ہماری فوج!

100

کسی کی بھی ملک کے عوام کو اپنی فوج پر ناز ہوتا ہے وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور احترام بھی فوج میں مائوں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی، بچوں کے باپ اور بیویوں کے شوہر ہر شعبہ میں خدمات انجام دیتے ہیں، فوج کے عموماً تین حصے ہوتے ہیں، آرمی، ایئرفورس اور نیوی، آرمی کی آرٹیلری ایئر فورس کے پائلٹ اور نیوی کے میرینز کو بہت قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لیتے ہیں اور ملک و قوم کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کر دیتے ہیں، ان کارناموں پر ان کو مختلف اعزازات سے بھی نوازاجاتا ہے، قوموں کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے فوج کا اہم کردار ہوتا ہے IF YOU LOVE YOUR FREEDOM, THANK A VETیہ امریکہ میں بھی کہا جاتا ہے وہ افراد جو افواج کا حصہ ہوتے ہیں ان کی خاص تربیت کی جاتی ہے۔ ان کی نفسیات پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، یہاں تک لکھا گیا کہ A SOLDIER IS BORN TO KILLاور یہ بھی کہ افراد جو فوج میں جاتے ہیں ان کی BRAIN WASHINGہو جاتی ہے۔ اس تمام تنقید کے باوجود فوج کی اہمیت سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فوج کی تربیت کا سب سے بڑا حسن DISCIPLINEہوتا ہے مگر یہ بھی کہ FIRST OBEY, THEN OBJECT، ساری دنیا میں فوجیوں کے جذبہ حب الوطنی ، ان کی انتظامی صلاحیتوں اور TIME MANAGEMENTکو سراہا جاتا ہے، اب بیشتر ملکوں میں ملٹری اکیڈیمیز موجود ہیں جہاں ان کو سیاسیات، معاشیات، سماجیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور جدید جنگ اور لڑنے کی تکنیک سکھائی جاتی ہے، یہ بھی سچ ہے کہ دنیا کی بہت سی اقوام کو ان کی فوج نے عظیم لیڈر بھی دئیے ہیں چونکہ فوج کی تربیت خاص انداز میں خاص مقاصد کے لئے ہوتی ہے لہٰذا دوران ملازمت ان کو سول لائف سے دور رکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ سخت زندگی گزارتے ہیں اور سول لائف میں بہت آرام ہے، عوام سے دور اس لئے بھی رکھا جاتا ہے کہ فوجی آرام طلب نہ ہو جائیں۔
فوج کے حوالے سے مجھے مختصر سی تمہیدیوں بھی دینی پڑی کہ مجھے عمران کے ایک بیان پر تبصرہ کرنا ہے، عمران نے فوج پر کی گئی تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ اپوزیشن فوج سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ منتخب حکومت گرا دے، یہ بات بالکل سچ ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اس دور تک عمران وہ واحد وزیراعظم ہیں جن کی پشت پر فوج کھڑی ہے اگر عمران کے ان تین سالوں میں عوام کو ذرا سا بھی ریلیف ملا ہوتا تو اس بات پر کسی کو اعتراض نہ ہوتا، اعتراض اس بات پر ہے فوج بھی آپ کے ساتھ ہے، ہر سیاسی حملے سے آپ کو بچا بھی رہی ہے، آپ ملک میں اپنی مرضی سے کام کررہے ہیں اور کوئی ان میں رکاوٹ بھی نہیں بن رہا مگر حالات آپ کے قابو میں نہیں آرہے ہیں اور لوگ پریشان ہیں، ایک خاص تکنیک کے تحت ہر دو چار ماہ کے بعد ایک NON ISSUEکو بہت بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے اور اصل مسائل ان کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور مسائل کا ایک انبار سا بنتا جارہا ہے جو حل ہونے میں نہیں آرہا ہے ظاہر ہے کہ اس پر MURMURشروع ہو جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فوج کی مکمل حمایت کے باوجود مسائل حل اس لئے نہیں ہورہے ہیں کہ عمران میں اس کی اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے وہ نااہل اور نالائق ہے، بلاول کو میں بہت IMMATUREDہی سمجھتا ہوں کہ عمران کے حلف کے بعد مبارکباد دیتے ہوئے اسی نے کہا تھا کہ عمران SELECTEDوزیراعظم ہے تب سے یہ بات ہر زبان پر آگئی ہے۔
پاکستان میں ملک کی سیاست میں دخل اندازی کے حوالے سے فوج کا ریکارڈ بہت خراب ہے وہ جنرل اکبر ہی تھے جنہوں نے قائداعظم سے پوچھا تھا کہ نئے ملک میں فوج کا کردار کیا ہو گا، عجیب بات ہے کہ ایک جنرل کو نہیں معلوم کہ ملک میں فوج کا کردار کیا ہوتا ہے، پھر پہلی بغاوت میں بھی فوج میں ہی ہوئی۔ ۱۹۵۸ کا مارشل لاء ، دس سال کی آمریت اور سیاسی جماعتوں کی اکھاڑ پچھاڑ، جنرل کی موجودگی میں ملک کا دولخت ہونا، بھٹو کا قتل اور پھر ضیاء الحق کا گیارہ سالہ آمریت، ملک کو امریکہ کے حکم پر نام نہاد افغان جہاد میں دھکیل دینا، ملک میں انتہا پسندی میں بنیاد پرستی، دہشت گردی کو فروغ بھی، منشیات، اسلحہ کی ریل پیل، اس کے بعد فوج کے ہی ہاتھوں آئی جی آئی کا قیام، بے نظیر کی دونوں حکومتوں کی نگرانی، اس کو سکیورٹی رسک قرار دینا، نواز شریف کی حکومت کی برطرفی، مشرف کا دس سال کی آمریت اور اس دوران انڈیا کی RAWکا کراچی اور بلوچستان میں بیٹھ جاتا، وزیرستان میں القاعدہ کی بادشاہت، پھر بے نظیر کا قتل، اکبر بگٹی کاقتل، کراچی میں ایم کیو ایم کو دہشت گردی کی اجازت، نواز شریف سے فوج کا اختلاف، عمران کی حکومت کے پیچھے بھی فوج ہی سمجھی جاتی ہے اور اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ اس وقت عمران حکومت میں ہر اہم عہدے پر فوجی جنرلز متمکن، چارج شیٹ بہت لمبی ہے، اس موضوع پر حسین حقانی کی کتاب PAKISTAN – BETWEEN MOSQUE AND MILITARYبھی دیکھی جا سکتی ہے، پاکستان کی سیاست پر مولویوں کا غلبہ بھی فوج کا ہی کارنامہ ہے یہ سب دیکھ کر فوج کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جا سکتا، نواز جو سوال اٹھا رہا ہے اس کے جواب کیوں نہیں مانگے جا سکتے، ہزار کرپٹ سہی مگر یہ کہہ کر سوالوں سے نہیں بچا جا سکتا کہ نواز تو کرپٹ ہے، ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ سارے سیاست دان کرپٹ ہیں ان میں کوئی بھی نہیں جو ملک کو اس بھنور سے نکال سکے اور فوج بہت ڈسپلنڈ ہے تو فوج ملک سنبھال لے، کم از کم لوگوںکو روٹی تو ملے، مگر فوج ایسا نہیں کرے گی سیاست میں ملوث رہے گی مگر یہی کہے گی کہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، عمران کی میز تو خالی ہے اس پر ایک فائل بھی نہیں اور نہ ہی فون، سارا کاروبار باجوہ کے ہاتھ میں، غیر ملکی وفود،سفیر اور امریکی ناظم الامور بھی باجوہ سے ملتے ہیں، تاجکستان، ازبکستان اور افغانستان کے ہزار دورے باجوہ کرتے ہیں لگتا ہے تمام فیصلے GHQمیں ہوتے تو فوج پر بات کیوں نہ کی جائے، یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مافیا فوج پر تنقید کرتا ہے کسی شعبے میں بھی ذرا سی بہتری آتی تو شاید زبان نہ کھلتی، پاکستان ہر لحاظ سے پستی کی جانب تو یہ کہنے میں کیا عار کہ پاکستان میں پیٹ بھر کر روٹی یا تو فوج کھاتی ہے یا مولوی UNPRODUCTIVE LABORہے اورجس کی سرپرستی فوج کرتی ہے قاضی فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں فوج کو رگڑا اور اب عدلیہ خود اپنے ایک جج کو رگڑ رہی ہے، عدلیہ کے سارے فیصلے فوج کے اشاروں سے ہی ہورہے ہیں شائد فوج نے کشمیر کے بعد افغان مسئلہ بھی پاکستان کے گلے میں باندھ دیا ہے اوراب افغانی پاکستان کے عوام کی روٹی کو SHAREکریں گے، مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ عالمی ایجنڈے کے تحت ہورہا ہے اور عمران ایک TOOLہے اور پاکستان کو افغانستان بنانے کی تیاری ہے، یہ شرم ناک ہو گا، یہ کہنا بددیانتی ہے کہ فوج کی وجہ سے عوام رات کو سکون سے سوتی ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ عوام کے خون پر فوج پل رہی ہے اور بدلے میں بھوک اور افلاس ہی مل رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.