’’روبوٹ کی دنیا‘‘

369

جب سے دنیا بنی ہے انسان نے کوشش کی ہے کہ چیزوں کو ’’خود کار‘‘ بنا دے یعنی اپنے کاموں کو آسان بنانے کیلئے طریقے معلوم کرے۔ انسان جب دو پیروں پر چلتا تو اس کو خیال آیا کہ اس ’’چلنے‘‘ کو آسان بنانے کیلئے پہیہ یعنی وہیل ایجاد کرنا چاہیے۔ پہیہ چلتا رہا اور کئی ہزار سال بعد انسان اس کو پوری طرح AUTOMATIONپر لانے میں کامیاب ہو گیا یعنی صرف زمین پر دوڑنے والی گاڑی نہیں بلکہ اس نے ہوا میں اڑنے والے جہاز بھی بنا لئے جن کو کوئی جانور نہیں کھینچتا بلکہ وہ اپنے انجن کی قوت سے چلتے ہیں۔
زندگی کو آسان بنانے کے لئے ایسی ہزاروں مشینیں آگئیں ہیں جو آج کی دنیا کو ماڈرن دنیا بناتی ہیں لیکن ایک چیز جس کا شوق انسان کو ایک لمبے عرصے سے ہے وہ ہے اپنے جیسا مشینی انسان بنانا یعنی وہ روبوٹ جو انسان کی طرح نظر آتا ہو اور خود اپنا دماغ چلا کر فیصلے کر سکتا ہو ، یہ آج کی بات نہیں اگر آپ پچاس سال پہلے کا کوئی سائنس Fictionٹی وی شو دیکھیں گے تو اس میں کئی روبوٹس نظر آئیں گے جو انسانوں کی طرح کام کررہے ہیں یعنی ’’روبوٹ‘‘ لمبے عرصے سے انسان کے خواب و خیال میں موجود ہے۔ 1985 میں امریکہ میں ایک ٹی وی شو آیا تھا جب بہت مقبول ہوا تھا اس کا نام تھا Small Wonders اس میں ایک سائنسدان ایک بچی کا روبوٹ بنا لیتا ہے اور اس کو اپنی بیٹی کی طرح ٹریٹ کرتا ہے اور دنیا کو بھی یہی بتاتا ہے کہ یہ میری بیٹی ہے۔
1985ء میں ہی فلمRE BACK TO THE FUTU دیکھ کر لوگوں کو ماضی اور مستقبل میں جانے کا شوق ہوا تھا یعنی ٹائم ٹریول کا اسی طرح ’’اسمال ونڈوز‘‘ دیکھ کر لوگوں کو شوق ہوا کہ ہمارے پاس بھی انسانوں جیسے روبوٹس ہوں، ٹائم ٹریول تو خیر ممکن نظر نہیں آتا البتہ ہو سکتا ہے کہ عنقریب گھروں میں روبوٹس ہونے کی خواہش تکمیل پا جائے۔
دنیا میں کچھ برسوں میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ پر بہت کام ہورہا ہے اور کئی بڑی کمپنیاں اس کوشش میں ہیں کہ وہ کسی طرح ایسا روبوٹ بنا لیں کہ جو عام لوگوں کے بیچ انسانوں کی طرح ایکٹ کرے ابھی تک ایسا ہوا تو نہیں ہے لیکن بہت جلد ایسا ہو سکتا ہے۔
TESLAجو دنیا کی سب سے بڑی EVیعنی الیکٹریکل وہیکل بنانے والی کمپنی ہے اس نے اپنی ایک حالیہ پریزنٹیشن میں کہا ہے کہ ہم صرف ایک گاڑی بنانے والی کمپنی ہی نہیں ہیں ہم روبوٹ بنانے والی کمپنی ہیں ابھی تک ہمارے بنائے روبوٹس وہیکل پر ہیں لیکن بہت جلد ہم انسانی فارم کے روبوٹس بنانے کی طرف جارہے ہیں، انہوں نے ایک روبوٹ کی تصویر بھی دکھائی جس کو فی الحال انہوں نے TESLA BOTکا نام دیا ہے۔ اس کامقصد یہ ہے کہ انسان کے لئے وہ کام کرے جو انسان خود بار بار کرتا ہے اور جس میں زیادہ دماغ نہیں لگانا پڑتا ہے جیسے کوئی چیزایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا یا پھر کسی فیکٹری میں پیکنگ کرنا۔
یہ روبوٹ بالکل ایک انسان کی طرح نظر آئے گا ہاتھ پائوں کے ساتھ، اونچائی 5.3فٹ اور وزن 125پائونڈ اور یہ 45پائونڈز تک کا وزن اٹھا کر چل سکتا ہے۔ کھڑے کھڑے یہ 150 پونڈزکا وزن اٹھاپائے گا۔
کمپنی کے مالک سی ای او ELON MASKنے کہا ہے کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی روباٹک کمپنی ہیں کیونکہ ہم نے ملین آف کارز بنا لی ہیں جو ہم کو سڑکوں اور انسانوں کے ردِعمل اور بی ہیور کا بہت زیادہ ڈیٹا دیتی ہیں۔ ’’Yaa Bot‘‘ٹیسلا کے بنائے فل سیلف ڈرائیور کمپیوٹر کو، آٹو پائلٹ اور ان کے اپنے بنائے ٹولز کو استعمال کرے گا خود کو آپریٹ کرنے کے لئے ELON MASKنے کہا ہے کہ یہ روبوٹ انسان کی طرح فیصلے کر پائے گا جیسے انسان کے دماغ میں فیصلے کرنے کی طاقت ہے اسی طرح یہ روبوٹ بھی کر پائے گا لیکن کیونکہ یہ اتنا طاقتور نہیں ہو گا اس لئے ہماری پوری کوشش ہو گی کہ وہ اصلی انسان کو کسی بھی طرح کا نقصان نہ پہنچائے۔
دنیا میں کسی بھی شعبے میں جب کوئی نیا کام ہوتا ہے تو اس پر تنقید ضرور ہوتی ہے اس TESLA BOTکے ساتھ بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ پریس اور پبلک کا کہنا ہے کہ انسان کے پاس تو پہلے ہی روبوٹس کی فارم کی کئی چیزیں ہیں جو اپنے اپنے کام کررہی ہیں جیسے فرج، ویکیوم، AC، سمارٹ فونز سب روبوٹس کی طرح ہیں ایک طرح سے، تو پھر انسانی شکل کے روبوٹ کی کیا ضرورت ہے؟ اور یہ بھی کہ اگر اس کو کسی نے ہیک کر لیا اور مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال ہونے لگا تو پھر اس کا تو کوئی اینڈ ہی نہیں ہو گا انسان کے کئی سوال ہیں اس روبوٹ کو لے کر، ایک ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2050ء تک دنیا میں اس کمال کے روبوٹس آ جائیں گے کہ انسان ان سے شادی کررہے ہوں گے۔ روبوٹس دنیا میں گھومتے نظر آئیں گے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ کاربن جائیں اور پھر دوبارہ ویسے ہی روبوٹ، کچھ بھی کر گزر سکتے ہیں یہ روبوٹ۔حیراں ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!!!!۔