’لگتا ہے اس بار بھی دل ہی جیتیں گے۔۔۔ ٹرافی نہیں‘

88

گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا ہے اور ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کو دیکھ کر  یہ گمان ہوتا ہے کہ اس بار بھی ورلڈ کپ کوئی اور ٹیم ہی جیت جائے گی اور ہمار ی ٹیم ہر مرتبہ کی طرح صرف ’قوم کے دل‘ جیت کر  واپس لوٹے گی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد 5 سال بعد متحدہ عرب امارات میں 17 اکتوبر سے ہورہا ہے  اور  مختلف ٹیمیں بھرپور  تیاریوں میں  مشغول ہیں کہ کسی طرح یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی ہم جیت لیں۔

پاکستان ٹیم کی بات کریں تو  یہاں استعفوں کے بادل  چھائے ہوئے ہیں ، پوری قوم پچھلے 2 سالوں سے اس انتظار میں تھی کہ ہمارا کوچنگ اسٹاف ( سابق ہیڈ کوچ مصباح الحق اور وقار یونس)  قومی ٹیم کا  کمبی نیشن بنا رہا ہے ۔

مگر یہاں تواصل امتحان سے پہلے ہی ہمارے محترم کوچز  ٹیم کو چھوڑ کر استعفیٰ دے کر یہ گئے وہ گئے ۔

قومی کرکٹ ٹیم کے  چیف سلیکٹر  محمد وسیم نے گزشتہ دنوں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے قومی ٹیم کے15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا  تھا  ،جس کے بعد شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے  کافی تنقید کی جارہی ہے ۔

مختصر فارمیٹ کے سب سے بڑے ایونٹ میں جارح مزاج بیٹسمین شرجیل خان ٹیم میں شامل ہیں اور نہ ہی فخر زمان ۔

  اگر  اسکواڈ پر نظر ڈالیں تو  بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹیم ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کیلئے نہیں بلکہ تیسرے درجے کی کسی ٹیم کے خلاف سیریز کیلئے سلیکٹ کی گئی ہے ۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ  ورلڈ کپ جیسے اہم ایونٹ کیلئے یا تو آپ اپنے سینیئر پلیئرز کے  ساتھ جاتے ہیں اور ان کا تجربہ استعمال کرتے ہیں یا پھر آپ اپنے بیسٹ کمبی نیشن جو نوجوان اور سینیئرز پر مشتمل ہوتا ہے ان کے ساتھ جاتے ہیں۔

مگر ہماری ٹیم سلیکشن میں اس کے بر عکس ہوا ہے ، نہ تو ہم نے سینیئرز کو ٹیم میں ڈالا اور نہ ہی ایسے کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جو  پچھلی کئی سیریز سے اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں۔

شائقین کو توقع تھی کہ شرجیل خان  ، فخر زمان  اور شعیب ملک جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا ، شعیب ملک کافی عرصے سے ٹیم کے ساتھ نہیں ہیں لیکن ہم نے ان کے بغیر  زمبابوے، جنوبی افریقا، انگلینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف اپنے مڈل آرڈر کا حال دیکھا ہوا ہے  ، سابق کرکٹرز اور شائقین یہی اُمید کررہے تھے کہ حفیظ اور شعیب ملک مڈل آرڈر کے مسئلے کو حل کرلیں گے مگر ایسا ممکن نہ ہوا اور سلیکٹرز نے  شعیب کی جگہ   آصف علی، اعظم خان اور  خوشدل شاہ جیسے نوجوان اور نا تجربہ کار کھلاڑی  شامل کیے حالانکہ ان کھلاڑیوں کی ماضی میں کوئی خاص پرفارمنسز  نہیں ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.