افغانستان سے آخری امریکی فوجی کی واپسی، اب افغانوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

284

31 اگست وہ دن جس کو ہر امریکی اور پوری دنیا یاد رکھے گی جب افغانستان کے کابل ایئرپورٹ سے آخری فوجی کی واپسی کی ویڈیو دنیا کے ہر ٹی وی چینل پر دکھائی گئی۔ ستمبر کی 11تاریخ ہر بار شعورشخص کو یاد رہی ہے۔ جب ٹوئن ٹاور پر حملہ ہوا۔اس کا جواب 20 سال سے امریکہ طالبان اور افغانستان کو دے رہا تھا۔ 20 سال کا یہ وقت افغانوں اور اس ملک میں بسنے والے یا لڑنے والے ہر طالبان کے ذہن سے کبھی نہیں نکلے گا۔ جب ایک سپرپاور نے اپنی ہر طاقت کو آزما لیا۔ دنیا کی بہترین فوجوں نے مشترکہ طور پر ہر حربہ اور طاقت استعمال کی لیکن اس کا نتیجہ31 اگست 2021ء کو نظر آیا جب امریکہ اپنے آخری فوجی کو بھی واپس لے گیا۔ امریکی تاریخ میں یہ امریکی فوج کی دوسری بڑی شکست ہے۔ ویت نام میں پہلے ایک تجربہ ہو چکا ہے یہ 20سالہ طویل ترین تجربہ تھا۔ ایک طرف 70ہزار پہاڑوں میں چھپتے طالبان تھے دوسری طرف دنیا کی سب سے طاقتور فوج اور ساڑھے تین لاکھ بھارت سے تربیت حاصل کی ہوئی افغانی فوج بھی تھی لیکن صرف دس بارہ دن میں وہ افغانی فوجی پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئے ان کو زمین کھا گئی یا آسمان نے نگل لیا۔ ان کا سربراہ اشرف غنی تو ڈالروں سے بھری چار گاڑیاں لے کر پہلے ہی دبئی بھاگ گیا تھا۔ باقی حکومتی کارندے بھی پتہ نہیں کس کس ملک میں روپوش ہو گئے شائد دنیا کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہو کہ پوری کی پوری فوج ہی غائب ہو گئی ہو اور پورا ملک بغیر مزاحمت دوسری فوج کے حوالے کر دیا ہو۔
اگر آپ اس بیس سالہ جنگ کے جانی نقصان اور مالی اخراجات پر نظر ڈالیں تووہ بہت دکھ بھرے اور حیران کر دینے والے اعداد و شمار ہیں ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی سکول اور برائون یونیورسٹی نے اب جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اس کے مطابق 2448امریکی فوجی اس عرصہ میں اپنی جان سے گئے فوج کیساتھ کام کرنے والے 3846افراد جو کانکٹریکٹر اور دوسرے اداروں کے ساتھ کام کرتے تھے وہ مارے گئے افغان پولیس اور فوج کے اندازً 66000لوگوں کو طالبان نے مارا خود 52000سے زیادہ طالبان بھی اس جنگ میں کام آئے۔ افغان عام آدمی بھی بم دھماکوں میں اندازً48000نے اپنی جان سے ہاتھ دھویا۔ اس جنگ میں امریکہ نے دو ٹریلین سے زیادہ ڈالر خرچ کئے جس کو امریکی قوم 2050ء تک سود کے ساتھ 6ٹریلین ڈالر سے زیادہ قرضہ ادا کرے گی جو دوسروں ملکوں سے قرضہ حاصل کیا گیا اس میں چائنہ اس وقت پوری دنیا کو سب سے زیادہ قرض دیتا ہے۔ امریکہ نے سب سے زیادہ قرضہ بھی چین سے ہی لیا ہے۔
اب امریکہ کے افغانستان سے مکمل طور پر نکل جانے کے بعد پورا مغرب اور دنیا کے سارے ملکوں کی نظریں طالبان اور افغانستان پر ہیں کیا طالبان اپنی پرانی روش پر قائم رہیں گے اور عورتوں پر پابندیاں لگائیں گے یا ان کو معاشرے میں برابر کا حصہ دیں گے۔ سب سے زیادہ خوفزدہ عورتیں ہیں وہ افغانی جو اشرف غنی حکومت یا امریکی فوج کے ساتھ منسلک تھے وہ ملک چھوڑ کر بھاگنا چاہتے ہیں تازہ ترین جو اطلاعات آرہی ہیں اس میں ایرانی طرز حکومت کو اپنانے کی خبریں ہیں۔ ہیبت اللہ اخوانزدہ کو خامنہ ای کی طرح سپریم لیڈر بنانے کی باتیں ہیں۔ حکومت ملا برادر یا ملا عمر مرحوم کے بیٹے چلائیں گے حقانی کو بھی بہت اہم ذمہ داری ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا طالبان حکومت کو تسلیم کرے گی اور اس کی معاشی مدد کرے گی امریکہ نے طالبان کے 9ارب سے زیادہ اکائونٹ روک لئے ہیں کینیڈا نے طالبان حکومت کو تسلیم کر نے سے انکار کر دیا ہے۔برطانیہ خاموش ہے۔ بغیر پیسوں کے طالبان حکومت نہیں چل سکتی۔ شاید سارا معاشی بوجھ چائنا اور روس اٹھائیں گے۔ سعودی عرب اور اسلامی ممالک خاموش ہیں۔ دولت ان کے پاس بھی بہت ہے۔ افغانی عوام سب سے زیادہ اہم ہیں کیا وہ ماضی کی طرح آپس میں لڑنے اور گروپس میں تقسیم رہیں گے یا سب مل کر عوام کی ترقی کے لئے کام کریں گے کیا افغانی اسی طرح مرتے رہیں گے اور غربت کی چکی میں پستے رہیں گے یا ایک بہتر معاشرہ اور خوشحال معاشرہ ان کا منتظر ہو گا۔ اس کا فیصلہ یا کوشش طالبان حکومت کرے گی آئندہ آنے والے دنوں میں ہم افغانی عوام کی خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں۔