اس منافقت کی کوئی انتہا ہے؟

292

جو کچھ عالمی طاغوتی طاقتیں افغانستان میں کررہی ہیں اور مستقبل میں کرنے کے شیطانی منصوبے بنارہی ہیں ہمارے پاکستان کی سرکردہ اور با اثر سیاسی جماعتوں کا صوبہء سندھ اور خاص طور پہ کراچی کے ضمن میں رویہ اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
طالبان سے جنگ کے میدان میں اور مفاہمت کی میز پر سامراج اور طاغوت نے جو مات کھائی ہے اس نے بڑے بڑے عالمی ماہرین منصوبہ سازوں کے منہ پر کالک مل دی ہے۔ کہاں وہ زعم کہ ہم دنیا کی ایسی سپر پاور ہیں کہ ایک دنیا ہمارا لوہا مانتی اور ہمارے نام سے لرزتی ہے تو کیا مجال ہے ان دقیانوسی ہتھیاروں کے بل پہ لڑنے والے اور اتنی ہی دقیانوسی سوچ کے مالک طالبان کی کہ یہ ہمارے سامنے ٹک سکیں۔ ہماری کیل کانٹے سے لیس اور جدید ترین ہتھیاروں کی مالک افواجِ قاہرہ چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں ان پتھر کے دور کے جنگجوؤں کو چیونٹی کی طرح مسل کے رکھ دینگی اور پھر ان کا وجود اس صفحہء ہستی سے مٹ جائے گا اور افغانستان کو ہم اپنا باجگذار بناکے اس کی معدنی دولت پہ ہاتھ صاف کرینگے اور دنیا ہمیں اور ہماری طاقت کو رات دن جھک کے سلام کرے گی۔
لیکن اب انہیں پتھر کے دور کے طالبان سے سامراج برابری کی بنیاد پر، بلکہ ان کی منت سماجت کرکے، یہ ضمانت مانگ رہا ہے کہ ان کی فوج اور ان کے شہریوں اور افغانوں میں جو ان کے حاشیہ بردار اور حلیف ہیں انہیں جان بچاکر صحیح سلامت اس کابل سے نکلنے کی اجازت ہوگی جس پر آج طالبان کا پرچم لہرا رہا ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ جو تلوار کے سہارے پر رہتے ہیں وہ اپنی ہی تلوار پہ گرکے ختم ہوتے ہیں اور آج مغربی سامراجی چالوں کی جس طرح افغانستان سے ارتھی اٹھ رہی ہے اسے دیکھ کے اس قول کی صداقت پر ایمان لانا پڑتا ہے۔
طالبان کی عالی ظرفی اور شرافت ہے کہ وہ انہیں منہ چھپاکے اپنی سرزمین سے نکل جانے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں جنہوں نے بیس برس تک افغانستان کی سرزمین کو جہنم کا میدان بنائے رکھا۔ کونسا ستم تھا جو طاغوت نے افغانستان اور اس کے مجبور و محصور باشندوں پر نہیں توڑا۔ امریکہ کے ایک فرعونی جرنیل نے بڑی نخوت سے عراق پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا تھا، جب ان سے شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، کہ‘ہم لاشوں کو نہیں گنتے۔’لیکن اپنی لاشوں کو گنتے ہیں۔ تو یہ اعداد و شمار تو آپ کو ہر جگہ مل جائینگے کہ بیس سالہ جنگِ افغانستان میں کتنے ہزار امریکی یا امریکہ کے حلیف ممالک کے فوجی مارے گئے لیکن افغان سپاہیوں اور شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا جہاں سوال آئے وہاں زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں اور پھر کمال بے اعتنائی سے جواب ملتا ہے کہ اندازہ نہیں کتنے افغان مارے گئے لیکن محتاط تخمینہ یہی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔
ایک طرف طالبان کی فراخدلی ہے لیکن دوسری طرف اس کے جواب میں مغربی تجزیہ کار، ماہرین اور ذرائع ابلاغ تن من سے طالبان کے خلاف مفسدانہ پروپیگنڈا کہ مہم میں جت گئے ہیں۔ کوئی مغربی اخبار اٹھا کے پڑھ لیجئے، کسی نیوز چینل کو کھول کے ان پر ہونے والے افغانستان کے ضمن میں تجزیئے سن لیجئے، ایک ہی راگنی ہے جو الاپی جارہی ہے اور وہ یہ کہ طالبان اس وقت جو صلح جو بنے ہوئے ہیں تو یہ محض ہاتھی کے دکھانے والے دانت ہیں۔ اصل کھانے والے دانت اس وقت سامنے آئینگے جب مغربی افواج افغانستان سے مکمل طور پہ نکل جائینگی۔ پھر، بقول ان ماہرین اور بہت قابل تجزیہ نگاروں کے طالبان اسی پرانے ڈھنگ پہ آجائینگے اور افغانستان میں ظلم و بربریت کا ایک نیا دور شروع ہوجائے گا۔
جو کچھ گذشتہ بیس برس میں طاغوت اور مغربی سامراج نے افغانستان میں کیا وہ کیا تھا؟ کوئی سوال کرے۔ لیکن مغربی صالح کار اس کے جواب میں یہی کہتے ہیں کہ وہ تو ایک نیا افغانستان بنانے کیلئے کام کررہے تھے لیکن کیا کریں کہ افغانستان کی جو سیاسی جماعتیں اور سیاستدان تھے وہ کرپٹ نکلے اور مغربی دیالو اور فرشتے جو نظام افغانستان میں رائج کرنا چاہتے تھے وہ منصوبہ منڈھے نہیں چڑھ سکا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ لیکن طالبان اپنے نئے دورِ اقتدار میں کیا کرینگے اس کے بارے میں مغرب کے بقراط یک زبان ہیں کہ وہ افغانستان میں پھر ظلم کو رواج دینگے، پھر عورتوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالینگے، پھر عورتوں کو تعلیم سے اور شخصی آزادیوں سے محروم کردینگے، وغیرہ وغیرہ۔
اس کے ساتھ ہی کھسیانی بلیاں اور کھمبے بھی نوچ رہی ہیں۔ امریکہ بہادر کا سارا زور ان کی فضائی طاقت پر ہے سو بڑی ڈھٹائی سے یہ اعلان کردیا گیا ہے کہ امریکہ جب ضرورت محسوس کرے گا افغانستان میں اپنی فضائی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ بہ الفاظِ دیگر، چور چوری سے جائے لیکن ہیرا پھیری سے نہیں جائے گا۔! یہ ڈھونگ رچایا جارہا ہے اس دعوے کے پس منظر میں کہ طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے ہمراہ داعش یا دولتِ اسلامیہ بھی افغانستان میں لوٹ آئے ہیں اور دہشت گردی کے منصوبے بنارہے ہیں۔ ایک حملہ تو ہو بھی چکا ہے کابل کے ہوائی اڈے پر جس میں تیرہ امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں اور جس پر امریکی قیادت نے بھرپور مگرمچھ کے آنسو بھی بہائے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی حساس ادارے اور ایجنسیاں ایسے حادثات اور سانحات کی پہلے سے نشاندہی کردیتی ہیں لیکن انہیں رونما ہونے سے نہیں روک سکتیں۔ کوئی پوچھے کہ بھلا کیوں نہیں روکتیں اگر ان کی معلومات ایسی درست ہوتی ہیں؟ اب اس سوال کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں جو ان منصوبوں کے ساز گر ہیں۔ ہم تو یہی کہ سکتے ہیں کہ اس سے ہمیں یہ بو آتی ہے کہ یا تو منصوبے آپ کے اپنے ہوتے ہیں یا وہ جو ان پر عمل کرتے ہیں وہ، سرکار، آپ کے اشاروں پر ناچنے والے ہی ہوسکتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ طاغوت اور سامراج اپنی منافقت کا کاروبار افغانستان میں بند نہیں ہونے دینا چاہ رہا۔ جنگ کے میدان میں تو منہ کی کھائی ہے جس کے بعد شرافت کا طور طریقہ اور وطیرہ تو یہ ہوتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے اپنی عزت اور ناموس کو سمیٹ کے اور بچاکے چلے جانا چاہئے لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ چور اور مجرم اپنی چوری یا اپنے جرم کی جگہ پر لوٹ کے ضرور آتا ہے تو وہ کہاوت مغربی سامراج کے اس مفسدانہ رویے سے پوری طرح سچ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔مغربی سامراج افغانستان کی جان چھوڑنا نہیں چاہ رہا اور اب شر اور فساد کا کاروبار دیگر طریقوں اور واسطوں حوالوں سے جاری رکھنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ سچ ہے کہ جن کے خمیر میں غیرت اور شرم نہ ہو انہیں منہ کی کھانے پر بھی شرم و غیرت نہیں آتی۔ اور اس بے غیرتی کا علاج تو سنا ہے کہ حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہے۔
کچھ اس سے ملتا جلتا احوال ہمارے سیاسی جغادریوں کا بھی ہے جنہیں اب اچانک یہ احساس ہوا ہے کہ سندھ میں حکومت پر قابض پیپلز پارٹی سندھ کو پتھر کے دور میں واپس لیجانا چاہ رہی ہے لہذا اس کا کوئی سدِ باب ہونا چاہئے۔ تو ہمارا سوال اپنے ان سیاسی بقراطوں سے بھی وہی ہے جو افغانستان کے ضمن میں سامراجیوں سے ہے اور وہ یہ کہ سرکار آپ کے پیٹ میں جو یہ اچانک درد شروع ہوا ہے تو کیوں یہ درد ان تمام سالوں اور برسوں میں نہیں ہوا تھا جب آپ خاموش تماشائی بنے ہوئے پیپلز پارٹی، جو اصل میں مہا ڈاکو زرداری کے چیلے چاٹوں کے گروہ کا نام ہے، کی لوٹ مار دیکھ رہے تھے؟
حکمراں تحریکِ انصاف کے بقراط تو یہ کہ کے اپنی جان چھڑانا چاہینگے کہ ان کی حکومت تو بس تین برس پرانی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے وڈیرے گذشتہ آٹھ برس سے سندھ کو نوچنے اور کھسوٹنے کے گھناؤنے کاروبار میں مصروف رہے ہیں۔ لیکن ہم اس لنگڑے لولے عذر کے جواب میں یہ کہہ ینگے کہ، سرکار، تین برس بھی کم تو نہیں ہوتے اور پھر اقتدار کے تین برس۔ آپ کے دل میں اگر سندھ اور بالخصوص کراچی کیلئے، جس شہر نے آپ کے حوالے وہ سب نشستیں کردیں جو پہلے ایم کیو ایم کی تحویل میں تھیں، کوئی ہمدردی ہوتی تو آپ خاموش تماشائی بن کے یہ لوٹ مار نہ دیکھتے بلکہ کراچی کے حالِ زار پر ترس کھاکے اپنے اقتدار کو اس مظلوم شہر کے باسیوں کی ڈاکوؤں سے گلو خلاصی کیلئے استعمال کرتے۔ لیکن آپ نے تو پچھلے تین برس میں سوائے بیانات کے گھوڑے دوڑانے کے اور کوئی کام نہیں کیا۔ دیکھا جائے تو آپ نے زرداری اور اس کے گماشتوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں کراچی اور پورے صوبے کا حشر کریں آپ اور آپ کے وزراء اور وزیرِ اعظم لفظی گھوڑے ہی دوڑاتے رہینگے۔ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی آپ کی نیت نہیں لگتی۔
اور رہے شہباز شریف یا وہ مفسد ملا ڈیزل تو ان کی منافقت تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کراچی والے تو ان منافقوں کو خوب پہچانتے ہیں اور ان کے فریب میں آنے سے رہے لیکن تحریکِ انصاف نے اپنے تین برس کے اقتدار میں کراچی والوں کو جس طرح بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے اس کی قلعی تو عرصہ ہوا اتر چکی ہے۔ کراچی کے باسی یہ جانتے ہیں کہ عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کے کسی لیڈر کے دل میں کراچی شہر کی زبوں حالی پر ہمدردی کی کوئی رمق نہیں ہے اور نہ ہی ان ڈھکوسلے بازوں سے کوئی امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ کراچی کیلئے کوئی تعمیری منصوبہ رکھتے ہیں۔ اب کراچی والوں کے پاس بس ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے ان کا ووٹ جسے وہ اگلے قومی انتخابات میں استعمال کر کے تحریکِ انصاف کے جعلسازوں سے نجات پاسکتے ہیں لیکن اس نجات کا کیا طریقہ ہو جو اس وقت ملے گی جب کراچی سے پیپلز پارٹی کے ناپاک وجود کو ختم کردیا جائے گا۔ یہ مشکل کیسے آسان ہوگی یہ وہ سوال ہے جس کا جواب شاید فی الوقت کسی بقراط کے پاس نہیں ہے۔ کراچی والے اس اعتبار سے بدنصیب ہیں کہ پہلے انہیں ایم کیو ایم کے سانپوں نے ڈسا اور پھر جب انہوں نے عمران خان کے کھوکھلے وعدوں پر تکیہ کیا اور تحریکِ انصاف کو اپنا اختیار سونپا تو بھی نتیجہ وہی نکلا ڈھاک کے تین پات۔ اب کراچی والے کہاں جائیں؟ کس مسیحا کا بھروسہ کریں؟ کسے اپنا نجات دہندہ مانیں؟ اس وقت تو کراچی والے منافقوں اور وڈیروں کے نرغے میں ہیں۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔