اب تو پاکستان پر رحم کرو! بن گیا کراچی ’’پیرس‘‘ اورپاکستان ’’ایشین ٹائیگر‘‘ ۔۔۔۔۔

24

کراچی والوں کے لئے ایک خوشخبری ہے۔ شہباز شریف نے دبنگ اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں دو ڈھائی سال کی مہلت ملی تو وہ کراچی کو پیرس بنا دیں گے۔ 30سال میں توانہوں نے کراچی کو کراچی بھی نہ رہنے دیا۔ ڈھائی سال میں پیرس کیا بنائیں گے۔ بھائی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ پاکستان کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ بنا دیں گے اور عوام ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم۔ صرف تمہارے بیان سن رہے ہیں۔ اللہ کے واسطے پاکستان پر رحم کرو اور اپنا بوریا بستر سمیٹ لو چونکہ تم لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہے کہ ملک الموت نے تمہیں Stayدیا ہوا ہے۔ بھائی پتہ نہیں کب ان کا میٹر گھوم جائے اور تمہیں لے اڑیں کیونکہ تمہیں ہزاروں امراض لگے ہوئے ہیں۔ زیادہ لمبے پروگرام مت بنائو۔ ابھی ایک صاحب جنہوں نے (ڈاکٹر امجد) عوام کو 25ارب کا چونا لگایا تھا ان کے جنازے پر کیا تماشا ہوا۔ کچھ عبرت پکڑ لو۔’’رہنے دو بس بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا ‘‘ فواد چودھری کے مطابق ن لیگ کے جوکر کے خلاف مضبوط کیسز بنے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنا وقت وکیلوں سے مشوروں میں گزارنا چاہیے۔ قائد کے مزار پر بڑی دھواں دھار تقریر کرتے دکھائی دئیے۔ ایک بھائی مفاہمت کی بانسری بجارہا ہے ۔ دوسرا مزاحمت کی ڈفل پیٹ رہا ہے۔ ایک وہ میڈیا بی جمالو بنا ہواہے۔ بیچار بھگوڑا، اشتہاری( بمعہ اپنے اشتہاری بیٹوں کے) لندن میں بیٹھا اپنی جعلی بیماریاں کا علاج کروارہا ہے۔ وہ اشرف غنی سے ملا ضرور تھا صرف یہ معلوم کرنے کے لئے کہ ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کا پشتو میں ترجمہ کیا ہو گا۔ بی جمالو نے ڈھنڈورا پیٹ دیا اور اب اس کا ذکر بھی بیکار ہے چونکہ ان کا دوست سوٹ کیسوں میں دولت ٹھوس کر اور کچھ ایئرپورٹ پر پھینک کر فرار ہو چکا ہے۔
پی ڈی ایم کے غبارے سے پھر ہوا بھر دی گئی ہے۔ ملا قبر میں پیر لٹکائے بیٹھا ہے لیکن حرکتوں سے باز نہیں آتا۔ اس غدار کا بہت برا حشر ہونے والا ہے کیونکہ اپنی قوم اپنے ملک سے غداری اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں پھر یہ تو پکا فسادی ہے۔ فسادات کی بھی قسمیں ہیں۔ جس طرح کا فساد چاہو پیسے دے کر اس مولانا سے برپاکروا لو۔ عوام تو اس کے ساتھیوں میں راہ راست اختیار کرنے کی دعا ہی مانگ سکتے ہیں۔ ادھر پی پی کا پرچی چیئرمین بڑی عالمانہ قسم کی تقریریں کرتا پھررہا ہے۔ نانا کی کاپی کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ زبردست تو ضرور لگ رہا ہے ’’نیازی اتنا ہی ظلم کرو جتنا تم برداشت کر سکتے ہو۔ کتنے دن جیل میں کتنے دن سزا کاٹ سکتے ہو ۔ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘‘ اتنا زور لگایا ہے کہ شاید پی پی والے پیچھے شلواریں یا پتلونیں لئے کھڑے ہوں گے۔ بیچارے پرچی چیئرمین پر ترس آرہا ہے۔ اتنی دھوم دھام صرف اس لوٹے ہوئے اربوں کھربوں کو بچانے کے لئے ہے۔ عمران خان کو بھی سوچنا چاہیے ان لوگوں نے کتنی محنت تگڑموں سے، جعل سازیوں سے یہ پیسہ لوٹا ہے۔ رکشتہ والوں ،گولے گنڈے والے، پاپڑ والے، مالی، باروچی سب کے احسان مند ہوئے ہیں۔ اتنا اپنا بھوسا بھیجہ استعمال کیا ہے تو یہ کیسے اب وہ پیسہ واپس کر دیں ؟ جن ملکوں میںا نہوں نے بڑی بڑی رقمیں لگا رکھی ہیں ان کے لئے بھی پیسہ واپس کرنا اتنا آسان نہیں خصوصاً برطانیہ جس کی اپنی معیشت ڈانواں ڈول ہے اسے بہت بڑا دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال کوشش تو جاری رکھنی چاہیے شاید کوئی راستہ نکل ہی آئے۔
زرتاج گل جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جن کے دل میں واقع کربلا کا واقعہ رفتہ رفتہ راسخ ہوا ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کس طرح وہ اس ظلم و ستم کی داستان سمجھنے میں کامیاب ہوئیں۔ یزید اور ابن زیاد کا اہل بیت کے ساتھ سفاکانہ رویہ جس کی مثال دنیا کی تاریخ آج تک پیش نہ کر سکی۔ ان دوزخیوں نے معصوم بچوں سے بھی انتقام لیا۔ صرف انہیں خانوادہ رسول کی بیخ کنی، احکام خداوندی کو تہس نہس کرنا مقصود تھا۔ منشا الٰہی جو ہمارے نبی نے مسلمانوں تک پہنچایا اس کو زک پہنچانا تھا۔
یزید حاکم وقت تھا۔ اُسے معلوم تھا نواسہ رسول پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے اُسے جواز پیدا کرنا پڑے گا۔ اس نے وقت کے قاضیوں سے فتوے لئے اس کام کے لئے اس نے ان قانون کے کرتا دھرتائوں کو بوریوں میں دولت بھر کر پہنچائی اور حکم صادر کیا تو انہیں یعنی خانوادہ نبوت کو خارجی ثابت کریں اور انہیں قتل کرنا ان کے خلاف تلوار اٹھانا جائز ہے۔ جو ظالم حق کو مٹانے کے لئے اٹھا تھا وہ خود نیست و نابود ہو گیا۔ حق تاقیامت زندہ رہے گا۔ باطل ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زرتاج گل صاحبہ چاہتی ہیں کہ واقعہ کربلا کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔
واقعہ کربلا نہ صرف ظلم و جبر کی داستان ہے بلکہ ایک سبق ہے جو اہل بیت نے صبر کی انتہا دکھا دی۔ کربلا انسانیت کو ایک ناقابل فراموش قربانی دے کرا سلام کو زندہ کرتی ہے۔
؎انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ!

Leave A Reply

Your email address will not be published.