چین کی چار محاذوں پر پیشقدمی(دوسری قسط)

333

موسم گرما کے شروع ہوتے ہی فوجی مشقوں کے دوران چین کی لداخ میں کئی مقامات پر اچانک پیشقدمی کی اصل وجہ بھارتی ماہرین کی رائے میں یہ ہے کہ امریکی قیادت عالمی معاملات میں ایک بھرپور کردار ادا نہیں کر رہی جسے دیکھتے ہوے چین بیک وقت کئی محاذوں پر آگے بڑھ رہا ہے بھارت کے دفاعی صلاح کاروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تدارک میں کامیابی کے بعد چین کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ابھرتی ہوئی طاقت کے روپ میں دیکھ رہا ہے جسکے عالمی کردار ادا کرنیکا وقت آگیا ہے ایسا اگر نہ ہوتا تو بیجنگ ‘ ہانگ کانگ اور تائیوان میں بہ یک وقت امریکہ اور برطانیہ کی مرضی کے خلاف نئے جارحانہ اقدامات نہ کرتا ہانگ کانگ میں حال ہی میں چین نے ایسے سیکیورٹی قوانین نافذکرنے کا اعلان کیا ہے جنکی رو سے مظاہرین پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر انکے مقدمات کو چین کی عدالتوں میں منتقل کیا جا ئیگا اسی طرح بیجنگ میںبیس مئی کو ہونیوالی پیپلز نیشنل کانگرس کے اجلاس میں‘ جس میں تین ہزار مندوبین نے شرکت کی‘ صدر شی جنگ پی نے تائیوان کا ذکر کرتے وقت نہایت سخت الفاظ استعمال کئے چینی قیادت پہلے تائیوان کے بارے میں ہمیشہ Peaceful Reconciliation کے الفاظ استعمال کرتی تھی لیکن اب وہ صرفReconciliation پر اکتفا کرتی ہے جسکا مطلب تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ ہے کہ وہ تائیوان پر بھی ہانگ کانگ کی طرح اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کریگی اسی طرح جنوبی چین کے سمندر میں بھی بیجنگ نے نئے جزیرے آباد کر کے ان پر فوجی تنصیبات بنانا شروع کر دی ہیں
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان چاروں محاذوں میں لداخ اسلئے اہم ترین ہے کہ اسکا براہ راست تعلق کشمیر سے ہے اور اس مسئلے کی جڑیں کورونا وائرس کے پھیلائو سے پہلے والے معاملات میں ہیںظاہر ہے کہ اگست 2019 میں نریندر مودی کا لداخ اور جموں کشمیر کی ایک آزاد اور خود مختار علاقے کی حیثیت ختم کر کے اسے براہ راست نئی دہلی کے کنٹرول میں دے دینا ایک ایسی اشتعال انگیز حرکت تھی جو چینی قیادت کیلئے ناقابل برداشت تھی اسلئے کسی عالمی وبا کا ظہور اگر نہ بھی ہوتا تو بیجنگ نے بھارت کی اس دیدہ درہنی کا جواب ضرور دینا تھا اب بھارتی ماہرین یہ کہہ رہے کہ جموں کشمیر اور لداخ کے الحاق کا مقصد چین کو اشتعال دلانا نہ تھا بلکہ پاکستان کو یہ سمجھانا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے تمام دروازے بند ہوگئے ہیں اور اب یہ ہمیشہ کیلئے بھارت سرکار کا حصہ بن گیا ہے یہ توجیح عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے ایک تو جموں کشمیر کے مسلمان اس الحاق کے حق میں نہیں اور دوسرا یہ بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے
بھارتی تجزیہ نگاروں کی رائے میں چین نئی دہلی کو اسلئے بھی سبق سکھانا چاہتا تھا کہ اسکا جھکائو امریکہ کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس نے حال ہی میں واشنگٹن کے ساتھ اپنی تجارت کے حجم کو بڑھا دیا تھا جسکا نقصان بیجنگ کو اٹھانا پڑا تھا اسکے علاوہ نئی دہلی کا مغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈے میں شامل ہوناکہ چین کورونا وائرس کے پھیلائو کا اصل ذمہ دار ہے، بھی بیجنگ کے سخت رد عمل کی وجہ ہو سکتا ہے اب چین کی اکسائی چن کے علاقے میں پیشقدمی نے بھارت کے آپشن بہت محدود کر دئے ہیں اب تک تو دونوں ممالک اپنے سرحدی تنازعات سفارتی گفتگو کے ذریعے حل کرتے چلے آرہے تھے مگر اب چین میدان جنگ میں ایک بڑی عسکری کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسے کسی بھی صورت مذاکرات کی میز پر کھونا نہ چاہے گا اسکے بعد نئی دہلی کے پاس بیجنگ کے ساتھ ایک بڑے فوجی تصادم کا آپشن رہ جاتا ہے جو بھارتی نیتائوں کے لئے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے اسلئے نریندر مودی اب دانت پیسنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے لداخ کے معاملے میں جس حمایت اور حوصلہ دلانے کی ضرورت تھی وہ امریکی صدر نے یہ کہہ کر ختم کر دی کہ وہ چین اور بھارت کے مابین ایک ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں نریندر مودی پہلے ہی کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ ثالثی والی امریکی پیشکش مسترد کر چکے ہیںعالمی ماہرین کی رائے میں موجودہ صورتحال میں بھارت کے پاس یہی آپشن بچا ہے کہ وہ لداخ میں ہر ا س جگہ اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کردے جہاں چین نے پیشقدمی کی ہے تا کہ بیجنگ مزید آگے بڑھنے کی بجائے اپنی حالیہ فتوحات پر اسوقت تک اکتفا کرے کہ جب تک گفتگو کے ذریعے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی
لداخ میں چین کی پیشقدمی پر بھارت کا یہ واویلا کہ یہ محاذ بیجنگ کے کھولے ہوے دوسرے محاذوںسے زیادہ خطرناک ہے اسلئے بیجا ہے کہ ہانگ کانگ میں چین کے نافذ کردہ نئے قوانین پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اعلان کیا ہے کہ اگر یہ قوانین منسوخ نہ کئے گئے تو وہ ہانگ کانگ کے انتیس لاکھ باشندوں کو برطانوی شہریت دینے کیلئے پارلیمنٹ سے قانون منظور کروا سکتے ہیں ہانگ کانگ 1997 سے سو سال پہلے تک برطانیہ کی کالونی رہ چکا ہے اس شہر کے باشندوں کو اب تک تمام شہری آزادیاں میسر تھیں اب وہ ایک سال سے چین کے نئے قوانین کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیںیہ جزیرہ اسقدر ترقی یافتہ ہے اور اسکے لوگ کاروبار اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اتنے ماہر ہیں کہ اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ترقی کا پل کہاجاتا ہے
امریکہ نے اب تک ہانگ کانگ کو تجارتی معاملات میں خصوصی سٹیٹس دیا ہوا تھا جسکی رو سے کم ٹیرف کے علاوہ ٹریڈ سرپلس اور دوسری کئی سہولتیں اسے حاصل تھیں مگر اب صدر ٹرمپ نے یہ تمام سہولتیں واپس لینے کا اعلان کیا ہے جسکی وجہ سے ہانگ کانگ کے علاوہ چین کی تجارت کو بھی مزید نقصان پہنچے گا اس اعتبار سے دو بڑی طاقتیں اس جگہ ایک بڑے تصادم کیلئے تیار ہیں جو ہر صورت میں کسی بھی دوسرے محاذ سے زیادہ پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے اسکی مزید تفصیلات پر اگلی قسط میں بات ہو گی یہ معاملات اسلئے بھی اہم ہیں کہ انکی تہہ میں چھپا ہوا سوال یہ ہے کہ امریکی اور چینی نظام ہائے حکومت میں سے کونسا بہتر ہے (جاری ہے)
عتیق صدیقی