افغانستان کے نئے حکمران کیا چاہتے ہیں؟

26

صدیوں سال پرانا خواب کہ اسلامی شریعہ کا نظام نافذ ہو۔ وہ نظام کیا ہے؟ شرعی نظام ہے کیا؟ جتنا کچھ قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے وہ شادی بیاہ، طلاق، عورتوں سے تعلقات، یتیموں، بیواوں، سے سلوک، جائداد میں وراثت کا طریق کار، وغیر ہ ۔قران مجید میں میں کچھ تعزیرات کا بھی ذکر ہے، اگرچہ ان کو لاگو کرنے میں سخت شرائط بھی رکھی گئی ہیں، طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت، سب سے زیادہ زور انہیں پر ڈالا اور عورتوں کی سنگ ساری کر کے دنیا والوں کو اسلامی شرعیہ کا سب سے سیاہ پہلو دکھایا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان سزاؤں کی نوعیت کو بدلا جا سکتا ہے؟اگر طالبان نے جنگیں تلواروں اور نیزوں سے جیتی ہوتیں تو یہ سوال نہیںبنتا۔ لیکن انہوں نے تو پہلے روز سے ہی بندوق آٹو میٹک ہتھیاروں، اور گھوڑوں کے بجائے ٹویوٹا کی گاڑیوں پر چڑھ کر اپنی جنگ لڑی جن کا ذکر نہ قران میں ہے نہ حدیث میں ۔جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو لوگوں نے یہی سوال کئے۔
پاکستان کس لیے بنا؟ اسلام کے لیے یا مسلمانوں کے لیے؟ ان دونوں میں فرق ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ ہو رہی تھی، خصوصاً جب انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑی جارہی تھی۔ اس وقت مسلمان قیادت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندو انتہا پسند مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔چوٹی کی قیادت کا یہی فیصلہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنا علیحدہ ملک ہو جہاں وہ اپنی مرضی سے رہ سکیں۔ اپنی عبادتیں اور رسومات اپنی مرضی سے ادا کر سکیں۔ ہندووں اور مسلمانوں کے مذہبی عقاید، طرز معاشرت اور رسومات میں زمین آسمان کا فرق تھا جو ان کی معاشرتی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا اور دونوں فرقوں کے درمیان وجہ تنازعہ بنتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے بت پرستی ایک ناقابل برداشت عقیدہ تھا اور ہندووں کے لیے مسلمانوں کا گائے ذبح کرنا اتنا ہی نا قابل برداشت عمل تھا۔ مسلمانوں کا مرنا، جینا، شادی ، بیاہ، ختنہ ، اور کتنی ہی رسومات ہیں جو ہندووں سے با لکل مختلف تھیں اور ہیں۔ میاں نواز شریف سے معذرت کے ساتھ، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد ایک لکیر نہیں بلکہ ایک خلیج ہے جس نے دو مختلف تہذیبوں کو جدا کر کے مسلمانوں کو اطمینان کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔نہ ہمارا معاشرہ ایک ہے اور نہ زبان۔ ہمارا خدا بھی اور ہے اور انکے خدا اور۔ اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ ہماری نسل ہو سکتی ہے اور وہ بھی کسی حد تک۔
پاکستان ایک ایسا ملک بنا جس میں مسلمانوں کی اکثریت تو ضرور تھی لیکن اس میں اقلیتوں کے لیے بھی پوری گنجائش تھی۔اس لیے مسلمانوں کے ملک میں بھی یہ ضروری نہیں تھا کہ اسلام کو ڈنڈے کے زور سے نافذ کیا جائے گا۔ بلکہ یہ تھا کہ جو مسلمان مذہب پر اپنے عقائد کے مطابق عمل پیرا ہو نا چاہیں، ان کو اس کی پوری آزادی ہو گی۔چونکہ مسلمانوں کے بہت سے فرقے ہیں، اس لیے کسی ایک فرقہ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کو اپنے عقائد کا پابند کرے۔یہ ایک قدرتی امر تھا کہ پاکستان بننے کے بعد کچھ لوگ جو اپنے آپ ُٓ کو مذہبی رہنما سمجھتے تھے انہوں اس نئی ریاست کو اپنا یرغمال بنا لیا۔ اور سمجھا کہ مسلمانوں کی ریاست میں ان ہی کا راج ہو گا۔
ان کا خیال تھا کہ شریعہ کے قوانین نافذ ہو نگے۔ پھر ملاؤں کی حکومت میں سب قاضی بن جائیں گے اور عوام ان کے تلوے چاٹیں گے۔ چنانچہ، مولویوں کی جماعتیں بن گئیں۔ ہندوستان والے جو پاکستان کے قیام کے ٖخلاف تھے وہ بھی چپ چپاتے پاکستان آ گئے اور ان کو بھی سہانے خواب نظر آنے لگے۔ پاکستان میں دھڑا دھڑ مدرسے بننے شروع ہو گئے۔ ان لوگوں نے اندازہ لگا لیا کہ بہت سی مسجدیں بنیں گی اور ان میں اماموں کی ضرورت ہوگی۔پھر قاضیوں کی ۔ جو تقسیم ہند سے پہلے چند سو مدرسے تھے، وہ ہزاروں تک پہنچ گئے۔ ہر سال ان مدرسہ کے فارغ التحصیل طلبا بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے لگے۔ وہ اس لیے کہ مدرسہ میں ان کو کوئی ایسا ہنر نہیں سکھایا جاتا تھا جس کی مسجد کے علاوہ کہیں مانگ ہوتی۔
جب پاکستان بنا تو ہماری بد قسمتی سے، اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تیرہ مہینے بھی حیات نہ رہے اور ملک نا اہلوں کے ہاتھوں چھوڑ کر چلے گئے۔ جاگیر دار طبقہ دولتمند تھا اور ان کی اولادیں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں یا کر چکی تھیں۔ چنانچہ انہی جاگیر داروں اور ان کی اولادوں نے پاکستان کی سیاست پر قبضہ کیا، پھر آہستہ آہستہ صنعتوں پر، فوج کے اعلیٰ عہدوں پر، اور سول سروس پر۔
یہ پرانا رواج تھا کہ گائوں کی مسجد کے ملا کو باقی کمیوں کے ساتھ ہر فصل پر کچھ حصہ دیا جاتا تھا۔ ان کمیوں میں لوہار، کمہار، نائی، وغیرہ شامل تھے۔اس ناطے سے ملا ہمیشہ سے جاگیر داروں اور زمینداروں کے زیر احسان رہتے تھے ۔جاگیر داروں نے جب چاہا مذہبی ٹولوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔جب ایوب خان کی حکومت آگئی اور آٹھ نو سال ہو گئے اور اس نے ہٹنے کا نام نہیں لیا تو یہ جاگیر دار تنگ آ گئے کہ ایوب خان تو جاتا نہیں اس کی حکومت کا تختہ کیسے الٹا جائے۔ سیاستدانوں نے حکومت کے خلاف کاروائی شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ امریکنوں کے اصرار اور امداد کے لالچ میں ایوب خان نے خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام چلانے کی حامی بھر لی۔ مذہبی رہنما ؤں نے بغیر سوچے سمجھے اس مہم کے خلاف مہم شروع کر دی جس میں جاگیر داروں نے نہ صرف انکو شاباش دی بلکہ ان کو خوب اعانت دی۔ مذہبی رہنماؤں نے طرح طرح کی ، بالکل غیر مصدقہ افواہیں پھیلائیں کہ عوام میں نہ صرف فیملی پلاننگ کے خلاف اشتعال پھیلے اس کے ساتھ امریکنوں کے خلاف بھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملا ؤں نے کسی افواہ کی تصدیق کیے بغیر سڑکوں پر ایسی مہم چلائی کہ ایوب خان زچ ہو گئے اور اپنی کرسی چھوڑ دی۔ سیاستدانوں اور مذہبی ٹولوں کا گٹھ جوڑ کامیاب رہا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جب ملاؤں نے ملک میں شریعہ قانون کی بات کی تو جاگیرداروں نے انہیں تھپکی دے کر بٹھا دیا۔
افغانوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ وہ کس راستے پر چلنا چاہیں گے؟ اگر تو انہوں نے عوام کو قرون وسطیٰ میں دھکیلنا ہے ، اور افغانستان کو جہالت کے دور سے باہر نہیں نکلنے دینا ہے، تو وہ بلا شبہ اس میں کامیاب ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے دور جدیدکی سہولتوں اور آسائشوں کا مزہ چکھ لیا ہے تو انہیں سوچ سمجھ کر اپنی توقعات کو پروان چڑھا نا ہو گا۔
پاکستان میں یہ مسئلہ ختم ہو چکا ہے۔ عوام پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ عورتوں کو سنگسار نہیں کرنا چاہتے اور نہ چوروں کے ہاتھ کاٹنے کے حق میں ہیں۔ آج کے دور میں کسی بھی اسلامی ملک میں ان سزاؤں کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ افغان اپنا قبلہ درست کریں، اور نئی دنیا میں اپنی انٹری نئی بنائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.