امریکہ کی برہمی!!

247

جمعرات کے دن کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے دو حملوں میں 73 افراد ہلاک اور 140زخمی ہوئے ہیں ہلاک ہونیوالوں میں تیرہ امریکی فوجی بھی شامل ہیںاس بہیمانہ حملے کے فور ۱ً بعد صدر بائیڈن نے کہا کہ ’’ اس کا جواب کب اور کس وقت دینا ہے اسکا فیصلہ امریکہ کرے گا‘‘ صدر امریکہ نے کہا کہ انخلا کا عمل جاری رہے گا اور اسے ہر قیمت پر 31 اگست تک مکمل کر لیا جائیگاداعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے طالبان نے اس کی مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری امریکی فوج نے سنبھالی ہوئی تھی افغانستان میں گذشتہ بیس سال میں امریکی فوج پر ہونے والا یہ تیسرا سب سے بڑا حملہ ہے اس سے پہلے 2005 میںطالبان نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرا کر سولہ ایلیٹ کمانڈو (Navy Seal) ہلاک کئے تھے 2011 میں ایک ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے 30امریکی ہلاک ہوے تھے اب ان 13 ہلاکتوں کے بعد صدر بائیڈن پر ہونیوالی تنقید کے شور میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اس سانحے کے امریکہ اور طالبان تعلقات پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان قیادت امریکہ کے جوابی حملے پر کیا رد عمل دیتی ہے امریکہ اگر مزید انسانی جانوں کے ضیاع کے بغیر واپسی کا عمل مکمل کر لیتا تو بائیڈن انتظامیہ سے طالبان کیساتھ تعلقات میں نرمی کی توقع کی جا سکتی تھی مگر اب امریکہ میں ان ہلاکتوں پر شدید عوامی رد عمل سامنے آئیگا جسکے بعدصدر بائیڈن کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے اور انہیں کوئی مالی امداد دینے کے فیصلوں پر سخت پالیسی اختیار کرنا پڑیگی یورپی یونین کے ممالک پہلے ہی طالبان کی طرف سے اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن نہ بڑھانے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں
کابل ائیر پورٹ پر حملے سے دو دن پہلے سی آئی اے کے چیف ولیم برنز نے کابل میں طالبان لیڈر مُلا غنی برادر سے ملاقات کی تھی امریکہ کے قومی اخبارات اور نیوز چینلز نے اس ملاقات کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا تھا اس میٹنگ میں جو امور زیر بحث آئے انہیں سی آئی اے نے بتانے سے گریز کیا، پینٹا گون نے صرف اتنا کہا کہ طالبان قیادت سے اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن کو بڑھانے کی بات نہیں کی گئی اس گفتگو کی تفصیلات کو صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے اس کی پر اسراریت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان نے ولیم برنز کے دورے کی خبر کی تردید کی ہے ظاہر ہے طالبان قیادت اپنے جنگجو ئوں کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ امریکہ سے بیک ڈور ڈپلومیسی کر رہی ہے اس ملاقات کی تشہیر طالبان کیلئے نقصان دہ ہے مگر امریکہ کیلئے فائدہ مند ہے بعض اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں داعش کی طرف سے حملوں کے خطرے پر امریکہ طالبان مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت ہوئی پندرہ اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد یہ بات زیر بحث ہے کہ افغانستان سے واپسی کے بعدامریکہ اپنے مفتوحہ ملک کو اسی طرح بھلا دیگا کہ جسطرح اس نے ویت نام کا نام ایک طویل عرصے تک نہیں لیا تھا یا پھر اسے جس طرح عراق میں واپس جانا پڑا تھا اسی طرح وہ افغانستان میں بھی واپسی پر مجبور ہو جائیگا عراق میں آٹھ برس تک مسلسل جنگ جاری رکھنے کے بعدامریکہ 2011 میں واپس تو چلا گیا تھا مگر اسکے فوجی ٹھکانے اور تربیت دینے والے ڈھائی ہزار فوجی وہیں رہے تھے افغانستان میں اسے یہ سہولت حاصل نہیں مگر بائیڈن انتظامیہ پندرہ اگست کے بعد سے مسلسل افغانستان میں داعش اور القاعدہ کی موجودگی کا ذکر کر رہی ہے بیرونی دنیا امریکہ کی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں حساسیت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی مگر امریکی سرزمین پر نو گیارہ قسم کے کسی بھی دوسرے حملے نے پورے ملک کو ایک مرتبہ پھر تہہ و بالا کر دینا ہے اسلئے کوئی بھی امریکی صدر اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا منگل کو شائع ہونیوالے یو ایس اے ٹو ڈے اخبار کے سروے کے مطابق 68% امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن جائیگااور وہاں سے پھر امریکہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی جائیگی اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ولیم برنز کے دورہ ٔ کابل کی اصل وجہ امریکی عوام کو یہ یقین دلانا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ داعش اور القاعدہ کے حملوں سے اغماز نہیں برت رہی سی آئی اے چیف کا دورہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ امریکہ طالبان حکومت سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے اس سے یہ نتیجہ بھی اخذکیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اس خطے میں موجودگی برقرار رکھے گا ۔
یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ امریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشیا میں ایک نئے انداز سے موجودگی کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس حوالے سے جمعرات 26 اگست کے نیویارک ٹائمز میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی ہے اس خبر پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ خبر خواہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو اسے حکومتی پالیسی کا متبادل تصور نہیں کیا جا سکتا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اسکے مندرجات کو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کر لے مذکورہ بالا اخبار کو کم از کم پینتیس برسوں سے پڑھنے کی وجہ سے میرا تاثر یہ ہے کہ اسکا ایڈیٹوریل بورڈ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں کسی بھی جماعت کی پالیسیوں کی زیادہ مخالفت نہیں کرتا بلکہ انہیںخاصی وضاحت کیساتھ پیش کرتا ہے مغربی دنیا کے اس سب سے بڑے لبرل اخبار نے آج تک کسی بھی امریکی جنگ کو شروع کرنے کی مخالفت نہیں کی ویت نام اور عراق جنگ کی مخالفت اس نے رائے عامہ کے بدلتے ہوے تیوردیکھ کر کی تھی افغان جنگ کے بارے میں اس نے چار ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن صدور کی حمایت کی اس تمہید کا مقصد یہ کہنا ہے کہ چھبیس اگست کے اخبار میں فرنٹ پیج پر چھپنے والی ایک خبر میں کھلم کھلا پاکستان کو افغانستان میں امریکہ کی شکست کا ذمہ قراردیتے ہوے بیس سالوں میں امریکہ کی تمام کوتاہیوں کا ملبہ اسلام آباد پر گرایا گیا ہے اس خبر میں نیشنل سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے چند ممتاز ماہرین کی آراء کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے کس طرح اس جنگ کی طویل رفاقت میں ہر اہم موقعے پر امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا نیو یارک ٹائمز نے ایک ملک کے خلاف پیش کئے ہوے مقدمے کو اتنے دلائل کیساتھ پیش کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اسے نظر انداز نہیں کر سکتی اس خبر کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسے حکومت کے ایما پر ہی شائع کیا گیا ہے اس پر مزید بات اگلے کالم میں ہو گی۔