگئے تھے لیکن بہ بانگِ دہل کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی میں ہمت ہو تو وہ ہم سے یہ پیسہ رہا کرکے دکھائے۔ جب تک ہم نہیں چاہینگے ایک پھوٹی کوڑی بھی طالبان کی حکومت کو نہیں ملے گی۔
یہ توہین آمیز رویہ اس کے باوجود ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے صبح و شام دُہائی دے رہے ہیں کہ اگر افغانستان کو یونہی ترسایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں قحط پیدا ہوجائے گا۔ افغانستان کا شمار ویسے بھی دنیا کے پسماندہ ترین اور غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں فی کس یومیہ آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ ملکی معیشت پر ویسے ہی سابقہ صدر اشرف غنی اور ان کے حاشیہ بردار یہ ظلم ڈھاکے بھاگے ہیں کہ جاتے جاتے اس کے خزانہ میں جھاڑو پھیر کے بھاگے ہیں۔ بدبخت ایسے عوام دشمن تھے، ہمارے زرداری اور نواز کی طرح، کہ یہ بھی نہیں سوچا کہ خزانہ خالی ملک اپنے بھوکے عوام کے پیٹ کیسے بھرے گا، چوروں کی فطرت میں انسانی ہمدردی اور انسانیت کے احساسات نام کو بھی نہیں ہوتے۔
سامراجی طالبان حکومت کا گلا گھونٹنے کی یہ مذموم حرکت اس کے باوجود کررہے ہیں کہ طالبان نے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے تا حال کوئی ایسی کارروائی نہیں کی جس سے یہ اندازہ ہو یا یہ شبہ ہو کہ ان کی نیت مین فتور ہے۔ غیر ملکیوں اور ان کے افغان کاسہ لیسوں اور حاشیہ برداروں کے افغانستان سے انخلا کے عمل میں طالبان نے کوئی رخنہ نہیں ڈالا، کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی بلکہ پورا پورا تعاون کیا، ہر طرح سے یہ ممکن بنایا کہ جو جاسکتے ہیں یا لیجائے جاسکتے ہیں انہیں جانے دیا جائے۔ بلکہ اب انکشاف یہ ہوا ہے کہ کابل ایر پورٹ پر پہرہ دینے کیلئے امریکہ کے سدھائے اور سکھائے ہوئے جن افغان سپاہیوں کو مامور کیا گیا تھا انہوں نے ایک طرف تو اپنے رشتے داروں اور یاروں کو تھوک کے بھاؤ ان جہازوں پر چڑھایا جو مظلوم افغانوں کیلئے پروازیں کررہے تھے اور دوسری طرف ان افغانوں سے جو ان پروازوں پر سفر کرنے کے جائز حقدار تھے ایک ایک مسافر کیلئے ہزاروں ڈالر کی رشوت وصول کرکے انہیں جانے دیا اور جن بیچاروں کے پاس انہیں رشوت دینے کیلئے پیسہ نہیں تھا انہیں جانے نہیں دیا۔
طالبان کے خلاف اوران پر تیر چلانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف شر انگیز پروپیگنڈا کرنے میں سب سے پیش پیش نفرت بھری مودی سرکار والا بھارت ہے۔ بھارتی تبصرہ نگار اور گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے والے ٹی وی اینکر تو جیسے انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔اور ان کا بس نہیں چلتا کہ دنیا سے کہیں کہ پاکستان کو طالبان کی کامیابی کا ذمہ دار قرار دے کراس کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی جائے۔ بھارتی نیوز میڈیا کی پہلے تو میا مر گئی تھی طالبان کی طوفانی پیش رفت پر۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان کی پروردہ اشرف غنی حکومت، جس کی طاقت بقول بھارت تبصرہ نگاروں کے تین لاکھ کیل کانٹے سے لیس امریکی تربیت یافتہ فوج تھی کیسے طالبان کی یلغار کے سامنے پانی میں بتاشے کی طرح بیٹھ گئی۔ پھر جب ہوش ٹھکانے لگے تو اس کے بعد سے بھارتی نیوز میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی سمت ہے۔ بقول ان کے یہ طالبان کی فتح نہیں ہے بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والے پاکستان کی جیت ہے جس کی فوج نے امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے خلاف دوغلا کھیل کھیلا اور افغانستان میں بھارت اور امریکہ نے جو بساط جمائی تھی اسے الٹ دیا۔
بھارتی میڈیا کی توپوں کے دہانے پر اصل میں تو پاکستان کے ادارے آئی ایس آئی سب سے زیادہ ہے۔ ویسے بھی برسوں سے بھارتیوں کا یہ عام وطیرہ رہا ہے کہ ان کے ملک میں جو بھی خلفشار ہوتا ہے، جو بھی گڑبڑ ہوتی ہے، اس کا الزام آنکھ بند کرکے آئی ایس آئی پر دھر دیا جاتا ہے۔ سو آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی کابل میں آمد اور طالبان کے سرکردہ رہنماؤں سے ان کی ملاقاتوں نے تو بھارتیوں کی نیندیں اُڑادی ہیں۔ بات تو اصل میں یہ ہے جو بھارت بنیؤں سے ہضم نہیں ہورہی کہ پاکستان کی دشمنی میں انہوں نے اشرف غنی اور اس کے کرپٹ ٹولے کی جو کھل کے حمایت کی تھی اور تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی وہ سب ڈوب گئی۔ بنیا سب کچھ برداشت کرلیتا ہے لیکن اس کا پیسہ ڈُوب جائے تو اس کی دنیا لٹ جاتی ہے۔ مودی سرکار اسی لئے حیران پریشان ہے کہ ایک طرف تو سرمایہ ڈُوبا پھر اس کے ساتھ طرفہ مزید ستم یہ کہ جانی دشمن پاکستان نے بازی مار لی اور مودی میاں اور ان کے بنیئے ساہوکار خالی لٹیا پکڑے رہ گئے۔
بھارتیوں کیلئے یہ بھی بڑے ستم کی بات ہے کہ پاکستان کے سارے پانسے ٹھیک ٹھیک پڑے ہیں اور بساط پر ہر طرف اس کے ہی مہرے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کیلئے یہ بلاشبہ مسرت کا مقام ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ بساط پر سے ان کی نظریں ہٹنے نہ پائیں اسلئے کہ طالبان کی حیرت انگیز کامیابی ان شر پسند عناصر کے حوصلوں کو بھی ہوا دے سکتی ہے جن کے منشور پاکستان دشمنی پر مبنی ہیں۔ ایسے دہشت گردوں کو، جیسے تحریکِ طالبان پاکستان ہے، بھارت کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور اب اس کا بھاری امکان ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے ان پاکستان دشمن دہشت گردوں کی سرپرستی اور بھی شد و مد کے ساتھ کرنے لگیں۔ بھارت کی پاکستان دشمنی تو اظہر من الشمس ہے اور مودی سرکار، جس کا نصب العین ہی پاکستان دشمنی اور مسلم مخالفت ہے، سے کسی بھلائی کی امید رکھنا ایسے ہی ہے جیسے سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل آئے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں۔ ابھی دو روز پہلے کوئٹہ میں ایک خود کش دھماکے میں چار ایف سی کے جوان شہید ہوگئے اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔کوئٹہ میں ایک ماہ میں یہ دوسرا دھماکہ تھا۔ سو جہاں پاکستان کیلئے یہ تسلی کا امر ہے کہ افغانستان سے سامراج کا پہرہ اٹھ گیا اور طاغوت کو عبرتناک شکست کا منہ دیکھنا نصیب ہوا وہیں پاکستان کیلئے اپنی اور اپنے شہریوں کی حفاطت کرنے کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کیلئے داخلی اور بیرونی دونوں محاذوں پر نظر رکھنا اب دوچند ہوگیا ہے۔ سب سے فوری ذمہ داری یہ ہے کہ طالبان سے تعلقات کی ایسی صورت بنائی جائے جس سے پاکستان کی ذمہ داریوں میں اضافہ نہ ہو اور ساتھ ساتھ طالبان کے زیرِ انصرام افغانستان کو اس کے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے پاکستان جو کچھ بھی کرسکتا ہے اس سے گریز نہ کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.