اک ترے آنے سے پہلے،اک ترے جانے کے بعد، افغانستان میں امریکہ کے آنیاں جانیاں سے دنیا کو سبق سیکھنا چاہیے!

188

آخر کار دنیا نے اس ہفتے تیس اگست کو وہ منظر دیکھ لیا کہ اپنے تمام تر فرعونی دعوئوں کے باوجود دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو اندھیرے میں وقت سے پہلے اس سرزمین کو چھوڑنا پڑا جہاں بیس سال پیشتر بڑی رعونت اور طمطراق کے ساتھ صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ساری دنیا کے میڈیا ہائوس اور ٹی وی چینل صدر بش، صدر اوباما،صدر ٹرمپ اور صدر بائیڈن کے متضاد دعوے اور بیانات نشر کررہے ہیں جو اگر محسوس کیا جائے تو نہایت خفت آمیز ہیں اور اگر جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو ڈھٹائی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکہ کی افغانستان میں پسپائی کے حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ بیس سال میں امریکہ نے اس جنگ میں تیس کروڑ ڈالر روزانہ خرچ کیے جبکہ چوبیس سو امریکی فوجیوں نے جانوں کی قربانیاں پیش کیں اور تئیس ہزار سے زائد فوجی زخمی یا معذور ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں اپنی بیس سالہ موجودگی کا خاتمہ تیس اگست کو کردیا ہے۔ ہم اس بات کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں کہ کیا وہ اس بات پر فخر محسوس کررہے ہیں یا شرمندہ ہیں یا مذاق کررہے ہیں یعنی بیس سال پہلے بھی آپ ہی افغانستان پر فوج کشی کرنے گئے تھے اور بیس سال بعد بھی آپ ہی وہاںسے رسوا ہو کر واپس گھر آئے ہیں تو کس کو کس بات کا کریڈٹ دے رہے ہیں؟ یہ ہی وہ غیر واضح مشن ہے جس پر پوری قوم سکتے میں ہے کہ وہ چوبیس سوامریکی فوجی جوان جو اس کنفیوژن کا شکار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے، ان کے اہل خانہ اور پیارے کی اس بات کو پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ یہ جانیں کس مقصد کیلئے قربان ہوئیں؟ زندہ بچ جانے والے زخمی اور معذور چوبیس ہزار امریکی فوجی آخر کس طرح سے خود کو ذہنی طور پر اس بات کے لئے راضی کریں کہ ان کی قربانیاں بے مقصد اور اس پسپائی کا دن دیکھنے کے لئے تھیں۔ ایک اور طبقہ وہ بھی ہے ان امریکی فوجیوں کا جنہوں نے گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان سے واپسی پر ذہنی دبائو کی بیماری پی ٹی ایس ٹی سے متاثر ہو کر خودکشیاں کر کے اپنی جانیں لے لیں۔ امریکی ٹی وی این بی سی پر ہم براہ راست کوریج دیکھ رہے تھے کہ مسٹر اینڈ مسز بائیڈن ایک ایئرپورٹ پر انخلاء کے آخری دنوں میں داعش کے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے تیرہ امریکی فوجیوں کی لاشیں وصول کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جمع تھے۔ اینکر خاتون قریباً قریباً روہانسی ہورہی تھی کہ افغانستان میں اس خونریز حادثے میں شکار ہونے والے سارے فوجی تیس سال سے کم عمر تھے بس ایک کی عمر پینتیس سال تھی اور ہونا بھی یہ چاہیے تھا کہ انہیں پورے فوجی اعزاز کیساتھ آخری سفر پر روانہ کیا جائے۔ اب آتے ہیں اس افغان ٹی وی چینل ’’طلوع نیوز‘‘ کی طرف جہاں پر سکرین پر ان ہلاک شدگان کی تصاویر دکھائی جارہی تھیں جو اس جوابی امریکی راکٹ حملے میں مارے گئے جوامریکہ نے کابل ایئرپورٹ پر ایک سو بلین آبادی میں داعش کا خودکش بمبار سمجھ کر کیا تھا۔ اس حملے میں دس بے گناہ شہری مارے گئے جن میں پانچ معصوم بچے بھی شامل تھے اور اتفاق دیکھے کہ یہ سارے افراد ایک افغان مترجم کے خاندان کے تھے جو سالوں سے امریکیوں کیلئے کام کرتا تھا۔ طلوع نیوز دکھارہا تھا کہ کیسے متاثرہ خاندان کی خواتین سینہ کوبی کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر منہ بھر بھر کے امریکیوں کو بددعائیں دے رہی تھیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تیرہ امریکی جانیں ان دس افغانی جانوں سے زیادہ قیمتی تھیں؟ کیا افغان انسانوں کا خون امریکی انسانوں سے پتلا ہوتا ہے؟ تو پھر یہ امتیاز کیا؟ امریکی غلطی کا نشانہ بننے والوں کیلئے تقریب تو دور کی بات ایک لفظ ہمدردی کا بھی میڈیا میں نہ نظر آیا۔ اس بیس سالہ خون آلود اور غیر قانونی جنگ میں جہاں بہت سے دیگرپہلو سامنے آئے وہیں امریکی کے انسانی ہمدردی کے ان جعلی دعوؤں کی قلعی بھی اتر گئی جب دنیا نے دیکھا کہ امریکی فوجی اپنے پالتو کتوں کو بہت حفاظت اور ناز و نعم کے ساتھ اپنے طیاروں میں بٹھا کر لے جارہے تھے جبکہ ان کے مددگار افغانی انسان ان اڑتے ہوئے جہازوں سے لٹکے ہزاروں فٹ نیچے گر گر کر ہلاک ہورہے تھے۔ یقینا امریکی عوام تو اتنے غیر انسانی رویوں کے ہر گز ہرگز حامل نہیں ہیں لیکن ایک جہان کیا آنکھیں امریکی انتظامیہ کے ظالمانہ طریقوں سے کھل گئیں۔