عدلیہ بچائو تحریک!!

199

پاکستان میں موجودہ ججوں کی تقرری پر عدلیہ تقسیم ہو چکی ہے جس کے لئے بار اور بنچ دونوں آپس میں آمنے سامنے آچکے ہیں کہ جس میں سپریم کورٹ میں مسلسل سینئر ججوں کی بجائے جونیئر ججوں کو نامزد کیا جارہا ہے جس سے عدلیہ میں بے حد بے چینی پھیل چکی ہے جس کا ردعمل سندھ ہائی کورٹ کے ایک جونیئر جج محمد علی مظہر کی تقرری پر وکلاء کنونشن منعقدہ ہوا جس میں ملک بھر کی وکلاء باروں نے شرکت کی ہے اب دوبارہ وکلاء کنونشن 9ستمبر کو منعقد کیا جارہا ہے جس میں جونیئر ججوں کی تقرری پر احتجاجی تحریک کا اعلان ہونے جارہا ہے جو اب عدلیہ بچائو تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے لئے تحریر شدہ ہے کہ چاروں صوبوں کے ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان میں جو بھی سینئر ہو گا وہ سپریم کورٹ میں پرموٹ ہو سکتا ہے جس کے برعکس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ مرحوم کی جگہ لاہور ہائیکورٹ کے جونیئر جج مظاہر علی نقوی کو نامزد کیا گیا تھا۔ اب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی جگہ ان کے پانچویں درجے نچلے جج کو سپریم کورٹ میں نامزد کیا گیا ہے جس کے بعد اب لاہور ہائی کورٹ کی جونیئر جج عائشہ ملک کو بھی سپریم کورٹ لایا جارہا ہے جس سے عدلیہ کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جس کے خلاف پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار اور ملک بھر کی بار کونسلیں اور بار ایسوسی ایشنز سراپا احتجاج پر نکل رہی ہیں کہ ججوں کی تعیناتی کو متنازعہ نہ بنایا جائے جس سے عدلیہ میں شدید بے چینی پھیل چکی ہے تاہم عدلیہ میں جونیئر ججوں کی نامزدگی کا سلسلہ 1954ء سے شروع ہوا ہے کہ جب فیڈرل کورٹ کے سینئر جج اے ایس اکرم کی جگہ جسٹس منیر احمد کو چیف جسٹس نامزد کیا گیا جس نے اپنی اقرباء پروری کا صلہ گورنر جنرل غلام کو دیا کہ جب انہوں نے قانون ساز اسمبلی کو برطرف کیا جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ نے سپیکر مولوی تمیز الدین کیس میں اسمبلی بحال کر دی تو فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس منیر احمد نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کر دیا تھا جس کے بعد ملک میں آئین اور قانون شکنی کا راج نافذ ہو گیا جو اب تک جاری ہے بعدازاں بھٹو مرحوم نے جسٹس مولوی مشتاق کی جگہ جسٹس اسلم ریاض کو پنجاب ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نامزد کیا تو مولوی مشتاق نے آگے جا کر انتقام لیتے ہوئے بھٹو مرحوم کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہی حال آگے رہا ہے جس سے عدلیہ مکمل طور پر یرغمال بن کر رہ گئی جس کے چرچے دنیا بھر میں ہورہے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ نااہل اور ناقابل ہے جس کا ذکر امریکہ کے ایوانوں میں ہورہا ہے۔ بہرکیف پاکستان میں صرف اور صرف وکلاء برادری متحرک نظر آرہی ہے جو کبھی سیاسی پارٹیوں کے لئے آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد کرتی نظر آئی ہے، کبھی صحافیوں کے ساتھ زیادتیوں، قتل و غارت گری، اغوا اور لاپتہ پر احتجاج کرتی ہے۔ صحافیوںپر حملوں اور ہراسگی پر قانونی مدد کرتی ہے۔ کبھی ججوں کی نامزدگیوں پر بے قاعدگیوں کے خلاف اپنا ردعمل کااظہار کررہی ہے جو سمجھتی ہے کہ ان پر عوام کا بھروسہ اور اعتماد ہے جنہوں نے 9مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار چودھری کوسٹیل ملز کی اونے پونے بکری پر فیصلے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تو وکلاء برادری نے شدید احتجاج کیا جس کی بدولت چیف جسٹس افتخار چودھری سپریم کورٹ کے حکم پر باعزت بحال ہوئے جو اس وقت کے جنرلوں کو ناگوار گزرا جو اپنے آپ کو پاکستان کاحقیقی مالک تصور کرتے ہیں پھر جب سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے دو عہدوں کے خلاف فیصلہ دیا کہ وہ ایک ہی وقت میں دو سرکاری عہدے صدر اور آرمی چیف نہیں رکھ سکتے ہیں تو جنرل مشرف ٹولہ نے پوری عدلیہ برطرف کر کے ملکی آئین معطل کر دیا جس کے خلاف وکلاء تحریک نے جنم لیا جس کی آواز اندرون اور بیرون ملک سنائی گئی کہ دنیا بھر کی بڑی بڑی وکلاء باروں نے پاکستانی وکلاء برادری کی حمایت کرتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں سڑکوں پر احتجاج کیا جس میں امریکن بار انٹرنیشنل بار ،نیویارک بار، لندن بار، بھارتی بار اور بڑی بڑی باریں سرفہرست ہیں جس کے بعد وکلاء تحریک کی مسلسل جدوجہد کی بدولت پاکستانی عدلیہ 16مارچ 2009ء کو باعزت اور غیر مشروط بحال ہوئی تھی جس کی خاطر وکلاء برادری نے بے تحاشا جانی و مالی قربانیاں دی تھیں جس میں بارہ مئی اور نو اپریل جیسے سانحات پیش آئے جس میں وکلاء کو گولیوں اور تیزابوں سے بھون دیا گیا تھا آج پھر وہی حالات اور مسائل درپیش ہیں جس کے خلاف وہی پاکستان وکلاء برادری سامنے آئی ہے جس نے ماضی میں جنرل مشرف ٹولے کو چیلنج کیا تھا کہ آج وہ مکا دکھانے والا جنرل ملک بدر اور دوبئی کے خلیفوں کے دروازوں کی دہلیزوں پر پناہ کی بھیک مانگ رہا ہے۔ آج پھر موجودہ حکمران ٹولہ جو جنرلوں کی بدروحیں ہیں جس کا سب سے بڑا سرغنہ عمران خان اور ان کا وزیر قانون فروغ نسیم ہیں جن کا ماضی سیاہ ہے جنہوں نے ہمیشہ جنرلوں کی حمایت کی ہے جس میں فروغ نسیم نے را کے مجرموں کی وکالت کی ہے وہ آج پاکستانی ایجنسیوں کے وکیل بنے ہوئے ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے من پسند ججوں کی تقرری اور نامزدگی کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے تاکہ مستقبل کا پاکستان کا قابل ترین ایماندار اور دیانتدار چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اردگرد اپنے بغل بچے ججوں سے گھیرائو کیا جائے تاکہ پاکستان میں عدلیہ آزاد اور خودمختار کا قیام نہ لایا جائے جس کی بڑی توقعات جسٹس قاضی سے ہیں جنہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک ثابت کر دیا کہ وہ ایک واقعی نڈر اور بے خوف انصاف دینے والا جج ہیں جن کو روکنے اور بھگانے کے لئے پاکستان کے تمام احساس ادارے پیش پیش ہیں جو آئے دن جسٹس قاضی کو اپنی غلیظ سازشوں سے تنگ کررہے ہیں جبکہ ان کی اپنی عدلیہ کے قائم مقام چیف جسٹس نے عمر بندیال نے صحافیوں کے سلسلے میں درخواست لینے پر عدالتی بنچ سے الگ کر دیا ہے جس سے جسٹس قاضی کو اپنی عدالت میں ہی رسوا کیاجارہا ہے۔
علاوہ ازیں عدلیہ کے دو ججوں جسٹس قاضی عیسیٰ اور قاضی مندوخیل بنچ کو معطل کر دیا ہے کہ وہ صحافیوں کی درخواستوں کی سماعت نہ کر پائیں جوعدلیہ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہوا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ہے حالانکہ دو ججوں کے فیصلے پر اپیل ہو سکتی تھی مگر بنچ کی توڑ پھوڑ سے پتہ چلتا ہے کہ عدلیہ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے کہ جس میں من پسند ججوں کو مقدمات میں عائد کیا جارہا ہے جس میں جسٹس قاضی عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس آفریدی، جسٹس مندوخیل کو مسلسل حکومت کے خلاف مقدمات سے دور رکھا جارہا ہے جو عدالتی روایات اور قانون کی خلاف ورزی ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ عدلیہ پھر نوے کی دہائی والے حالات سے گزررہی ہے جب عدلیہ تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف فیصلہ دے رہی تھی۔ قصہ مختصر آج پاکستان کی عدلیہ کو بچانا لازم و ملزوم ہو چکا ہے جو پاکستان کاآئینی ادارہ ہے جس کے بغیر ملک کا وجود نامکمل ہے جس کو موجودہ حکمران ٹولہ پارلیمنٹ کی طرح بے اختیار کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں لاقانونیت کا دور دورہ جاری رہے جس کی آڑ میں ریاست کے اوپر ریاست کے حکمران عوامی ریاست پر قابض رہیں شاید وقت آپہنچا ہے کہ اب عدلیہ کو آزاد اور خودمختار کرنا ہو گا۔