سید علی گیلانی آزادی کی مشعل راہ!

24

سید علی گیلانی نے کچھ عرصے قبل ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’’میں اس دیار فانی میںآنے سے لے کر وفات تک بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور حسب استطاعت اپنی قوم کی رہنمائی کا حق ادا کرتا رہوں گا‘‘۔ آج انہوں نے اپنے پیغام کے مطابق عمل کیا۔ لہٰذا ان کے انتقال کے بعد بھارتی فورسز ان سے خوفزدہ رہی، اتنی ہی خوفزدہ رہی جتنی کہ ان سے ان کی زندگی میں رہتی تھی۔ قید و بند اور نظر بندی میں بھارتی حکومت زندگی میں بھی سید علی گیلانی کو عشروں تک رکھتی رہی لیکن موت کے بعد بھی بھارتی فورسز نے اْن کی میت کو گرفتار رکھا۔ کیوں کہ اْسے خوف تھا کہ زندہ گیلانی کی طرح ان کی موت بھی بھارتی استعمار کے خلاف کشمیریوں کے جذبۂ حریت کے لیے بھرپور طاقت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اْن کی وفات کی اطلاع ملتے ہی بھارتی حکومت نے وادی کشمیر میں الرٹ جاری کردیا۔ سارے کشمیر میں فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات کردیے گئے، اگرچہ یہ حالات پہلے ہی سے ہیں اس کے باوجود فورسز میں مزید اضافہ کردیا گیا۔ ہر طرح کی آمدورفت اور انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ اس وقت کشمیر کے تمام رہنما خاص طور سے حریت کانفرنس کے رہنما بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ اشرف صحرائی جن کو سید علی گیلانی کے بعد حریت کانفرنس کی قیادت سونپی گئی تھی چند ماہ قبل جیل میں اْن کی وفات ہوگئی ہے۔ سید علی گیلانی کی خواہش تھی کہ انہیں سرینگر میں واقع شہدا ء کے قبرستان میں دفن کیا جائے لیکن بھارت کی خوفزدگی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فجر سے قبل ہی خاموشی سے ان کے گھر کے قریب واقع حیدرپورہ کے قبرستان میں دفن کردیا۔ ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ’’جنازے میں کون شریک ہوا ہم کو علم نہیں‘‘۔ بھارتی حکومت کو خوف تھا کہ کشمیری اپنے رہنما کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوجائیں گے۔ سرینگر میں سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں، کرفیو کا یہ عالم ہے کہ کسی کو کسی بھی ضرورت کے تحت گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ یوں تو کشمیر میں کئی سال سے کرفیو کی کیفیت ہے لیکن سید علی گیلانی سے خوفزدہ بھارتی حکومت نے مزید شدت سے کشمیر کو کشمیریوں کے لیے بند کردیا۔
بھارتی حکومت خواہ کچھ کرے یہ بات تو طے ہے کہ سید علی گیلانی زندگی سے آزاد ہو کر بھارتی حکومت کے لیے زیادہ خوف کی علامت اور خطرناک ہوگئے ہیں۔ اب گیلانی ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہیں۔ ہر کشمیری ان کی طرح کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے اور خطرات سے کھیلنے کا عزم رکھتا ہے۔ سید علی گیلانی کی زندگی کے 25 سال سے زیادہ کا عرصہ قید و بند اور نظر بندی میں گزرا لیکن ساری سختیاں مشکلات ان کے سامنے ریت کی دیوار ہی رہیں وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے سب سے پہلے علی الاعلان بھارتی حکومت کو کہا کہ ’’ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘۔
انہوں نے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی کھل کر حمایت کی اور اِسے کشمیریوں کی طرف سے درست ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے بروقت اور باآواز بلند کشمیر کو پاکستان کا قدرتی حصہ قرار دے کر مسئلہ کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا۔ نائن الیون کے بعد جب فوجی آمر پرویز مشرف نے امریکا کے آگے سر تسلیم خم کیا اور ایک فون کال پر پاکستان کو نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا حلیف بنالیا تو خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی کی۔ پرویز مشرف نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو کنارے لگا کر مسئلہ کشمیر کا حل چارنکاتی فارمولے میں پیش کیا۔ سید علی گیلانی نے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ پرویز مشرف کے ساتھ ملاقات میں ڈٹ کر کہا کہ انہیں کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر اْن کے سیاسی مستقبل کا یکطرفہ فیصلہ لینے کا کوئی حق نہیں۔ کشمیری ان کے اس موقف سے انتہائی خوش اور مطمئن ہوئے اور اْس وقت کشمیری نوجوانوں نے ان کے لیے نئے نعرے لگائے جیسے ’’کون کرے گا ترجمانی… سید علی شاہ گیلانی‘‘ اور ’’نہ جھکنے والا گیلانی… نہ بکنے والا گیلانی‘‘۔ مودی سے پہلے اور مودی کے بعد بھارتی حکومت نے سید علی گیلانی کو دھونس دھمکی اور قیدوبند کی صعوبتوں کے ذریعے اْن کو اپنے موقف میں نرمی اور لچک لانے کے لیے کہتے رہے لیکن ہر طرح کے خوف اور خدشات کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ کشمیر کے سارے رہنما نظریاتی اختلافات کے باوجود انہی کی سمت اور لہجہ اختیار کرتے چلے گئے۔ یقینا ان کا مضبوط موقف اور اس پر ڈٹ کر جمے رہنا بزرگ اور نوجوان کشمیری لیڈروں کے لیے ایک قابل تقلید ورثہ ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس قوم میں قربانی کا جذبہ پیدا ہوجائے اور وہ ظالم اور غاصب کے آگے ڈٹ جانے کا تہیہ کرلے تو اس کو نہ غلام رکھا جاسکتا ہے نہ محکوم… کشمیریوں نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل وغارت کا بازار گرم رکھا اور پھر اْن مظالم کو دنیا سے چھپانے کے لیے ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ کا کشمیر میں داخلہ بند رکھا۔ لیکن کشمیر پر سارے مظالم کے باوجود بھارت اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سید علی گیلانی کی پوری زندگی جدوجہدآزادی کشمیر کے لیے گزری۔ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا، ان کی زندگی ایک روشن مثال ہے جو عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ آزادی کے حصول کا راستہ دکھاتی ہے اور دکھاتی رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.