آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی اچانک کابل میں آمد سے دنیا کے کئی درالحکومتوں کو واضح پیغام دے دیا گیا!

28

پچھلے ہفتے جب تک طالبان کی عبوری حکومت کا بھی اعلان نہیں ہوا تھا اور طالبان کو صوبہ پنج شیر پر بھی کنٹرول حاصل نہیں ہوا تھا اوردنیا کے سامنے افغانستان کے حوالے سے بڑی غیر واضح صورت حال تھی اور بھارت کی طرف سے پنج شیر میں پاکستانی ایف سولہ اور پاکستانی ڈرون حملوں اور ان کی تباہی کی جعلی خبریں اور تصاویر جاری کی جارہی تھیں تو اچانک کابل کے ایئرپورٹ پر خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی اچانک آمد کی خبر اور افغانی قہوہ پیتے ہوئے تصویر نے دنیا بھر کو چونکا دیا۔ جنرل فیض حمید کے مسکراہٹ سے بھرپور چہرے، انتہائی پراعتماد لہجے، پروقار چال ڈھال اور صحافیوں کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز گفتگو نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کو کم از کم افغانستان میں طالبان کی حکومت سے قطعاً کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں اس تاثر نے بہت مثبت انداز مرتب کیے مگر ایک ملک کے علاوہ جو ہے بھارت۔ بھارت کا الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کی خبریں دیکھنے سے یوں لگ رہا تھا کہ پندرہ اگست کے سقوط کابل کے بعد یہ دوسرا بڑا دھچکہ تھا جس سے مودی حکومت کو دو چار ہونا پڑا۔ اس واقعے سے جہاں دہلی میں سراسمیگی پھیل گئی اس کے برعکس واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو، انقرہ، تہران میں خوشگوار حیرت سے دیکھا گیا۔ گو کہ اس صورتحال کا ردعمل دیکھتے ہوئے پاکستان کے فوجی ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض حمید کے اس مجوزہ دورے سے کسی کو بھی کوئی پیغام دینے کا سبق دینے کی کوشش نہیں کی گئی تھی مگر کہتے ہیں کہ الفاظ سے زیادہ طاقتور ایکشن ہوتے ہیں اور جنرل فیض حمید کی کابل کی ویڈیو وائرل ہونے سے جن جن لوگوں اور حکومتوں کو جو جو پیغام دینا مقصود تھا وہ دے دیا گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے کابل پہنچنے کے بعد طالبان کا عبوری حکومت کا رکا ہوا اعلان بھی جاری ہو گیا۔ پنج شیر میں جاری لڑائی بھی ختم ہو گئی اور کابل میں طالبان نے اعلان بھی کر دیا کہ اب اس وقت ملک میں کوئی جنگ جاری نہیںہے اور بہت جلد مستقل حکومت کا اعلان کر دیا جائے گا۔
یہ سب حقائق اپنی جگہ درست مگر پھر بھی پاکستان کو افغانستان میں ماضی کی طرح طالبان کی حکومت کوتسلیم کرنے میں قطعاً جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاسکتا اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ دودھ کے جلے کو چھاج بھی پھونک پھونک کر پینی پڑے گی گو کہ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پریس کانفرنس میں بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں کی جارہی ہے اور یہ جھوٹا پراپیگنڈا گزشتہ بیس برسوں سے کیا جارہا ہے۔ اسی طرح سے طالبان کی جانب سے یہ بات بھی واشگاف الفاظ میں کہہ دی گئی تھی کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید طالبان کی دعوت پر پاکستان آئے تھے تاکہ سرحدی معاملات، ٹی ٹی پی اور افغان مہاجرین کے معاملات کو طے کیا جا سکے اور اس حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو دور کیاجاسکے مگر کچھ ممالک کو خاص طور پر بھارت سرکار کو یہ بات ہضم نہیں ہو پارہی ہے اور وہ جھوٹی خبریں پھیلا کر خود اپنے ہی میڈیا کی دنیا بھر میں کھلی اڑا رہے ہیں اور ایک جھلک مکافات عمل کی بھی ملاحظہ کیجئے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ اگر ہمارا ساتھ نہ دیا تو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے آج وہ ہی کابل کے انخلاء کے بعد اسلام آباد کے پتھر کے فرش پر اپنے اپنے ملکوں کو جانے کے لئے سلیپنگ بیگس میں سوئے ہوئے پڑے تھے اور پاکستانی پولیس ان کی نگرانی کررہی تھی!

Leave A Reply

Your email address will not be published.