مفاہمت، مزاحمت، بغاوت اور انقلاب کے چرچے!!

70

29اگست کے پی ڈی ایم کے کراچی کے جلسہ عام کے بعد پاکستان میں مفاہمت، مزاحمت، بغاوت اور انقلاب کے چرچے ہورہے ہیں جس میں مسلم لیگ(ن) کے سربراہ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مزاحمت اور مفاہمت نہیں شفاف انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔ جس کے برعکس پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں اب انقلاب چاہیے۔ مسلم لیگ(ن) کی رہنما محترمہ مریم نواز نے عدالت میں اپنی پیشی کے وقت پھر مزاحمت کا نعرہ دھرایا جبکہ مسلم لیگ ن کے دوسرے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اگر انتخابات میں پھر دھاندلی ہوئی تو اب بغاوت ہو گی جس سے اخذ ہورہا ہے کہ پاکستان میں واقعی تلخیاں اور کشیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں جو مزاحمت سے بڑھ کر بغاوت اور انقلاب کے نعرے بلند ہورہے ہیں جو شاید ایک دن حقیقت بن جائیں جس طرح دوسری دنیا میں ہوتا رہا ہے کہ بادشاہت، آمریت اور جبریت کے خلاف بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں جس کے بعد دنیا کی ریاستوں میں انقلاب برپا ہوئے ہیں جس میں انقلاب فرانس، انقلاب روس اور انقلاب چین ہمارے سامنے نہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں جمہوریت، اشتراکیت اور اشمالیت کا نظا م نافذ ہے جس میں انسانوں کو سیاسی، معاشی، مالی اور سماجی آزادیاں میسر آئیں تاہم مفاہمت صرف سیاسی پارٹیوں، تنظیموں اور گروپوں میں ہوتی ہے کسی ادارے کے اہلکاروں سے نہیں ہوتی نہ ہی آئینی ادارے پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ قانون سازی، انصاف کی فراہمی اور انتظامی امور پر مفاہمت کرتے ہیں ورنہ پارلیمنٹ کو سیاہ قوانین سازی، عدلیہ کو انصاف کی فراہمی اور انتظامیہ کو ظلم و ستم سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ لہٰذا مفاہمت ماسوائے سیاست کے کوئی عمل درآمدا کے قابل اصطلاح نہیں ہے جبکہ مزاحمت مسلسل جدوجہد، انقلاب ، تبدیلی نظام اور بغاوت ظلم و ستم اور جبروتشدد سے انکاری یا انحراف ہے اس لیے دنیا بھر میں مزاحمت، انقلاب، اور بغاوت برپا ہوتی رہی ہیں جس کی بدولت جدید ریاست کا وجود عمل میںآیا ہے جس میں بلاتفریق اور بلا امتیاز انصاف میسر آیا۔ شہریوں کو مساوی حقوق ملے، عوامی طاقت کو ووٹنگ کے ذریعے تسلیم کیا گیا۔ نمائندگان کو عوام کے حق رائے دہی سے گزرنا پڑتا ہے جس کو زبان عام میں جمہوریت کہا جاتا ہے جس میں ریاست کے تمام ادارے عوام کے ماتحت ہوتے ہیں جو اپنے اپنے دائر کار میں رہ کر اختیار ات استعمال کرتے ہیں چونکہ پاکستان میں ریاست کے اوپر ریاست کا وجود پایا جاتا ہے جو بظاہر انتظامیہ کا حصہ ہے مگر اس ریاست کے اہلکاروں کے پاس ریاست کے پاکستان کے تمام غیر قانونی اور غیر آئینی طاقت ہے جو گزشتہ چالیس برسوں سے براہ راست حکمران رہے ہیں یا پھر اپنی گھنائونی سازشوں سے حکمران چلے آرہے ہیں جس کی مثال آج کی موجودہ حکومت ہے جس کا سامنے چہرہ عمران خان کا ہے مگر حکومت کوئی دوسرا چلارہا ہے جس نے پاکستان سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے جو ملکی وسائل پر قابض ہیں۔ جس سے پاکستان دن بدن ڈوب رہا ہے۔ بہر کیف مزاحمت کا ہر گز مطلب خون ریزی ہو یا پھر مسلمہ جدوجہد ہو۔ ایسی جدوجہد ہو جو جمہوریت کا باعث بنے جس سے ادارے آزاد ہوں، پارلیمنٹ بااثر ہو۔ عدلیہ آزاد ہو، انتظامیہ خودمختار ہو جس کے ادارے الیکشن کمیشن آزاد اور خودمختار ہوں جس کے بعد ملک میں کسی قسم کے مفاہمتی، مزاحمتی، بغاوتی اور انقلابی نعرے نہیں لگیں گے چونکہ موجودہ وقت پاکستان میں بے تحاشہ انتشار اور خلفشار پھیلا ہوا ہے الیکشن کمیشن پر پابندیاں ہیں پارلیمنٹ غیر موثر ہو چکی ہے۔ عدلیہ یر غمال بن چکی ہے۔ انتظامیہ ناکام اور نااہل گزری ہے جس نے مختلف نعروں کو جنم دیا ہے جو آج نہیں تو کل حقیقت بن سکتے ہیں لہٰذا طاقتور اداروں کو آئین کے ماتحت آنا ہو گا ملک میں یکساں عدل و انصاف قائم کرنا ہو گا۔ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہو گا جس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے جس میں جتنی دیر ہو گی اتنے ہی ملکی حالات بدتر ہوتے جائیں گے جو ایک دن ملکی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
بہرحال پاکستان میں آج عوامی مزاحمت لازم و ملزوم بن چکا ہے جس کے لئے ملک گیر، ہڑتالوں، احتجاجوں، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور مارچوں کا آغاز کرنا ہو گا تاکہ جمہوریت کو بحال کیا جائے جو تمام مسائل کا حل ہے جس کے بغیر ریاست چل نہیں سکتی ہے۔ لہٰذا مریم نواز جو ملک بھر کی ہر دلعزیز لیڈر بن چکی ہیں جن کے پیروکاروں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے جو چاروں صوبوں کی آواز بن چکی ہیں ان کو جلسے جلوسوں سے باہر رکھنا بہت بڑا سیاسی نقصان ہو گا۔ لہٰذا اگر مریم کو جلسوں سے دور رکھا جائے تو یہ مسلم لیگ ن کی مفاہمت یا مصالحت ہو سکتی ہے جو عوام کے لئے باعث تشویش ہے کہ ایک ہر دلعزیز لیڈر کو کراچی جیسے جلسے سے باہر رکھا گیا جن کی آواز پر پاکستانی عوام لبیک کہتے نظر آتے ہیں۔ اگر مریم نواز کی آواز کو دبایا گیا تو ملک میں واقعی انقلاب اور بغاوت کا سماں پیدا ہو جائے گا جس کو صرف اور صرف مریم نواز قابو کر سکتی ہے جو کسی بھی لیڈر کی کوالٹی ہوتی ہے جن کے ساتھ عوام کے دل دھڑکتے ہیں قصہ مختصر پاکستانی عوام جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں جکڑی ہوئی ہے جن کا میڈیابند پڑا ہے جو غربت، افلاس، بھوک، ننگ، مہنگائی اور بیروزگاری میں مبتلا ہیں وہ کسی بھی وقت بغاوتی اور انقلابی اقدام اٹھا سکتے ہیں جن کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے جن کو مزید آزمایا اور ترسایا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.