نیا تعلیمی نصاب، کیا سائنس کو صحیح طور پر پڑھایا جائے گا؟

215

جب 2021 کے تعلیمی نصاب کی تشکیل ہو رہی تھی تو راقم سے بھی مشورہ کیا گیا۔ راقم نے مندرجہ ذیل گذارشات کیں: اگر پاکستان واقعی معاشرے کو، معاشیات، اور ترقی کو بحال اورمتحرک کرنا چاہتا ہے، تو پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر ، ایک جہاد کی طرح۔ ناخواندگی، تعلیم کی خستہ حالی، اور لاکھوں کڑوڑوں بچوں ، نو جوانوں اور بالغوںکے لیے سکول مہیا کرنا ہو گے۔
نصاب میں کئی سوالات اٹھتے ہیں، جیسے کہ کونسی زبان میں پڑھایا جائے؟ اور کون کون سے زبانیں پڑھائی جائیں؟ ہمارے اکثر نو جوان بین الاقوامی مارکیٹس میں ملازمتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، جہاں کے حالات تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، جیسے عمرانیات کی وجہ سے صنعت یافتہ ممالک میں، بوڑھوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اوروہاں ایسے کام کرنے والوں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو بزرگ شہریوں کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔اس کے ساتھ ہی وہاں ہر شعبہ میں تربیت یافتہ کارکنوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کی آبادی کی اکثریت نو جوان ہے جو بہ آسانی یورپ، اور مشرق بعید کی مارکیٹس میں کارکنوں کی مانگ میں اضافہ کو پورا کر سکتے ہیں۔اور پاکستان میں بھی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں:
۱۔ ہائی سکول کے ہر طالب علم کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ انگریزی یا اُردو میں سے کسی ایک زبان کو پڑھ سکے۔ لیکن وہ جس زبان کو بھی پڑھے، اس میںاسے بات چیت کرنے کی اہلیت بھی پیدا ہو ۔ صرف لکھنے اور پڑھنے کی قابلیت کافی نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کو بول چال بھی آتی ہو وہ اس قابلیت کا مظاہرہ کر سکیں۔
۲۔ پرائمری جماعت کے طلباء لکھنا پڑھنا اپنی مادری زبان میں سیکھیں، اور اس کے علاوہ کوئی ایک اور علاقائی زبان بھی سیکھیں جیسے بلوچی، سندھی، پنجابی اور پشتو۔ اگر صرف بول چال ان زبانوں میں آ جائے تو بھی کافی ہے۔
۳۔ ہائی سکول میں، طلباء کو ایک اور بین الاقوامی زبان سیکھنے کا موقع دیا جائے، جیسے فارسی، ہندی، چائینیز، عربی، فرینچ، جرمن، رشین اور سپینیش۔ (ان زبانوں کو سیکھنے کا ایک مقصد بیرون ملک ملازمت یا تجارت کرنے والوں کو تیار کرنا ہو گا)۔ان تمام زبانوں کو سیکھنے والوں کو لکھنا، پڑھنا، بولنا اور سمجھنا آنا ضروری ہے۔سب زبانوں میں لکھنے پڑھنے کے ساتھ گفتگو کر سکنے کی اہلیت بھی ہونی چاہیئے۔
۴۔ ایک لازمی مضمون صحت عامہ پر جس میں دانتوں کی حفاظت، ذاتی حفظان صحت، متوازن غذا، نہانا، سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیا کے نقصانات، متعدی بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں (جراثیم)، تولیدی معاملات اوربنیادی جنسی تعلیم، کا علم دینا ضروری ہے۔اور کچھ معلومات عام پھیلنے والی بیماریوں جیسے پولیو، ہیپا ٹائٹس، جنسی ذریعہ سے پھیلنے والی بیماریاں، بیماریاں جو وائرس سے پھیلتی ہیں، مثلاً ڈنگی، فلو، اور کووڈ وغیرہ۔ ان کے علاوہ وہ بیماریاں جو دوسرے جراثیم سے لگتی ہیں جیسے ملیریا، اور پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں۔اس تمام تعلیم کا مقصد طلباء میں پرہیز علاج سے بہتر ہے، کہ اصول پر چلنا ہے۔اسی فہرست میں حادثات سے بچنے کی آگاہی دینا ہے جو ٹریفک کے علاوہ آتشزدگی، ڈوب جانے، زہریلی خوراک کھانے یا پینے، بجلی کے جھٹکے، اور اونچائی سے گرنے، وغیرہ سے بچنے کی احتیاط کے طریقے۔ اس تعلیم کا ایک ممکنہ فائدہ ہے کہ طالب علم یہ معلومات اپنے گھر والوں کو بھی دے سکتا ہے۔اس طرح ہیلتھ کارڈ پر اخراجات کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔اس مضمون کے نصاب میں ان وجوہات پر زور دیا جائے گا جو ہمارے ملک میں اموات اور اپا ہج ہونے کا بڑا سبب ہیں۔ اس نصاب کو پرایمری اور ثانوی جماعتوں میں بتدریج پڑھایا جا سکتا ہے۔
شہریت کی تعلیم ایک اور اہم مضمون ہے، جس کو بنیادی اور ثانوی تعلیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کورس کے ذریعے طلباء کو ضروری قوانین سے واقف کروایا جائے جن میں چوری، ڈاکہ زنی، غبن، بچے اغوا کرنا، زنا، جنسی ہراسانی، غیر قانونی وڈیو بنانا، ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی، رشوت دینا اور لینا، اور عدالتی کاروائی کے مراحل، جرائم اور سزائوں سے متعلق معلومات ہوں اور سب سے ضروری، بنیادی انسانی حقوق کی آگاہی ہو نا ضروری ہیں۔ان کے علاوہ یہ کہ ٹیکس دینا کیوں ضروری ہیں، اور مقامی حکومتوں کے کیا فرائض ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں عام شہری کیسے حصہ لے سکتا ہے؟ ووٹ کی اہمیت۔
سائنس کی تعلیم: یہ ایک بہت اہم اور مسلمانوں میں باعث نزاع مضمون ہے۔ اس لیے کہ بہت سے مسلمان علت اور معلول پر تحقیق کو نا جائز سمجھتے ہیں اور وہ اس لیے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ یہ بات سولہ آنے درست ہے لیکن اگر ہم کسی بھی عمل کی وجہ معلوم نہیں کریں گے تو اس کے فائدے اور نقصان کو سمجھ نہیں سکیں گے۔ جیسے نیوٹن نے محض سیب کے درخت سے گرنے کو نظر انداز نہیں کر دیا کہ یہ منشائے الہی تھی۔اس نے اس قدرتی عمل کو سمجھنے کی کوشش کی، جس سے خدا تعالیٰ کی شان کا ایک اور ثبوت ملا۔ انسان کو اللہ نے سمجھ دی ہے، دماغ دیا ہے کہ وہ اسے استعمال کرے اور مظاہر قدرت پر غور کرے۔ جب بجلی کڑکتی ہے تو انسان غور کرتا ہے کہ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس بجلی کی طاقت کو سمجھ کر بجلی کی ایجاد کرتا ہے۔ اسی طرح انسان نے قدرتی اصولوں کو دریافت کر کے ہوا میں جہاز اڑائے۔ پانی پر بھاری کشتیاں چلائیں۔ ہوا کی لہروں سے کام لیکر ریڈیو ایجاد کیا، اور کیا نہیں کیا؟ یہ سب سائنس کے کرشمے تھے جس سے ساری انسانیت مستفید ہوتی ہے۔ اور ان سب ایجادات سے شان کریمی کے لیے ہمارے دل میں وقعت بڑھتی ہے، نہ کہ اس میں کمی ہوتی ہے۔دنیا کی سب ایجادات اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت ہوتی ہیں۔ انسان صرف سوچ بچار سے ان قوانین سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اور سائینٹفک انداز فکر انسان کو وہاں پہنچاتا ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں سائینس کے مضامیں ضرور پڑھائے جاتے ہیں لیکن طلباء کو سائنسی انداز فکر نہیں سکھایا جاتا، جو سائنس کی اصل ہے۔
کچھ روزقبل سوشل میڈیا پر پروفیسر پرویز ہود بھائی کا انٹرویو دیکھا جس میں پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب اسلام اور سائنس کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر ضیاالحق نے پاکستانی ایٹامک انرجی کمیشن کے سائینسدانوں سے کہا کہ معلوم کرو کہ جنوں کو کیسے قابو پا کر توانائی حاصل کی جا سکتی ہے؟یوں پاکستان کا بجلی کا بحران حل ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اس قسم کے اور واقعات دیکھے اور غور کیا کہ پوری اسلامی دنیا میں کچھ اسی قسم کے خیالات ہیں تو مجھے یہ کتاب لکھنے کا خیال آیا۔سچ تو یہ ہے کہ اسلام کے نزول کے ڈیڑھ سو سال تک تو کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد مسلمان مفکرین نے سائنس کے میدان میں اعلیٰ دریافتیں کیں۔لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلا۔ کیونکہ جب منگولوں نے بغداد پر یلغار کی تو انہوں نے علم کے سارے خزانے دریا برد کر دیئے۔اس کے بعد مسلمان تہذیب ابھر نہیں سکی۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ مسلمان لہو و لعب میں لگ گئے۔امام غزالی کو جب پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ علت اور معلول یعنی cause and effect معلوم کرنے کے خلاف تھے۔ ابن رشد نے کہا کہ جب انسان کچھ کرتا ہے تو اس کانتیجہ تب پیدا ہوتا ہے جب فرشتہ آکر عمل مکمل کرتا ہے۔ ہمارے لوگ کہتے ہیں کہ اگر مادی اسباب پر غور کریں گے تو ان کا ایمان کمزور ہو جائے گا۔ مثلاً مولانا مودودی کا کہنا تھا کہ جب کیمسٹری پڑھائیں تو ہائیڈروجن اور آکسیجن کو جب ملائیں گے تو پانی بنتا ہے۔آپ انہیں یہ بتائیں کہ جب ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملائیں تو اللہ کے حکم سے پانی بن جاتا ہے۔اسی طرح ٹڈی دل اور کورونا جیسی مصیبتیں اللہ کا عذاب ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب میں تین اہم افکار کا ذکر کیا جن کا تعلق سائنسی تعلیم سے ہے: reconstructionist جو کہتے ہیں کہ ہم عقیدے کو نہ بدلیں نہ اس کی نئی تاویل نکالیں،بلکہ ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہیے۔دوسری سوچ یہ ہے کہ جدید دور میں نئی روشنی ملی ہے، اس نئی روشنی میں ہمیں قران مجید کو نئے سرے سے دیکھنا ہو گا۔سر سید اس میں نمایاں کردار اد اکر چکے ہیں۔تیسرے افکار کو Pragmatism کا نام دیا گیا ۔دنیا میں جو ایجادات ہوتی ہیں وہ مسائل کے حل کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ جس میں سائنس مدد کرتی ہے۔چار سو سال پہلے جو فکری انقلاب آیا تب ہی انسانی ترقی شروع ہوئی۔اب دنیا یہ جان چکی ہے کہ بچوں کو ایسی تعلیم دیں جس سے اس کی ذہنی نشو ونما ہو، اور اس کی صلاحیتیں ابھریں۔ آپ انہیں رٹوائیں نہیں۔ نظریہ ارتقا کو پاکستان میںنہیں پڑھایا جا سکتا لیکن ایران میں پڑھایا جاتا ہے۔ امام خمینی کہا تھا کہ ریاضی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، نہ وہ عیسائی ہے نہ یہودی۔ اس لیے اسے پڑھایا جائے۔
سائنس پر مناسب توجہ نہ دینے کا نقصان مسلم امہ کو ہوا کہ امہ دنیا سے پیچھے رہ گئی۔گزشتہ چار سو سال میں جہاں مغرب نے سائنس اور انجینئرنگ میں حیرت انگیز ایجادات کیں، وہاں مسلمانوں کی طرف سے ایسی کوئی قابل ذکر ایجاد نہیں ہوئی جس سے دنیا والوں کو فائدہ ہوتا۔غالباً اس کی یہی وجہ ہو گی کہ مسلمانوں نے سائنس کی روح کو نہیں سمجھا اور اس کو اللہ کے خلاف عمل سمجھا جو صریحاً غلط ہے۔
راقم نے حکومت کو جو مشورے دیئے ان میں غیر رسمی تعلیم اور خواندگی پر بھی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں نہ صرف کڑوڑوں عوام بالکل نا خواندہ ہیں، بلکہ ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تعدادبھی خاصی ہے جنہوں نے بنیادی تعلیم بھی مکمل نہیں کی، ان میں لڑکیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ پنجاب کی حکومت نے پڑھا لکھا پنجاب کی مہم چلائی تھی، اس کو بحال کیا جائے ، اگر ایک ششماہی خواندگی کا پروگرام شروع کر دیا جائے تو اس لوگ نہ صرف لکھنا پڑھنا سیکھ لیں گے ، ان کو شہریت ، صحت عامہ اور دوسری ضروری معلومات بھی مل سکتی ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ جب لوگ حکومت کے پروگراموں کو سمجھیں گے تو بہتر طور پر عمل کر سکیں گے۔
سکول کی تعلیم کو صرف اس حد تک سب کے لیے لازم کیا جائے جس سے ہر طالب علم کو بنیادی مضامین میں دسترس حاصل ہو ۔ لیکن اس نصاب میں اتنی گنجائش بھی رکھی جائے کہ مقامی او رعلاقائی ثقافت، ماحول، اور معاشرت کے شاندار پہلو بھی سمیٹ لیے جائیں۔ یہ پاکستان کے معاشرے میں تنوع پیدا کرے گا اور پاکستان مختلف قومیتوں کے حسین افکار اورورثہ سے فیض یاب بھی ہوگا۔
یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ معلم حضرات پر توجہ دی جائے۔ تعلیم سے متعلق یہ مقولہ بہت اہم ہے: ایک معمولی استادصرف بتاتا ہے۔ ایک اچھا استاد جو بتاتا ہے اس کی تشریح بھی کرتا ہے۔ ایک اعلیٰ استاد وہ ہے جو پڑھاتا ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ اور جو عظیم استاد ہوتا ہے وہ طالب علم کو (inspire) متاثرکرتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام جو بھی بنے گا، اس کا صحیح نفاذ تب ہی ہو گا جب اساتذہ اس کو سمجھیں گے اور صحیح طریقے سے پڑھائیں گے۔